ہندوستان
شیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
نئی دہلی، گھریلو شیئر بازاروں میں بدھ کو مسلسل تیسرے دن گراوٹ دیکھی گئی اور بی ایس ای کا سینسیکس تقریباً پورے دن سبز نشان میں رہنے کے بعد آخر میں 49 پوائنٹس نیچے بند ہوا سینسیکس 88 پوائنٹس گر کر 72,441.15 پوائنٹس پر کھلا، لیکن کچھ ہی دیر میں سبز نشان میں پہنچ گیا۔ تاہم آخری گھنٹے میں ہوئی فروخت سے یہ 48.78 پوائنٹس (0.07 فیصد) کے نقصان کے ساتھ 72,480.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے نفٹی-50 انڈیکس میں سینسیکس کے مقابلے میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ 95.75 پوائنٹس یعنی 0.42 فیصد نیچے 22,620.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ دونوں انڈیکس کا اس سال 30 مارچ کے بعد کی نچلی سطح ہے۔
وسیع تر بازار میں ملا جلا رخ رہا۔ نفٹی مڈ کیپ-50 انڈیکس 0.01 فیصد پھسل گیا۔ اسمال کیپ-100 انڈیکس 0.27 فیصد کی برتری میں رہا۔ سیکٹر پر مبنی انڈیکسوں میں نفٹی ہیلتھ 2.57 فیصد، نفٹی فارما 1.84 فیصد اور نفٹی میٹل 1.50 فیصد ٹوٹ گیا۔ پائیدار صارف مصنوعات کے گروپ میں 1.35 فیصد اور ایف ایم سی جی میں 0.63 فیصد کی گراوٹ رہی۔
میڈیا گروپ کا انڈیکس 2.74 فیصد، ریئلٹی گروپ کا 1.62 فیصد اور کیمیکل گروپ کا 1.19 فیصد چڑھا۔ بینکنگ، آئی ٹی اور آئل اینڈ گیس گروپ بھی سبز نشان میں رہے۔
سینسیکس میں ایٹرنل کا شیئر سب سے زیادہ سوا دو فیصد ٹوٹا۔ سن فارما اور ٹائٹن میں دو فیصد سے زیادہ کی گراوٹ رہی۔ اڈانی پورٹس، ٹاٹا اسٹیل، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فائنینس، انفوسس اور بھارتی ایئرٹیل کے شیئرز ایک سے دو فیصد تک پھسل گئے۔ ٹرینٹ، بجاج فن سروس، این ٹی پی سی، آئی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا بھی نقصان میں رہے۔
کوٹک مہندرا بینک کا شیئر پونے تین فیصد اوپر رہا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک اور انڈیگو میں بھی دو فیصد سے زیادہ کی تیزی رہی۔ ایکسس بینک اور الٹرا ٹیک سیمنٹ کے شیئرز ایک سے ڈیڑھ فیصد کی برتری میں رہے۔ ٹیک مہندرا، ہندوستان یونیلیور، بی ای ایل، ٹی سی ایس، ماروتی سوزوکی، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز بھی سبز نشان میں رہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
قابلِ تجدید توانائی کے لیے بنے گا خصوصی گرڈ، 1.86 لاکھ کروڑ کی پی ایم دھارا اسکیم منظور
نئی دہلی، حکومت نے شمسی اورہواسے پیداہونےوالی توانائی (ونڈ انرجی) کے منصوبوں کی بجلی کے نکاس اور ٹرانسمیشن لائنوں میں وولٹیج کے اتار چڑھاؤ کے مسئلے کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے خصوصی گرڈ بنانے کی 1,86,405 کروڑ روپے کی پی ایم دھارا اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں یہاں بدھ کے روز ہوئی میٹنگ میں اس سے متعلق تجویز کو منظوری دی گئی۔ میٹنگ کے بعد اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ قدرتی طور پر شمسی اورہواسے پیداہونےوای توانائی کے منصوبوں کی لائنوں میں وولٹیج میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے خصوصی قسم کے گرڈ ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے گرین انرجی راہداری کے تیسرے مرحلے کی 1,86,405 کروڑ روپے کی اسکیم منظور کی گئی ہے۔ اس سے راجستھان اور لداخ جیسے اہم قابلِ تجدید توانائی کے پیداواری علاقوں کے منصوبوں سے بجلی کے نکاس کا نظام مضبوط ہوگا۔ ریاستوں کے درمیان ٹرانسمیشن کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 135 گیگا واٹ تک کی قابلِ تجدید توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جا سکے۔
اسکیم میں گرڈ میں لچک برقرار رکھنے کے لیے سبز توانائی جہاں بن رہی ہے اس کے قریب یا کسی دوسرے اہم مقام پر 50 گیگا واٹ آور کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) لگانے کا التزام بھی ہے۔ اس سے توانائی کی سپلائی میں اتار چڑھاؤ، پیک آور میں بجلی کی کٹوتی اور جب دھوپ نہیں ہوتی ہے اس وقت کی مانگ پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اس کی 1.86 لاکھ کروڑ روپے کی کل تخمینہ شدہ لاگت میں بین ریاستی ٹرانسمیشن سسٹم کی ترقی کے لیے 1,36,378 کروڑ روپے اور 50 گیگا واٹ آور کے بی ای ایس ایس کے لیے 50,000 کروڑ روپے شامل ہیں۔
مرکزی حکومت اس اسکیم کے لیے 54,082 کروڑ روپے کی مالی امداد دے گی۔ مرکزی مالی امداد سے بین ریاستی ٹرانسمیشن چارجز کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور اس طرح بجلی کی لاگت کم رہے گی۔
سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسکیم کے جزو کے تحت تمام نئے منصوبوں کو ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ پرانے منصوبوں کی جدید کاری اور نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے کام ‘کاسٹ پلس بیسس’ کے تحت کیے جائیں گے۔
اسکیم کے لیے ریاستی ٹرانسمیشن یوٹیلیٹیز بنیادی عمل درآمد کرنے والی ایجنسی ہوں گی۔ یہ اسکیم سال 2035 تک 900 گیگا واٹ کی غیررکازی صلاحیت حاصل کرنے کے ہدف کو پورا کرنے میں مدد کرے گی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ ڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر جمعرات کے روز یہاں کئی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) پہل کی شروعات کریں گے۔
وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز بتایا کہ ان پہلوں میں فوج کے مالیاتی اطلاعاتی نظام کا محکمہ کے ‘سَکشم’ پلیٹ فارم کے ساتھ انضمام، وزارتِ دفاع کے لیے ترمیم شدہ نیشنل کمپائلیشن سسٹم اور سنگل اکاؤنٹ ادائیگی شروع کرنے کے لیے ادائیگی روٹنگ اور مربوط نظام کا انتظام شامل ہیں۔ اس موقع پر مرکزی تقریب ڈی آر ڈی او بھون کے ڈاکٹر ڈی ایس کوٹھاری آڈیٹوریم میں ہوگی، جس میں وزیرِ دفاع کا خطاب ہوگا۔
وزیرِ دفاع دفاعی اخراجات پر جامع شماریاتی کتابچہ 2026، رکشا لیکھا بھارتی، محکمہ کے داخلی ہندی مجلے اور مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ 2025-2026 سمیت متعدد مطبوعات کا اجراء کریں گے۔ اس موقع پر دفاعی پنشن کے نظام پر مبنی ایک مختصر فلم بھی جاری کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی، وزارتِ دفاع اور ڈیفنس آکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کی اہم پہلوں کو نافذ کرنے میں شاندار کارکردگی اور تعاون کے لیے حکام اور ملازمین کے ایکسی لنس کے لیے ‘وزیرِ دفاع ایوارڈ 2026’ سے نوازا جائے گا۔
ڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کا قیام 1747 میں ‘ملٹری پے ماسٹر’ کی تقرری کے ساتھ ہوا تھا۔ تب سے یہ محکمہ دفاعی افواج اور وزارتِ دفاع کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ محکمہ نے اندرونی آڈٹ، اکاؤنٹنگ، مالیاتی مشورے اور دفاعی پنشن کے انتظام کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
گیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی کے تحت ہٹائے گئے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام اور انہیں ووٹ دینے سے محروم کرنے کی وجہ عام کی جانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کے روز یہاں اپوزیشن پارٹیوں کے انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو غیر شفاف، من مانی یا نا کافی نگرانی والی کارروائی کے ذریعے ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر نام ہٹائے گئے ہیں، تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کا نام ہٹایا گیا اور کیوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کی روح کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر قابلِ اعتماد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے دو ساتھی الیکشن کمشنروں نے 10 مہینے میں 14 بار اس کارروائی پر اعتراضات درج کیے ہیں لیکن ان کے اعتراضات پر توجہ نہیں دی گئی، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے یا انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹا کر مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری کاموں کے سلسلے میں دی گئی قانونی تحفظ کا بھی معاملہ اٹھایا اور سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا ذکر بھی کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہی نہیں، بلکہ اس کا آزاد دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے پہلی بار ووٹنگ کرنے والے نوجوانوں کے لیے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ نوجوانوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن کی کارروائی آسان اور قابلِ رسائی ہونی چاہیے نیز تمام غیر ضروری رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ ای وی ایم کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ووٹنگ بیلٹ پیپر سے کرائی جانی چاہیے، تاکہ انتخابی نظام میں لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہو سکے۔
انہوں نے پری-ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو مستقبل کے انتخابات میں استعمال کرنے، ووٹر لسٹ میں اسمبلی اور بوتھ کی سطح پر نام جوڑنے، ہٹانے اور سدھار کی پوری جانکاری دینے نیز کسی جائز ووٹر کا نام ہٹانے سے پہلے نوٹس، وجہ اور مؤثر اپیل کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ انتظامی خامیوں، نا کافی دستاویزات یا بیداری کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اعتماد قائم کرنے والے نظام کو ضروری بتایا اور کہا کہ انتخابات میں شفافیت سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان7 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
