تازہ ترین
عرس شریف حضرت سید صالح خانصاحبؒ : مذہبی تہذیبی اورتاریخی اہمیت کے پس منظر میں
مشتاق شمیم، خانصاحب بڈگام 
حضرت سید صالح خانصاحبؒ کا عرس شریف حسب روایت 17 جون سے قصبہ خانصاحب میں مذہبی عقیدت اور ثقافتی رواداری کے ساتھ منایا جارہا ہے۔اس دوران ہزاروں عقیدت مند حضرت صالح ؒ کے آستان عالیہ پر حاضری دینے اور درود و اذکار سے آراستہ مجلسوںں میں شرکت کرنے میں مشغول ہیں۔جمعہ تالمبارک کو بعد از نماز جمعہ حضرت ولی کاملؒ کے تبرکات جن میں اُن کا جامہ مبارک نعلان ِمبارک تسبیح شریف اور آپ ؒ کے دست پاک سے تحریر فرمایا گیا قرآن مجید کا قلمی نسخہ شامل ہے کی نشاندہی کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔مقامی اوقاف ٹرسٹ سے وابسطہ اراکین اورسب ضلع انتظامیہ خانصاحب زائرین کی سہولت کیلئے خاطر خواہ انتظامات دستیاب رکھنے میں اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ عرس شریف کے متبرک ایام کے دوران خانصاحب ٹاون میں عارضی بازار سجائے جاتے ہیں دمبالی اور کوشتی جیسے ثقافتی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں اور بچوں کی دلجوئی کیلئے جھولے وغیرہ دستیاب رکھے جاتے ہیں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع خانصاحب نامی مشہور و معروف قصبہ مذہبی اورتاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ آبادی کے اعتبار سے قدرے چھوٹا یہ قصبہ لگ بھگ چار سو برس قبل کاترشی نامی ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میںآباد ہوا۔قصبہ ھٰذا کا نام جس قدرخوبصورت ہے یہاں کے بسکین بھی اُسی طرح سے نہایت ہی خوش اخلاق اور خوش گفتار مانے جاتے ہیں۔یہ قصبہ زمانہ قدیم سے ہی علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہ چکا ہے۔دینداری یہاں کی مٹی پر بود و باش کررہے خوش بختوں کو وراثت میں مل چکی ہے ۔یہاں کے مکین بڑے ہی مہمان نواز مہذب ا ور ملنسار تصور کئے جاتے ہیں۔یہ قصبہ مانو جنت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس کوشاید کسی خدا دوست بزرگ نے اللہ پاک سے مانگ کر یہاں زمین پر بسا دیا ہے۔ شاید کیا بلکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک عالم دین اور بلند پایہ بزرگؒ سترہ ویں صدی عیسوی میں مغل دور سلطنت کے دوران اپنا وراثتی تخت و تاج چھوڑ کر پکھلی نامی راجواڑے سے یہاں تشریف لائے تھے۔مذکورہ راجواڑہ فی الوقت پاکستان کے سندھ صوبے میں واقعہ بتایا جاتا ہے۔
برف پوش پہاڑوں خار زار بیا بانوں اور گہرے خوف ناک جنگلوں کو روندتے ہوئے یہ بزرگؒ دین حق کی تشہیر اوردین اسلام کا دعوتی مشن لیکر وادی کشمیر کے اندر تشریف آور ہوگئے۔کئی برس واتل کدل سرینگر اور کئی برس کرالہ سنگری پہاڑیوں میں گزارنے کے بعد بالآخر اس عالم دین اور پابند شریعت ولی کامل ؒنے کاترشی نامی پہاڑی کے اوپر جوکہ اُس زمانے میں ایک گھنے اور گہرے جنگل کی مانند تھی ایک گنی جھاڑی کے نیچے اپنا ڈیرا سنبھال لیا۔کاترشی ڈھلوان پر اس وقت بھی کائرو کا ایک قدآور درخت موجود ہے جو اس بات کا غمازہے کہ یہ پورا علاقہ ماضی بعید میں ایک بہت ہی گھنا جنگل رہ چکا تھا جس کے اندر جنگلی جانوروں کی ایک بڑی تعداد رہائش پزیر ہوا کرتی تھی۔یہ کائرودرخت آج بھی (کوتر یار) نام سے دور دور تک مشہور و معروف ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس درخت کے سائے میں بھی یہ درویش صفت بزرگ ؒ کئی ماہ و سال گزارچکے تھے ۔جب تک یہ بزرگ ؒ اس درخت کے نیچے تشریف فرما رہے تب تک سینکڑوں کبوتر بھی اس پر اپنا بسیرا سجاکر بیٹھا کرتے تھے۔ شاید اسی لئے اس درخت کو ”کوتر یار“ نام سے لوگ پکارا کرتے تھے اور آج بھی کائرو کے اس وشال درخت کو” کوتر یار“ نام سے ہی جانا اور پکارا جاتا ہے۔جس گنی جھاڑی کے نیچے بارہ برس تک یہ خدا دوست بزرگؒ دنیاوی لذتوں اور نفسانی خواہشات سے کنارہ کش ہوکر اپنے مالک حقیقی کی بندگی ادا کرنے میں محو رہے وہ جھاڑی آج بھی اپنی جگہ پر قائم راہ چلتے لوگوں کو اُس زمانے کی پُر کیف یاد یں فخر سے یاد دلاتی رہتی ہے۔ اس جھاڑی کے اندرقبلہ رو ایک بہت بڑا پتھر جائے نماز کی شکل میں موجود تھا جس کو بد قسمتی سے چند برس قبل نامعلوم افراد نے غائب کردیا ۔یہ جائے نماز نماءپتھراس بزرگ ؒکی دین داری اور خدا پرستی کی دلیل اپنی خاموش زبان سے پیش کیا کرتا تھا۔بارہ برس کے بعد درویش کاملؒ پہاڑی سے نیچے تشریف لائے اور اسی پہاڑی کے دامن کے اندر چھوٹے چھوٹے سات کمروں پر مشتمل ایک گھپا پارنیوہ نامی گاﺅں سے تعلق رکھنے والے کمہار بھائیوں سے کھو د وا ڈالی۔ اسی گھپا کے اندر آپ ؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اللہ پاک کی عبادت و ریاضت اور دین اسلام کی تشہیر میں گزار دئے۔یہ تاریخی گھپا اب بہت زیادہ خستہ ہوچکی ہے جس کو مرمت کرنے کی ضرورت اشد کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے۔
کیچ رازگیر سے تعلق رکھنے والے ایک استاد ضیاوالدین اندرابی نے بیس ویں صدی کے وسط میں کافی تحقیق کے بعد ایک کتابچہ (سوانح حیات خان صاحبؒ )نام سے تصنیف کر رکھی ہوئی ہے جس میں انہوں نے اس بزرگ محترم و مکرم حستی کا اسم مبارک حضرت سید صالح خان ؒ بتایاہے ۔کتاب ھٰذا کے مطابق حضرت صالح ؒ صوم و صلواة کے پابند شریعت کے علم بردار عالم دین اور ولی کامل تھے۔آپ ؒ کو علوم قرآن اور علوم حدیث پر کافی دست و رست حاصل تھا۔آپؒ کاتب قرآن بھی تھے ۔آپ ؒ کے دست پاک سے تحریر کیا جاچکا قرآن مجید کا ایک نادرقلمی نسخہ اس وقت بھی آپ ؒ کے آستان عالیہ میںموجود ہے جس کی زیارت سے ہر برس آپؒ کے عرس پاک کے موقع پر عقیدت مندوں کو فیض یاب کیا جاتا ہے۔
مرحوم ضیاو الدین کے مطابق صالحؒ کے دور حیات میں دور دراز علاقوں سے عقیدت مند دینی تعلیم اور شرعی تربیت حاصل کرنے کی غرض سے آپ حضرت ؒسے روز ملنے آجایا کرتے تھے۔علم دین سیکھنے میں لوگوں کی بڑی دلچسپی دیکھ کر صالح ؒ ہفتے کی ہر ویروار کو اپنی گھپا کے صحن پاک میں دینی اجتماع منعقد کیا کرتے تھے۔اجتماع میں شرکت کرنے کیلئے چناچہ لوگوں کو دور دراز گاﺅں دیہات سے پیدل آنا پڑتا تھا اسلئے وہ کھانے کیلئے روٹی یا تہری ساتھ لایا کرتے تھے ۔یہ کھانا وہ خود بھی طناول کرتے تھے اور اپنے دوسرے ساتھوں کو بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ صدیوں پرانی روایت آج بھی یہاں پر برابر قائم و دائم ہے ۔ عقیدت مند آج بھی روٹیاں اور تہری وغیرہ یہاں لاتے ہیں اور صالح ؒ کے آستان عالیہ کے صحن پاک میںعقیدت مندوں اور راہ چلتے مسافروں میں تقسیم کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
صاحب کتاب کے مطابق سید صالح خان صاحبؒ کو آپ کے عقیدت مند اور مرید حضرات پیار سے خان صاب یا خانہ مول نام سے یاد کیاکرتے تھے۔علم دین کی تشہیر میں بہت زیادہ مصروف رہنے کی وجہ سے آپؒ کو نکاح کرنے کی فرصت ملی نہ ہی کبھی آپ ؒ نے نکاح کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ کتاب کے مطابق خان صاب ؒکے مریدوں اور عقیدت مندوں کی تعداد بہت بڑی تھی لیکن قلندرشاہ نامی ایک بزرگ دین دار مسلمان آپ ؒ کے مرید خاص رہے تھے جو زندگی کے آخری ایام میں خان صاحب ؒ کے ساتھ ہی رہ کر آپ ؒ کی خدمت گزاری بجا لاتے رہے۔ قلندر شاہ، صاحب نکاح بھی تھے اور صاحب اولاد بھی۔خان صابؒ کے وصال کے بعد قلندر شاہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خان صابؒ کے مزار کے پاس ہی رہنے بسنے لگے۔اس طرح سے یہاں پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک بستی قائم ہوتی گئی۔ خان صاحب قصبے کی لگ بھگ اسی فیصد آبادی کو اسی قلندرشاہ کی اولادیں اور ذریعت تصور کیا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے اکثر لوگوں کی ذات” شاہ “ ہے۔ خان صابؒ کے مرید اور عقیدت مند خانصاحبؒ کے وصال کے بعد بھی قلندرشاہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔وہ ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ چلو خان صابن یا خانہ مالین جائیں گے اس طرح سے اس جگہ کا نام خانصاحب پڑگیا۔
صاحب کتاب خان صاحب ؒ کے روحانی کمالات کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ اُس زمانے میں مغل خانوادے کی چھٹی پیڑی کے سلطان عالم گیر شاہ ہندوستان کے بعض علاقوں پر راج تاج کررہے تھے۔ اُن کی ملکہ ان دنوں چمڑے کی ایک خطرناک بیماری (ہیطری)میں مبتلا تھیں۔کافی علاج و معالجہ کرانے کے با وجود بھی ملکہ کا مر ض ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ایک دن بادشاہ اپنے لاﺅ و لشکر اور اہل و عیال کے ہمراہ وادی کشمیر کی سیر پر آئے ہوئے تھے ۔یہاںسرینگر میں کسی ہمدرد خادم نے اُن کو صالح خان ؒ کے روحانی کمالات اور کرامات کے بارے میں بتایا۔آپ فوراََ اپنی ملکہ کو ساتھ لیکر خان صاحب ؒ کے دربار میں حاضر ہوگئے۔یہ جمعہ تالمبارک کا دن تھا۔ عالم گیر نے خانصاحبؒ کی خدمت میں اپنی روداد بیان کی۔ گھپا کے بلکل سامنے (کرالہ بٹھو) نامی ایک چھوٹی سے پہاڑی ہے جس میں سے ایک چشمہ پھوٹ رہا تھاجو آج بھی برابر جاری ہے۔ خانصاحبؒ نے ملکہ کو اسی چشمے کے پانی سے نہانے کی صلاح دی۔بتایا جاتا ہے کہ بس نہانے کی دیر تھی کہ ملکہ کایہ دیرینہ روگ بالکل ٹھیک ہوگیا اور وہ شفایاب ہوگئیں۔خانصاحب ؒ کے عقیدت مندوں نے اسی وقت سے اس چشمے کو ”بادشاہ ناگ “ نام سے پکارنا شروع کردیا۔ آج صدیوں بعد بھی لوگ اس چشمے کو ”بادشاہ ناگ“ نام سے ہی جانتے اور پکار تے ہیں۔ بادشاہ عالم گیر نے اپنے ہاتھوں سے اسی دن گھپا کے سامنے بطور یاداشت ایک چنار کا بوٹا لگوا دیا۔یہ چنار کا بوٹا گھپا کے بلکل سامنے آج ایک وشال درخت کی صورت میں اپنا جلوہ بکھیر رہا ہے۔
چناچہ جمعہ تالمبارک کامبارک دن تھا،حضرت صالح ؒ نے تمام حاضر مریدوںکو جمعہ کی نماز قائم کرنے کا حکم دیا۔گھپا کے اوپر پاس میں ہی ایک چھوٹا ساسرسبزمیدان تھا۔یہیں پر حضرت خان صاحب ؒ کے حکم پر بادشاہ عالم گیر نے جمعہ نماز کی پیشوائی کی ۔اس جگہ پر بعد میں ایک مسجد تعمیر کی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ وہ تاریخی مسجد آگ کی ایک ہولناک واردات میں شہید ہوگئی۔بعد میں اسی جگہ پر گاﺅں والوں نے خواجہ خضر وانی نامی ایک مقامی صاحب ثروت شخص کی سربراہی میں ایک نئی شاندار مسجد تعمیر کی ۔مسجد ھٰذا کا مقامی اوقاف ٹرسٹ ضرورت کے مطابق وقت وقت پر تجدید و مرمت کرتا رہا۔حال حال ہی میں ۵۱۰۲ءمیں مقامی اوقاف ٹرسٹ جس کی سربراہی حکیم محمد یاسین کر رہے ہیں نے اس تاریخی مسجد کے سامنے قائم پارک میں ایک عالی شان جامع مسجد تعمیر کی۔اس مسجد شریف کی تعمیر قریب قریب ۵۹ فیصد مکمل ہوچکی ہے اور اس کی تعمیرپر لگ بھگ ایک کروڑ روپئے کی لاگت آئی ہے۔قدیم مسجد کو شہید کیا گیا اور وہاں پر بھی ٹرسٹ ھٰذا نے ایک یک منزلہ عارضی مسجد تعمیر کر رکھی ۔بتایا جاتا ہے کہ حضرت سید صالح خان صاحب ؒ کا آستان بھی ایک بار آگ کی ہولناک واردات میں شہیدہوچکا تھا۔مقامی آبادی نے آستان ھٰذا کو بھی کئی بار نئے سرے سے تعمیر کیا تھا۔حال ہی میں حکیم محمد یاسین نے سرکاری امداد اور مقامی اوقاف ٹرسٹ کے تعاون سے اس آستان عالیہ کی نئے تقاضوں کے عین مطابق تعمیرو تجدید کرادی۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
