تازہ ترین
محبوبہ مفتی نے اپنی جماعت کو بچانے کیلئے ریاست کا سودا کیا : عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے سابق نائب صدر اور سابق وزیر اعلی عمر عبدللہ نے اتوار کو بتایا کہ لم دوات والوں کو روز حساب آگیا ہے انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کیا جو تعمیر ترقی ،ہند پاک کے درمیان بات چیت ، افسپا کی منسوخی کے ساتھ ساتھ تعمیر ترقی کے حوالے سے جو وعدے کئے گئے ہیں ان کا کیا ہوا ؟.
عمر عبداللہ نے کہا کہ اپنے وعدوں کے عین برعکس پی ڈی پی نے بھاجپا کیساتھ مل کر ریاست کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہ اتحاد تعمیر و ترقی کے لحاظ سے اوندھے منہ گر گیا، امن اور مفاہمت کی باتیں کرنے والوں نے یہاں کے لوگوں کو بے چینی اور غیر یقینیت کے بھنور میں دھکیل دیا، بے روزگاروں کو روزگار دینے کے بجائے اقرباپروری کو ترجیح دی گئی اور عام اُمیدوروں کیلئے SRO-202نافذ کیا گیا، حریت سے بات چیت کے بجائے اُن کو مختلف کیسوں اور معاملوں میں پھنسایا گیا، پاکستان کیساتھ بات چیت تو دور کی بات یہاں تک جنگ کے بادل بھی چھانے لگے ، بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کے بجائے اپنے بجلی سیکٹر کو مزید پیچھے دھکیلا گیا، افسپا کی منسوخی اور فوجی انخلاء کے بجائے پوری وادی کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’پی ڈی پی بھاجپا کی عوام کش پالیسیوں کی بدولت ملی ٹنسی کی نئی شروعات ہوئی، ہمارے پڑھے لکھے نوجوان، جو بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پی ایچ ڈی اور دیگر ڈگریاں حاصل کررہے تھے، پچھلے 5سال مین اتنے پریشان اور ناراض ہوئے کہ انہوں نے بندوق کا راستہ اختیار کیا۔
ہمیں ریاست کو ان حالات سے نکالنا ہے، ہمیں نوجوانوں کی ناراضگی دور کرنی ہے، ہمیں اس ریاست میں ترقی کا نیا دور شروع کرنا ہے، ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جس ترقی کی کوکرناگ کے لوگوں نے 5سال اُمید رکھی وہ تعمیر و ترقی کہاں ہے؟ وہ ٹنل کہاں ہے جس کے ذریعے ہم کشتواڑ سے ملتے، جس کے ذریعے ہم جموں سے ملتے، وہ سڑکیں کہاں ہے جن سڑکوں کے ذریعے ہم یہاں سیاحوں کے آنے کا انتظار کررہے تھے، وہ خواب ہی رہ کیا۔ پی ڈی پی ہر محاذ پر ناکام اس لئے ہوئی کیونکہ ان کی نیت صاف نہیں تھی، ان کے ارادے صحیح نہیں تھے۔ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا۔ اس کامطلب یہ ہے کہ موصوفہ نے دفعہ370کیلئے ہیں، دفعہ35اے کیلئے نہیں، ریاست کی خصوصی پوزیشن کے بچاؤ کیلئے نہیں، افسپا کی منسوخی کیلئے نہیں بلکہ اپنی جماعت کو بچانے کیلئے ریاست کا سودا کردیا۔
کیا ہم ایسے لوگوں پر دوبارہ بھروسہ کرسکتے ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کیلئے ریاست کو سولی پر چڑھانے کیلئے تیار ہوں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہمارے تشخص ہے، جب ہم دفعہ370اور35اے کو ہٹانے کی سازشوں کے تئیں اپنی فکر مندی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تو غلط نہیں کرتے ہیں۔ یہ دفعات صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، یہ دفعات صرف زبانی جمع خرچ نہیں ان دفعات کیساتھ ہمارا مستقبل اور ہماری پہنچان جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو نقصان ہوتا ہے تو اس کا نقصان براہ راست عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ دریں اثناء مٹن پہلگام میں چناؤی جلسے کا انعقاد ہوا۔پارٹی کے لیڈران جسٹس حسنین مسعودی، جنک سنگھ سوڑھی، شمی اوبرائے ، جگدیش سنگھ آزاد اور دیگر لیڈران نے بھی خطاب کیا۔س موقعے پر پارٹی کے سینئر لیڈران جسٹس(آر) حسنین مسعودی (نامزد اُمیدوار)، غلام نبی بٹ اڈگامی،پیر محمد حسین، سعید توقیر اور سلام الدین بجاڑکے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
