جموں و کشمیر
طویل گرمائی صورتحال کے بعد جموں وکشمیر میں 2مراحل والابارشوں کا سلسلہ شروع
21جولائی تک ہلکی ،تیز اور موسلا دار بارشوں کی پیش گوئی
سری نگرسمیت کئی علاقوںمیں ایک گھنٹے کی بارشوںنے نکاسی آب نظام کی پول کھول دی
تازہ موسم کاری کے پیش نظر کئی اضلاع کی انتظامیہ نے کی لوگوں کیلئے ایڈوائزری جاری
سرینگر :جے کے این ایس : موسمیاتی ماہرین کی پیش گوئی کے عین مطابق پیرکو بعددوپہر سری نگر سمیت کشمیرکے بیشتر علاقوں میں ہلکی وتیز بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جبکہ کچھ علاقوں سے تیز ہوائیںچلنے کی بھی اطلاع ملی ہے ۔یاد رہے موسمیاتی ماہرین اورموسمیاتی مرکز سری نگرنے بارشوںکاتازہ سلسلہ17جولائی تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے ،اوراسی پیش گوئی یا تازہ موسم کاری کے پیش نظر کئی اضلاع کی انتظامیہ نے ایڈوائزری بھی جاری کردی ہے ۔اس دوران شام 5بجے شروع ہونے والی تیز بارشوں نے پھر ایک مرتبہ سیول لائنز سمیت سری نگرکے کئی علاقوںمیں نکاسی آب نظام کی پول کھول کر رکھ دی ،کیونکہ سڑکوں ،چوراہوں ،گلی کوچوں ،نکڑوں اور بازاروںمیں بارشوںکا پانی جمع ہوگیا۔جے کے این ایس کے مطابق پیرکی صبح سے آسمان پر بادل چھائے رہنے کے بیچ سہ پہرکے وقت سری نگر سمیت شمال وجنوب علاقوں میں بارشوں کاسلسلہ شروع ہوگیا،پہلے ہلکی بارشوںسے شروعات ہوئی لیکن بعدازاں بارشوںنے ایسا زور پکڑ لیا کہ سری نگرسمیت تمام علاقوںمیں بازار خالی ہوگئے اور سڑکوں پر راہگیروںکی تعداد کافی کم ہوگئی ۔اس دوران بارشوں کا پانی جگہ جگہ جمع ہونے سے لوگوںکو عبور ومرور میں سخت دشواریوںکاسامنا کرنا پڑا ۔لولچوک اور سیول لائنز کے دوسرے بازاروں کے ساتھ ساتھ شہر خاص کے کئی علاقوں بشمول کرن نگرمیں بھی بارشوں کا پانی سڑکوں سے بہنے لگا ،جس وجہ سے لوگ مشکلات کا سامنا کرتے رہے ۔
ابھی تک یعنی شام ساڑھے 6بجے تک سری نگرسمیت کئی علاقوںمیں ہلکی اورتیز بارشوں کا سلسلہ جاری تھا ۔اُدھر موسمیاتی مرکز سری نگر نے پیرکی صبح جاری اپنی تازہ موسم کاری میں بتایاکہ 14سے17جولائی تک عام طور پرمطلع ابر آلود رہنے کےساتھ وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانی بارش،گرج چمک کےساتھ کئی مقامات پر تیز بارش اورچند مقامات پر موسلادھار بارش جاری رہنے کی توقع ہے۔جبکہ18سے21جولائی تک بارشوں کا ایک نیاسلسلہ جاری رہنے کاامکان ہے ،جس دوران بکھرے ہوئے مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہوگی۔موسمیاتی مرکز نے کہاکہ 14سے17جولائی کے دوران جموں ڈویژن کے الگ تھلگ مقامات پر بھاری بارش کے امکان کے ساتھ جموں وکشمیر کے چند مقامات پر تیز بارش کا امکان ہے۔ جس کے نتیجے میںکئی علاقوںمیں لینڈ سلائیڈنگ،مڈ سلائیڈنگ اور شوٹنگ سٹون کے ساتھ چند خطرناک مقامات پر شدید سیلاب کاخطرہ لاحق رہے گا۔
دریں اثناءبارہمولہ انتظامیہ نے تیز بارش، تیز ہواو ¿ں کی پیش گوئی کے درمیان ایڈوائزری جاری کی۔نشیبی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو چوکس رہنے اور خطرناک علاقوں سے بچنے کی تاکید کی گئی۔محکمہ موسمیات کی جانب سے شدید بارش، تیز ہواو ¿ں، اور ممکنہ گرج چمک یا بادل پھٹنے کی پیش گوئی کے پیش نظر، بارہمولہ ضلع انتظامیہ نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے رہائشیوں، خاص طور پر سیلاب زدہ اور نشیبی علاقوں میں رہنے والوں سے محتاط رہنے اور حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بارہمولہ کی طرف سے جاری کردہ ایک ایڈوائزری میںکہاکہ، محکمہ موسمیات، جموں و کشمیر کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی گئی موسم کی پیشن گوئی کے پیش نظر تیز بارش، تیز ہواو ¿ں کے ساتھ اور گرج چمک کے طوفان،بادل پھٹنے کے واقعات سمیت وادی کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے مختلف علاقوں میں کااندیشہ لاحق ہے۔تمام رہائشیوں، خاص طور پر نالہ کے قریب رہنے والے، نشیبی، پہاڑی اور سیلاب زدہ علاقوں میں رہنے والوں کو ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ درج ذیل حفاظتی اقدامات کی سفارش کی جاتی ہے، لوگوں کو نالہ، سیلاب زدہ علاقوں کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ لوگوں کو ہنگامی سامان کو ہاتھ میں رکھنا چاہیے اور موسم کی مقامی تازہ کاریوں سے باخبر رہنا چاہیے۔ایڈوائزری میں لکھا ہے کہ لوگوں کو چوکنا رہنا چاہیے اور حفاظت کو سب سے زیادہ ترجیح دینا چاہیے۔
لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سیلاب کا خطرہ ہے اور اگر سفر کرنا ضروری ہے، تو انہیں یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے پاس بارش کا مناسب سامان ہے اور احتیاط سے گاڑی چلانی چاہیے۔سیلاب زدہ علاقوں میں رہنے والے لوگ، جو کہ پانی بھرنے کے لیے جانا جاتا ہے، مقامی حکام سے مشورہ کر کے محفوظ مقام کی تلاش کر سکتے ہیں۔ عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ لینڈ سلائیڈ کے شکار علاقوں یا تیز بہنے والی ندیوں کے قریب نہ جائیں۔کسی بھی ہنگامی صورت حال میں، برائے مہربانی کنٹرول روم سے فون نمبر 01952-134343 پر رابطہ کریں،۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
