تازہ ترین
عارضی ملازموں کی مستقلی وزیر اعظم نریندر مودی کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے/سید محمد الطاف بخاری
سری نگر،(یو این آئی): جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے عارضی ملازموں کی نوکریاں 60 دنوں کے اندر اندر مستقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ملازموں کے مسائل کا حل وزیر اعظم نریندر مودی جو رواں ماہ کی 24 تاریخ کو جموں وکشمیر کا دورہ کر رہے ہیں، کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان ملازموں کی نوکریاں مخصوص وقت کے اندر اندر مستقل نہیں کی گئیں تو اپنی پارٹی ان کے ساتھ سڑکوں پر آئے گی۔موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’مختلف سرکاری محکموں میں ایک لاکھ کے قریب عارضی ملازمین کام کر کرہے ہیں ان کو گذشتہ بارہ برسوں سے نوکریاں مستقل کرنے کے وعدے کئے جا رہے ہیں لیکن آج تک کچھ بھی نہیں ہوا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ بجلی، پی ایچ ای، صحت وغیرہ جیسے محکموں میں ان ہی ملازموں کی وجہ سے کام چلتا ہے لیکن سرکار کے پاس ان کو دینے کے لئے تنخواہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو مستقل کیا جا رہا ہے۔مسٹر بخاری نے گذشتہ روز پٹن علاقے میں محکمہ بجلی کے عارضی ملازم کا بجلی کا کرنٹ لگنے سے لقمہ اجل بن جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ’کل ایک لائن مین کی لاش بجلی کے کھمبے سے لٹکی تھی میں سرکار سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے بچوں کا اب کون سہارا بنے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی سرکار وہ واحد سرکار ہے جو منیمم ویجز ایکٹ کو لاگو نہیں کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی تاجر اس ایکٹ کو لاگو نہیں کرتا ہے تو اس کے خلاف عدالت میں کیس درج کیا جاتا ہے لیکن سرکار خود یہ ایکٹ لاگو نہیں کر رہی ہے۔موصوف صدر نے کہا کہ آشا ورکرس جب اپنے مطالبات کے لئے احتجاج درج کرتی ہیں تو انہیں پیٹا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’عارضی ملازموں کا یہ مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے چونکہ وزیر اعظم نریندر مودی 24 تاریخ کو یہاں آر ہے ہیں لہذا اس مسئلے کا حل ان کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے‘۔مسٹر بخاری کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کا مطالبہ ہے کہ ان عارضی ملازموں کی نوکریاں 30 سے60 دنوں کے اندر اندر مستقل ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اپنی پارٹی ان ملازموں کے ساتھ سڑکوں پر آئے گی۔
دنیا
فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، تقریباً 400 اسکول بند، پولیس سے جھڑپیں
پیرس، فرانس میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور اسکولوں کی خراب حالت کے خلاف ہائی اسکول طلبہ کا ملک گیر احتجاج جمعہ کو مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس دوران تقریباً 400 اسکول بند رہے اور کئی شہروں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 3,000 لائسِی طلبہ کو پولیس حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق صرف جمعرات کو 1,949 طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے پیرس کے علاقے سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب ملک بھر میں پھیل گیا ہے اور اس میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فرانس 24 کے مطابق وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری نے کہا کہ فرانس کے 3,700 ہائی اسکولوں میں سے تقریباً 400 جمعہ کو بند رہنے کی توقع ہے، جبکہ تقریباً 100 اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پیرس میں دو ہائی اسکولوں کے داخلی راستوں کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا، جبکہ بریسٹ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اسٹراسبرگ، مارسی، نانٹ اور دیگر شہروں میں بھی پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
وزیر انصاف ژیرالڈ دارماناں نے پراسیکیوٹرز پر زور دیا ہے کہ مبینہ طور پر طلبہ کی جانب سے کیے گئے نقصانات کے سلسلے میں ان کے والدین کے خلاف دیوانی ذمہ داری کے دعوے دائر کیے جائیں۔
وزیر تعلیم گفری نے بتایا کہ کم از کم 65 ملازمین، جن میں 40 ہائی اسکولوں کے پرنسپل بھی شامل ہیں، زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 170 طلبہ بھی زخمی ہوئے۔ انہوں نے تشدد کو ’’انتہائی پرتشدد عناصر‘‘ کی جانب سے طلبہ تحریک پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
طلبہ نے اسکولوں میں طویل اوقاتِ کار، گنجائش سے زیادہ کلاسیں، اساتذہ کی کمی، عملے کی غیر حاضری اور ناکافی سہولیات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان میں ہیٹ ویو کے دوران کلاس رومز کا حد سے زیادہ گرم ہو جانا بھی شامل ہے۔
طلبہ نے اسکولوں کی بندش کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے اور پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل احتجاج نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ حکومت نے بائیں بازو کی جماعت ’’فرانس اَن بووڈ‘‘ (ایل ایف آئی) پر طلبہ تحریک کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایل ایف آئی کے رہنما مینوئل بومپار نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’’سازشی نظریات کی طرف جا رہی ہے‘‘۔
وزیر تعلیم گفری جمعہ کو تعلیمی شعبے کی یونینوں اور ہائی اسکول طلبہ کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ بات چیت کا آغاز کیا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کمر توڑ مہنگائی سے عوام کو کب نجات دلائے گی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ مہنگائی صرف بازار کے اعداد و شمار میں نہیں بڑھ رہی ہے بلکہ اس کا اثر ہر متوسط طبقے اور غریب خاندان کے باورچی خانے میں محسوس کیا جا رہا ہے اور حالات یہ ہو گئے ہیں کہ تہواروں کے موسم میں باورچی خانے کا بجٹ تین مہینوں میں 25 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
کانگریس کے ے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ ایک خبر میں ایک گھریلو خاتون نے بتایا ہے کہ ان کی آمدنی صرف 35,000 روپے ہے اور اتنی محدود آمدنی میں باورچی خانے کا خرچ سنبھالنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیرِ اعظم نریندر مودی کو احساس ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں خاندان اپنے گھر کا بجٹ کیسے سنبھال رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ارہر کی دال 105 روپے سے بڑھ کر 140-150 روپے فی کلو، مونگ 95 روپے سے 120 روپے، چاول 42-45 روپے سے 53-55 روپے اور سرسوں کا تیل 165 روپے سے 190 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں غذائی مہنگائی 5.95 فیصد رہی۔ پیاز 48.27 فیصد، ادرک 73.82 فیصد اور لہسن 43.60 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ دال، مصالحے، سبزیاں اور تیل سمیت ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے سے عام خاندان متاثر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھریلو بچت میں کمی آ رہی ہے اور خاندانوں پر قرض بڑھ رہا ہے۔ عام خاندان کے سامنے سوال صرف بڑھتے ہوئے اخراجات کا نہیں، بلکہ گھٹتی ہوئی بچت اور محدود آمدنی میں گھر چلانے کا بھی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت کے لیے یہ محض اعداد و شمار ہو سکتے ہیں، لیکن عوام کے لیے یہ ہر ماہ بگڑتا ہوا گھریلو بجٹ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس کمر توڑ مہنگائی سے اہل وطن کو کب نجات ملے گی۔
یواین آئی۔الف الف
کھیل
رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان
کراچی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم رضوان سے متعلق جاری معاملے پر بات کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونس خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے اور اس معاملے میں محتاط انداز میں گفتگو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ہم کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کیس سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔”
یونس خان نے کہا کہ محمد رضوان سے متعلق معاملہ ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آیا ہے، اس لیے کیس کا نتیجہ سامنے آنے تک اس پر گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے معاملات تقریباً چار ماہ تک جاری رہے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
جموں و کشمیر7 days agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
