ہندوستان
مسعود اظہر پاکستان میں موجود نہیں: بلاول
نئی دہلی، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کے معلنہ دہشت گرد مسعود اظہر کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
مسٹر بھٹو نے کہا کہ اگر ہندوستان اظہر کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں معلومات فراہم کرے تو پاکستان اظہر کو گرفتار کرنے میں “خوشی محسوس کرے گا”۔ الجزیرہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حافظ سعید پاکستان میں آزاد آدمی نہیں ہیں اور مسعود اظہر افغانستان میں ہوسکتے ہیں۔
غور طلب ہے کہ مسٹر بھٹو کی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ملک میں حکمراں اتحاد کا حصہ ہے اور مسعود اظہر ہندوستان کو مطلوب دہشت گردوں میں سے ایک ہے۔
اظہر نے 2001 کے پارلیمنٹ حملے، 26/11 ممبئی حملے، 2016 کے پٹھانکوٹ حملے اور 2019 کے پلوامہ حملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
مسعود اظہر کو اقوام متحدہ نے 2019 میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی 1267 کمیٹی کے تحت عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان مسعود اظہر اور لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو حوالے کرنے کا مسلسل مطالبہ کر رہا ہے لیکن پاکستان ان دونوں کے وہاں سرگرم ہونے کے ثبوت کے باوجود ان کی وہاں موجودگی سے انکار کر رہا ہے۔
اظہر کو 1999 میں قندھار طیارے کے ہائی جیکنگ کے بعد آئی سی -814 کے مسافروں کی رہائی کے بدلے رہا کیا گیا تھا۔
حافظ سعید کے آزاد ہونے کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر ایک سوال کے جواب میں مسٹر بھٹو نے کہا کہ “یہ درست نہیں ہے، حقیقت میں یہ درست نہیں ہے کہ حافظ سعید ایک آزاد آدمی ہے، وہ پاکستان کی حکومت کی تحویل میں ہے۔ جہاں تک مسعود اظہر کا تعلق ہے، ہم اسے گرفتار کرنے یا شناخت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہم افغانستان کے تناظر میں افغان جہاد کے حوالے سے یقین رکھتے ہیں۔”
ہندوستان نے بارہا پاکستان سے 2008 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کو ہندوستان کے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی لیکن سعید کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے جولائی 2019 میں اس کے اور اس کے قریبی ساتھیوں کے خلاف 23 ایف آئی آر درج ہونے کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں اپریل 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ حافظ سعید کا شمار ہندوستان کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں ہوتا ہے اور 26/11 کے ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر امریکہ نے اس پر 10 ملین امریکی ڈالر کا انعام رکھا ہے۔
ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا اور چار دنوں میں 166 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے تھے۔
مسٹر بھٹو نے یہ انٹرویو 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ہندوستان کی طرف سے آپریشن سندور شروع کرنے کے بعد دیا، جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کے نو کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہندوستان نے جن مقامات کو نشانہ بنایا ان میں سے ایک بہاولپور میں جیش محمد (جیش) کا گڑھ تھا۔ ہندوستان نے 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے کے لیے آپریشن سندور شروع کیا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
