تازہ ترین
غیر ملکی سفارتکاروں اور قانون دانوں کا وفد وارد کشمیر
سیول سوسائٹی،فوج، سیاست دانوں کے وفود سے ملاقی،شکارہ کا بھی مزہ لیا
سرینگر/12فروری: غیر ملکی سفارتکاروں اور یورپی یونین کے قانون دانوں کا دوسرا قافلہ وادی کے دورے پر پہنچ گیا،جس کے دوران انہوں نے سیاست دانوں،سیول سوسائٹی ارکان اور میڈیا نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا،جبکہ وہ مجموعی صورتحال کا احاطہ بھی کریں گے۔ غیر ملکی سفارتکاروں نے جھیل ڈل میں شکارہ کی سواری بھی کی۔اس دوران غیر ملکی سفارتکاروں کی وادی آمد کے خلاف احتجاج کر رہے کئی نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کیا۔ جے کے این ایس کے مطابق یورپی یونین سے وابستہ قانون دانوں اور سفارتکاروں کی ایک ٹیم بدھ کو وارد کشمیر ہوئی اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں سے تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ20ملکوں،جن میں جرمنی،کینڈا،فرانس،افغانستان، آسٹریا، ازبکستان، جمہوریہ سلواکیہ، ہائی لینڈ،نمیبیا،کرگز،بلغیاریہ،تاجکستان، ڈنمارک، اٹلی،نیو زی لینڈ،پولینڈ،رونڈا اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں کے سفارتکار خصوصی طیارے کے ذریعے بدھ کو 11بجے صبح سرینگر پہنچے، تاہم نا مساعد موسمی حالات کی وجہ سے وہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ نہیں جاسکے،جہاں پر انہیں جانے کا پروگرام تھا۔ مذکورہ وفدمرکزی حکومت کی طرف سے5اگست کو جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والے دفعہ370کی تنسیخ اور جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد پیدہ شدہ صورتھال کا جائزہ لینگے۔ افغانستان کے سفیر برائے بھارت طاہر قادری نے سماجی وئب سائت ٹیوٹر پر تحریر کیا”پہنچے کے بعد ہم سرینگر کے جھیل ڈل میں شکارہ سواری سے لطف اندوز ہوئے،خوبصورت جھیل اور مہمان نواز لوگ،میں نے ایک کشتی جو دکان کے طور پر کام کرتی ہے سے ایک خوبصورت انگوٹھی خرید لی“۔گزشتہ ایک ماہ میں یہ غیر ملکی سفارتکاروں کی طرف سے وادی کا دوسرا دورہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں اور قانون دانوں نے جھیل ڈل میں شکارے کی بھی سواری کی اور قدرت کی خوبصورتی کا لطف اٹھایا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ وفد نے بدھ کو ایک مقامی ہوٹل میں سیول سوسائٹی، سیاست دانوں اور دیگر طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں سے ملاقی ہوکر مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے فرور گرورس کے علاوہ میڈیا نمائندوں نے بھی غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقات کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ وفد ممکنہ طور پر فوجی افسران سے بھی ملاقات کریں گی،جس کے دوران انہیں جموں کشمیر میں پاکستان کی پشت پناہی سے انتہپا پسندی کے بارے میں تفصیلات فراہم کی جائں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا وفد رات بھر وادی میں قیام کرین گا اور جمعرات کو جموں روانہ ہونگے،جہاں پر امکانی طور پر وہ جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر جی سی مورمو کے علاوہ سیول سوسائتی ارکان سے ملاقی ہوگئی۔ اس دوران ایک سفارتکار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وکشمیر میں ایک سیاح کے طور پر آیا ہے۔ادھر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی دختر التجاء مفتی نے یورپی یونین اور غیر ملکی سفارتکاروں کے دورے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کو توقع ہے کہ دورے پر آئے سفارتکار حکام سے انٹرنیت کی عدم موجودگی اور سیاسی لیڈروں کی پی ایس ائے کے تحت نظربندی سے متعلق سوال پوچھے گے۔ گزشتہ ایک ماہ سے یہ غیر ملکی سفارتکاروں کو وادی کا دوسرا دورہ ہے،جبکہ9 جنوری کو امریکہ سمیت15ملکوں کے سفارتکار وادی کے دو روزے پر پہنچ گئے تھے،جہاں پر انہوں نے سیاسی لیڈروں،فوج اور سیول سوسائٹی سمیت کئی لوگوں سے ملاقات کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔ کشمیر آنے والے سفارتکاروں میں جنوبی کوریا،مراکو،نائجریا،گیانا،آرجنٹینا، ناروئے،فلپین،مالدیپ، ٹوگو،فجی، پیرو اور بنگلہ دیش کے علاوہ ویتنام کے سفارکار بھی شامل تھے۔ مذکورہ سفارتکار حکومت ہند کی دعوت پر وادی کے دو روزہ دورے پر پہنچ گئے تھے۔جموں کشمیر میں 5اگست کو مرکز کی طرف سے دفعہ370کے خاتمے اور ریاست کو تقسیم کرکے دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں تبدیل کے بعد پیدہ شدہ صورتحال کا احاطہ کرنے کیلئے مذکورہ سفارتکاروں کا یہ گروپ وارد کشمیر ہوا تھا۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کی طرف سے گزشتہ دورے کی ہی طرح سفارتکاروں کے اس گروپ نے بھی وادی اور جموں میں مختلف طبقہ ہائے فکرس سے وابستہ لوگوں کے علاوہ فوج اور سیول سوسائٹی لیڈروں سے تبادلہ خیال کیا تھا۔۔ حکام کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں 5اگست کو دفعہ370کی تنسیخ کے بعد کئی ملکوں نے جموں کشمیر کے دورے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ وہاں کی صورتحال کا جائزہ لئے سکیں جموں کشمیر میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد حکومت نے مواصلاتی بندشیں عائد کی تھی،جبکہ مین اسٹرئم سیاست دانوں کو بھی گھروئں اور جیلوں میں نظربند رکھا گیا،تاہم کچھ ہفتوں سے ان بندشوں کو ہٹانے سلسلہ بھی شروع ہوا،اور نظر بند لیڈروں کی بھی مرحلہ وار بنیادوں پر رہائی ہوئی،تاہم 3سابق وزراء اعلیٰ سمیت قریب10سیاست داں ابھی بھی نظربند ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق بین الاقوامی میڈیا،سیاست دانوں اور حکومتوں کی طرف سے انٹرنیٹ و مواصلاتی بندشوں اور لیڈروں کی مسلسل نظر بندی پر حکومت ہند کو تنقید کا نشانہ بنانے کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ حکومت ہند نے گزشتہ برس29اور30اکتوبر کو یورپی پارلیمنٹ کے23ارکان کو وادی کا دورہ کرنے کیلئے سہولیات فراہم کی تھی،جبکہ ان میں بیشتر ممبران دائیں بازوں کی جماعتوں اور نظریات سے وابستہ تھے۔اس معاملے پر تنازعہ بھی کھڑا ہوا تھا کیونکہ حکومت ہند نے کچھ پارلیمانی وفود اور پارلیمنٹ ممبران کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں تھی۔بھارت میں یورپی یونین کی طرف سے اس وفد کو سرکاری حیثیت کی نظر سے بھی نہیں دیکھا گیا تھا،جبکہ ان نمائندوں کے ذاتی دورے سے تعبیر کیا گیا تھا۔اس وفد نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور قومی سلامتی کے صلاح کار اجیت ڈول سے بھی سرینگر دورے سے قبل ملاقات کی تھی۔ اس دوران سرینگر میں پولیس نے غیر ملکی سفارتکاروں کی کشمیر آمد کے خلاف احتجاج کر رہے 3نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو تین نوجوانوں نے غیر ملکی سفارتکاروں اور یورپی یونین کے قانون دانوں کی وادی آمد کے خلاف احتجاج کیا،جس کے دوران پولیس نے انہیں حراست میں لیا۔معلوم ہوا ہے کہ ان نوجوانوں نے ان سفارتکاروں کے وادی دورے کو رقومات کو ضائع کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفارتکار جھیل ڈل میں شکارہ سواری کا مزہ لے رہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان سفارتکاروں کی آؤ بھگت میں جو رقم ضائع کر رہی ہے اس کے بجائے اس کو کشمیر کی ترقی پر خرچ کیا جانا چاہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
