تازہ ترین
مسلسل تیسری عید پر لاک ڈاؤن کا سایہ
کورونا لاک ڈاؤن میں 5اگست تک توسیع، وبا کے سائے تلے عید الاضحی ،بڑے عید اجتماعات پر پابندی
خبراردو:-
سرینگر:جموں وکشمیر انتظامیہ نے جمعہ کو کورونا لاک ڈاؤن میں 5اگست توسیع کردی جبکہ انتظامیہ نے پہلے ہی عید اجتماعات پر پابندی عائد کردی۔وادی کشمیر میں مسلسل تیسری عید (عید الاضحی) لاک ڈاؤن کے سائے اورآج یعنی سنیچر کو مذہبی عقیدت واحترام اور(اللّٰہ اکبر،اللّٰہ اکبرلا الہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبروللّٰہ الحمد)کے روح پرور مناظر کے بیچ منائی جا رہی ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے جمعہ کو کووڈ۔19لاک ڈاؤن میں 5اگست تک توسیع کردی۔اس ضمن میں با ضابط طور پر ایک آرڈر جاری کیا گیا ہے،جس میں جموں وکشمیر میں لاک ڈاؤن سے متعلق نئی گائیڈ لانز کے تحت 5اگست تک پابندیاں اور بندشیں برقرار رہیں گی۔
وادی کشمیر میں یہ مسلسل تیسری عید ہے،جو لاک ڈاؤن کے سائے میں منائی جارہی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان کے درمیان صو بائی کمشنر کشمیر،پانڈو رنگ پولے نے کشمیر میں عیدالاضحیٰ کے مدنظر3 دن تک بازار کھلے رکھنے کا اعلان کردیا تھا۔ سرینگر میں عید کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ہدایت دی تھی کہ28 سے 30 جولائی تک بازار مرحلہ وار کھولے جائیں تاکہ لوگ قربانی کے جانور اور دیگر خریداری کرسکیں۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس بات کے پورے انتظامات کئے جائیں کہ کووڈ۔19 کے قواعد ضوابط کی پاسداری کی جائے۔ سوبائی کمشنر کشمیر نے ان ایام میں مساجد اور خانقاہوں کی صفائی کی اجازت دینے کی بات تو کی لیکن صاف کردیا کہ کسی قسم کی بھیڑ لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس کا مطلب یہ کہ عید کی نماز کی اجازت نہیں ہوگی۔کشمیر میں یہ مسلسل تیسری عید ہوگی جب عید کی نماز بڑی مساجد اور خانقاہوں میں ادا نہیں ہوگی۔ سال2019 میں عیدالاضحیٰ کرفیو کے سایہ میں گذری جب دفعہ370اور35(اے) کی تنسیخ اور جموں وکشمیر کو دو مرکزی حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد سخت کرفیو نافذ کردیا گیا۔
اس دوران فون خدمات بھی بند کردی گئیں تھیں اور لوگ احباب اور رشتہ داروں کو عید کی مبارکباد تک بھی نہیں دے پائے تھے۔ سال 2020 میں عید الفطر کووڈ۔19کے سائے میں گذری اور لاک ڈاؤن کے چلتے مساجد میں عید کی نماز ادا نہیں کی جاسکی۔جموں کشمیر حکومت نے جولائی کے ابتدائی ہفتے میں ان لاک 2کے تحت نہ صرف باغات کھولنے کا اعلان کردیا بلکہ ریاست میں سیاحت کو بحال کرنے کا بھی اعلان کر ڈالا۔
چند دن کے اندر لوگ بغیر ماسک گھومتے نظر آئے اور انہیں کچھ دن کے اندر پتہ چلا کہ کووڈ۔19 کے نئے معاملے آسمان کو چھونے لگے۔ جب اسپتالوں میں مریضوں کا رش لگنے لگا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ پورا طبی نظام لڑکھڑانے لگا تو حکومت نے پھر سے سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔حکومت نے بانڈی پورہ کو چھوڑ کر پوری کشمیر وادی میں دوبارہ مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔
حکومت کی طرف سے اس اعلان نامہ میں ضلع ترقیاتی افسران کو آرڈر جاری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس اعلان میں زرعی اور باغبانی شعبے سے وابستہ افراد کو کام کرنے کی اجازت تھی لیکن قواعد و ضوابط کی حدود میں کشمیر میں پچھلے کئی دنوں سے ان علاقوں میں پابندیاں عائد کردی گئی تھیں جہاں بڑی تعداد میں نئے کووڈ۔19 معاملے سامنے آئے تھے لیکن اس کے بعد بھی نئے کیسوں کی تعداد میں کمی کے بجائے یہ تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے جبکہ اموات میں بھی تشویشناک اضافہ ہو ا۔
اب عید الاضحی کے اجتماعات کو روکنے کیلئے 5اگست تک سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔ اس کا مطلب صاف ہوگیا ہے کہ یہ عید بھی لاک ڈاؤن کے سائے میں ہی اہلیان کشمیر منائیں گے۔بڑے عید اجتماعات پر پابندی کے بیچ آج سنیچر کو مذہبی عقیدت واحترام کیساتھ منائی جارہی ہے۔اس سلسلے میں چھوٹی اور محلہ سطح کی مسا جد میں نماز عید کی ادائیگی کو سماجی دوری اور کووڈ۔رہنما خطوط کے تحت ادا کی جارہی ہے جبکہ بعد ازاں شہر ودیہات میں سنت ابراہیمی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا،جو آئندہ دو روز تک جاری رہے گا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں احتجاج پر پابندیوں کو لے کر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں کا کشمیر سے موازنہ
سری نگر، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل نئی دہلی کے بعض علاقوں میں عائد پابندیوں پر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں نے ہفتہ کو تنقید کی اور ان کا موازنہ جموں و کشمیر میں عائد کی جانے والی پابندیوں سے کیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کی شام کہا کہ ”کشمیر ماڈل” کو قومی دارالحکومت دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل وسطی دہلی میں انٹرنیٹ خدمات بند کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
عمر عبداللہ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ ”کشمیر ماڈل کو دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ نئے جموں و کشمیر کے طرز پر بنائی گئی نئی دہلی میں آپ کا خیرمقدم ہے۔”
مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات 24 گھنٹے کے لیے معطل کرنے کی اجازت دی تھی۔
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ہفتہ کو دہلی کے حالات کا موازنہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں عائد پابندیوں سے کیا۔
محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو یاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بعد میں حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھاکہ ”آج کی دہلی، دفعہ 370 کی غیر آئینی منسوخی کے بعد کے کشمیر کی ایک خوف ناک یاد دلاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں بند کردیا گیا تھا، انٹرنیٹ بند کردیا گیا تھا اور پورے خطے کا محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ اس وقت بی جے پی نے ڈھٹائی سے دعویٰ کیا تھا کہ کسی نے احتجاج نہیں کیا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ”آج جب دہلی کا محاصرہ کیا گیا ہے، ٹرینیں روک دی گئی ہیں اور جنتر منتر جانے والی سڑکیں بند کردی گئی ہیں، تو وہ دوبارہ یہی جھوٹ دہرا سکتے ہیں کہ گیانیش کمار کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پہلے احتجاج کو کچل دو، پھر اس سے انکار کردو کہ ایسا کبھی ہوا بھی تھا۔ جبری خاموشی کو رضامندی کے طور پر پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے۔”
جموں و کشمیر کے سرکردہ سیاست دانوں کے یہ بیانات قومی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں جنتر منتر جانے والی سڑکوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی ۔ ظ ا
دنیا
ایندھن کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر امریکہ روس سے ڈیزل درآمد کرے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکہ میں ایندھن کی قیمتں کم کرنے کے دباؤ بڑھنے کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن “امریکی اور عالمی مارکیٹ” کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، جس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز اٹھائے گئے اس قدم سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “ایک ایسی جنگ میں سرمایہ کاری ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے، نہ کہ طویل کھینچا جانا چاہیے۔”
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی ٹریژری 7 اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندیوں کو ہٹا رہی ہے، لیکن امریکی بینکوں میں موجود دیگر اثاثے ابھی بھی منجمد ہیں۔
اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس کی جانب سے مزید تیس لاکھ ٹن ڈیزل “کم وقت میں” دستیاب کرایا جائے گا، جو وہاں کی ریفائنریز کی صورتحال پر منحصر ہوگا جن پر یوکرین نے حملے کیے ہیں۔
بعد میں پوتن نے کہا کہ روس-جس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی-امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بیان میں مقدار کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تاہم، تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، اور ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔
دریں اثنا، برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا مؤقف “بالکل واضح” ہے اور وہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
“ہم برطانیہ کی جانب سے اب تک عائد کردہ سخت ترین پابندیوں کے ذریعے روس پر دباؤ برقرار رکھیں گے، پوتن کی جارحیت کی قیمت بڑھائیں گے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔”
جمعہ کا یہ اعلان امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کی سمت میں ٹرمپ کی تازہ ترین کوشش ہے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے سیاسی نتائج اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر اس کے اثرات سے نمٹنے میں کئی مہینوں سے مصروف ہیں، جس کا آغاز فروری میں ہوا تھا۔ اس تنازع کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور بالخصوص ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت کو دھکا لگا ہے؛ لوگ پمپوں پر بلند قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شدید پریشان ہیں۔
اے اے اے کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت فی الحال 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو کہ ستمبر کے آخر میں درج کیے گئے 6.53 ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح سے کچھ کم ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراََ بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے باضابطہ طور پر ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا، جس سے روسی ڈیزل کی مارکیٹ میں آمد کی راہ ہموار ہو گئی۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
