ہندوستان
ملک میں کورونا سے متاثرہ 17164 مریض صحت یاب، فعال کیسز چھ ہزار سے کم
نئی دہلی، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے متاثرہ 1219 مریضوں کے صحت یاب ہونے کے ساتھ ہی جمعرات کو اس وائرس سے نجات پانے والوں کی تعداد 17164 تک پہنچ گئی اور کل فعال کیسز کی تعداد 5976 رہ گئی اس مدت میں تین اور مریضوں کی موت سے ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر 116 ہو گئی واضح رہے کہ گزشتہ 22 مئی کو ملک میں کورونا کے صرف 257 فعال کیسز تھے۔
مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی طرف سے آج جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے متاثرہ تین اور مریضوں کی موت ہونے سے ہلاک شدگان کا اعداد و شمار 116 تک پہنچ گیا۔ اس مدت میں دہلی میں دو اور مریض کی موت ہونے سے دارالحکومت میں ہلاک شدگان کی تعداد 15 ہو گئی۔ کیرالہ میں ایک اور مریض کی موت ہونے سے اس ریاست میں ہلاک شدگان کی کل تعداد 37 ہو گئی ہے۔
اس مدت میں جہاں 12 ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا، وہیں 10 ریاستوں میں فعال کیسز میں کمی آئی ہے۔ جبکہ دیگر ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں سے کورونا انفیکشن کے کیسز موصول نہیں ہوئے ہیں۔
صحت کے حکام کے مطابق نئے ابھرتے ہوئے ویریئنٹس، خاص طور پر ایل ایف.7، ایکس ایف جی، جے این.1 اور حال ہی میں شناخت شدہ این بی.1.8.1 سب ویریئنٹ کی وجہ سے انفیکشن ہو رہا ہے۔ ان ویریئنٹس کی جانچ جاری ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 32 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں کورونا کے فعال کیسز کم ہونے اور بڑھنے کے کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ تین ریاستوں میزورم، ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش میں کورونا انفیکشن کا فی الحال کوئی فعال کیس نہیں ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق انفیکشن کے کیسز میں کیرالہ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، حالانکہ آج صبح تک 75 فعال کیسز کم ہونے کے ساتھ اس کا اعداد و شمار 1309 رہ گیا۔ قومی دارالحکومت میں 12 کیسز بڑھنے سے متاثرین کی کل تعداد بڑھ کر 632 ہو گئی۔ مہاراشٹر میں 46 کیسز کم ہونے سے فعال کیسز کی کل تعداد کم ہو کر 443 رہ گئی اور گجرات میں 59 کیسز کم ہونے سے کل تعداد کم ہو کر 1046 رہ گئی ہے۔
اس کے علاوہ مغربی بنگال کا تازہ ترین اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے، لیکن وہاں کورونا فعال کیسز 747 ہیں۔ کرناٹک میں 146 کیسز کم ہونے سے کل فعال کیسز 466 رہ گئے۔ تمل ناڈو میں 187، اتر پردیش میں 257، راجستھان میں 219، ہریانہ میں 106، مدھیہ پردیش میں 131، آندھرا پردیش میں 49، اوڈیشہ میں 52، چھتیس گڑھ میں 56، بہار میں 37، سکم میں 57، پنجاب میں 47، جھارکھنڈ میں 21، آسام میں 30، منی پور میں 35، جموں و کشمیر میں 15، تلنگانہ میں نو، پڈوچیری میں چھ، گوا اور لداخ میں پانچ پانچ، اتر کھنڈ میں تین، تریپورہ میں چار، چنڈی گڑھ اور ناگالینڈ میں ایک ایک فعال کیسز ہیں۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
