تازہ ترین
غیریقینی کی صورتحال اور بغیر اعلان ہڑتال کا107واں دن،محدود کاروباری سرگرمیاں جاری
خبراردو:
دفعہ370کی تنسیخ کے107دن مکمل ہونے کے درمیان وادی کشمیر میں غیر یقینی اور تذبذب سے بھرپور صورتحال برقرار ہے ۔ شہر ودیہات میں محدود کاروباری سرگرمیاں ہورہی ہیں ۔سردیوں کے ایام کے دوران صبح8بجے بازاروں میں دکان کھلتے ہیں اور دوپہر اڑھائی بجے تک کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں ۔جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں یہ سرگرمیاں بعد دوپہر ہی بحال ہوتی ہیں ۔ایک اطلاع کے مطابق پلوامہ میں سہ پہر تین بجے مکمل طور سبھی بازاروں میں دکان کھلتے ہیں اور شام دیر گئے تک یہاں کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں ۔تاہم دیگر اضلاع کے قصبوں اور تحاصیل سطح پر بازار صبح کے وقت ہی کھلتے ہیں ۔صبح کے وقت سرینگر سمیت دیگر قصبوں کے بازاروں میں غیر معمولی چہل پہل اور رش دیکھنے کو ملتا ہے ۔
لوگ زیادہ تر اشیاءضروریہ کی ہی خریداری کرتے ہیں ۔سردیوں کے ایام کے دوران اہلیان کشمیر کو اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔گرم ملبوسات کے علاوہ کھانے پینے کی چیزوں کا وافر مقدار گھروں میں اسٹاک رکھا جاتا ہے ،جن میں دالیں اور خشک سبزیاں وغیرہ شامل ہیں جبکہ کانگڑیوں کےلئے کوئلہ اور بخاریوں کےلئے بالن کا اسٹاک بھی رکھا جاتا ہے ۔ادھر اڑھائی بجے کے بعد شہر ودیہات کے بازاروں میں دکان بندہونے کیساتھ ہی سناٹا چھا جاتا ہے ۔تاہم سڑکوں اور شاہراہوں پررات دیر گئے تک نجی وپبلک ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی جاری رہتی ہے ۔اگرچہ پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی مسافر ٹیکسیاں اور منی بسیں ودیگر بسیں شام ڈھلنے کیساتھ ہی سڑکوں اور شاہراہوں سے غائب ہوجاتی ہیں ،تاہم نجی گاڑیوں کی آوا جاہی جاری رہتی ہے ۔شہر اور قصبہ جات میں ٹریفک کی آوا جاہی میں ہوئے اضافہ کے سبب جگہ جگہ ٹریفک جام دیکھنے کو ملتے ہیں اور لوگ گھنٹوں ان میں پھنسے رہتے ہیں ۔
ادھر پولیس حکام نے شہر کے فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر چھاپڑیاں اور ریڈھے لگاکر اپنا ذریعہ معا ش تلاش کرنے والوں کو ہٹانے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ۔سیول لائنز کے ٹی آر سی سے لیکر ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں موبائیل دکان سجانے والوں کو منع کردیا اور اُنہیں دکان سجانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ،تاہم چند ایک مقامات پر اکا دکا موبائیل دکاندار کاروبار کرنے والے نظر آئے،جن میں میوہ اور سبزی فروش بھی شامل ہیں ۔اس دوران 3سابق وزرائے اعلیٰ سمیت50سے زیادہ مین اسٹریم لیڈران کی تاریخ ساز نظر بندی برقرار ہے ۔حالیہ دنوں 33نظر بند لیڈران کو ایم ایل اے ہوسٹل واقع مولانا آزاد روڑ منتقل کیا گیا ۔مین اسٹریم لیڈران کے قریبی رشتہ داروں نے گذشتہ روز الزام عائد کیا تھا کہ نظر بند لیڈران کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ۔ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت دیگر مین اسٹریم لیڈران کی نظر بندی کا معاملہ ایوان پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا گیا ۔
نیشنل کانفرنس اور کانگریس سمیت سبھی اپوزیشن پارٹیوں نے لوک سبھا (ایوان زیریں ) میں سوموار کی کارروائی کے دوران یہ معاملہ اٹھا کر حکومت سے وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بحث کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔اس دوران ایوان میں اپوزیشن نے کئی معاملات پر ایوان چاہ میں احتجاجی کیا اور واک آﺅٹ بھی کیا۔ادھر وادی کشمیر میں انٹر نیٹ خدمات کی معطلی کا سلسلہ بھی برقرار ہے جسکی وجہ سے طلبہ ،تاجر اور صحافیوں کو گونا گوں مشکلات کا سامنا ہے ۔پوسٹ پیڈ موبائیل سروس بحال ہونے کیساتھ ہی ’شاٹ مسیج سروس‘(ایس ایم ایس ) پر پابندی عائد کی گئی
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
