تازہ ترین
لاک ڈاوَن کا دوسرا مرحلہ
مرکزی وزارت داخلہ نے آج یعنی سوموار سے ملک میں جو اقتصادی سرگرمیاں شروع ہوں گی،کی پہلی فہرست جاری کی،جس کے تحت پھل۔سبزی کے ٹھیلے، صاف۔صفائی کا سامان بیچنے والی دکانیں، کریانہ اور راشن کی دکانیں، دودھ اور دودھ کے بوتھ، پولٹری، گوشت، مچھلی اور چارہ بیچنے والی دکانیں بھی کھلی رہیں گی۔
اس کے علاوہ الیکٹریشن، آئی ٹی کی مرمت، پلمبر، موٹر میکینک، کارپینٹر، کورئیرز، ڈی ٹی ایچ اور کیبل خدمات شامل ہیں جبکہمختلف مرکزی اسکیموں کے تحت ہونے والے تعمیراتی کا م بھی ہوں،تاہم ریڈ زونز میں کسی طرح کی سرگرمی بحال نہیں ہوگی۔ کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق عوام کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے کچھ چنندہ سرگرمیوں کو20 اپریل یعنی آج (سوموار) سے چالو کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ راحتیں ریاست/یونین ٹریٹر ی سرکاروں یا ضلع انتظامیہ کے ذریعہ موجودہ احکامات پر سختی سے عمل کرتے ہوئے دی جائیں گی۔
مرکزی سرکار نے کو رونا وائرس کی وجہ سے3 مئی تک کے لیے لگائے لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے کیلئے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے اس مدت میں سبھی طرح کے پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات کو کھولنے پر روک لگائی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری احکاما ت کے مطابق، عوام کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے کچھ چنندہ سرگرمیوں چالو کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔یہ راحتیں ریاست/یونین ٹریٹر ی سرکاروں یا ضلع انتظامیہ کے ذریعہ موجودہ احکامات پر سختی سے عمل کرتے ہوئے دی جائیں گی۔سرکار نے اس دوران سبھی طرح کی کھیتی اور باغبانی کی سرگرمیوں کو چھوٹ دی ہے۔
یہ چھوٹ ماہی پروری اور پولٹری فارم کے لیے بھی رہیں گی۔سوشل ڈسٹنسنگ اور حفاظتی آلات کو پہن کر منریگا مزدوروں کو بھی کام کرنے کی چھوٹ ملے گی۔ سرکار نے کہا کہ منریگا کے تحت سینچائی اور آبی تحفظ کے کام کو ترجیح دی جائیگی۔اس کے ساتھ ہی دیہی علاقوں میں کام کرنے والے چنندہ کام کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔ حالانکہ، یہ ڈرگس، فارماسوٹیکلس، میڈیکل ڈیوائس اور ان کے کچے پروڈکشن سمیت ضروری سامانوں کی پروڈکشن اکائیوں تک محدود ہیں۔وہیں، فوڈ پروسسنگ اور آئی ٹی ہارڈویئر بنانے والوں کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔حالانکہ، لوگوں کی بین ریاستی، بین ضلعی آمدورفت، میٹرو، بس خدمات پر 3مئی تک روک جاری رہے گی۔
اس دوران تعلیمی اداروں، کوچنگ سینٹر، گھریلو اور انٹرنیشنل ہوائی آمدورفت اور ٹرین خدمات بھی رد رہیں گی۔سنیما گھر، مالس، شاپنگ کمپلیکس، جم، کھیل کیمپس، سوئمنگ پول، بار جیسے عوامی مقامات بھی 3مئی تک بند رہیں گے۔نئے احکامات کے مطابق، سبھی سماجی، سیاسی، کھیل، مذہبی تقاریب، مذہبی مقامات، عبادت گاہیں 3 مئی تک عوام کے لیے بند رہیں گے،خاص طور سے چھوٹ دی گئی سرگرمیوں کے علاوہ دوسرے سبھی کاروبار اورکامرشیل سرگرمیاں، ہاسپٹلٹی سروسز بند رہیں گی۔ وہیں، ٹیکسی و کیب خدمات بھی بند رہیں گی۔اس کے ساتھ ہی کسی بھی آخری رسومات کی ادائیگی میں 20سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر بھی پابندی رہے گی۔مرکزی وزیر لاء اینڈ ٹیلی کام روی شنکر پرساد نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے فہرست کی اشتہاری تصویر جا ری کی۔تاہم ریڈ زونز میں کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
اس سلسلے میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی سربراہی میں مرکزی وزراء کے ایک گروپ کی ایک میٹنگ بھی ہوئی،جس میں کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس میٹنگ میں واضح کیا گیا کہ دوسرے مرحلے کے لاک داؤن کے دوران مرکزی وزارت داخلہ نے رہنما خطوط جاری کئے ہیں،اُسکے تحت لاک ڈاؤن کو سختی کیساتھ نافذ کیا جائیگا۔وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ کوروناوائرس کے قہر کے مد نظر ملک گیر لاک ڈاؤن میں ای۔کامرس کمپنیوں کو غیر ضروری سامانوں کی سپلائی پر پابندی جاری رہے گی۔کووڈ۔19وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے حکومت نے پورے ملک میں 3 مئی تک کیلئے لاک ڈاؤن بڑھا دیا ہے۔ حالانکہ حکومت نے 20 اپریل سے کچھ چیزوں میں رعایت دی ہیں۔سرکار کے اس فیصلے سے اب ای کامرس کمپنیاں ایمیزون اور فلپ کارٹ نے اپنے پلیٹ فارم پر غیر ضروری سامانوں کو نہیں بیچ سکیں گے۔
حکومت نے ای۔ کامرس کمپنیوں کو لاک ڈاؤن میں کام کرنے کی اجازت دی ہے لیکن وہ غیر ضروری سامان کی فراہمی نہیں کرسکیں گی۔ ریاست اور وسطی علاقوں کو جاری ایک نئے حکم میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ ای کامرس کمپنیاں اور ان کی گاڑیاں صرف ضروری سامان کی فراہمی کے لئے استعمال ہوں گی۔ اس مدت کے دوران کسی بھی غیر ضروری سامان کی فراہمی پر پابندی برقرار رہے گی۔کل سے پھل۔سبزی کے ٹھیلے، صاف۔صفائی کا سامان بیچنے والی دکانیں کھلیں گی۔
کیرانہ اور راشن کی دکانیں، دودھ اور دودھ کے بوتھ، پولٹری، گوشت، مچھلی اور چارہ بیچنے والی دکانیں بھی کھلیں گی۔ اس کے علاوہ الیکٹریشن، آئی ٹی کی مرمت، پلمبر، موٹر میکینک، کارپینٹر، کورئیرز، ڈی ٹی ایچ اور کیبل خدمات شامل ہیں۔یہ خدمات بھی 20 اپریل سے شروع ہوں گی:ڈیٹا اور کال سینٹرز جو صرف سرکاری سرگرمیوں کے لئے کام کرتے ہیں۔آئی ٹی اور متعلقہ خدمات کے ساتھ دفتر۔ ان میں سے50فیصد سے زیادہ اسٹاف نہیں ہوگا۔ دفتر اور رہائشی احاطوں میں پرائیویٹ سکیورٹی اور مینٹیننس الی کی خدمات۔شاہراہ پر ٹرک کی مرمت کے لئے دکانیں اور ڈھابے کھلیں گے۔
یہاں کی سماجی دوری کی پیروی کرنا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہوگی۔غورطلب ہے کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے لاک ڈاؤن کو3مئی تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ریاست یایونین ٹریٹری سرکاریں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ، 2005 کے تحت جاری ان احکامات کونافذ کرنے سیکسی بھی طرح سے انکار نہیں کر سکتی ہیں۔ حالانکہ، مقامی علاقوں کی ضروریات کو دھیان میں رکھتے ہوئے وہ ان احکامات سے بھی سخت اصول نافذ کر سکتی ہیں۔
اس ملک گیر بند کا مقصد کو رونا وائرس پر لگام لگانا ہے جس کی وجہ سے ملک میں ابھی تک370 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور11ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
