ہندوستان
مودی نے بحریہ کےجوانوں کے ساتھ منائی دیوالی ، کہا : آئی این ایس وکرانت ہندوستان کی فوجی صلاحیت کا مظہر ہے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نےملک میں ہی تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت کو’ آتم نربھر بھارت‘ اور ’میک اِن انڈیا‘ کی عظیم علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جہاز ہندوستان کی فوجی صلاحیت کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی این ایس وکرانت صرف ایک جنگی جہاز نہیں ہے بلکہ اکیسویں صدی کے ہندوستان کی محنت، دبدبے اورعہد بستگی کی علامت ہے اور اس کے خوف سے ہی پاکستان نے آپریشن سندور کے دوران گھٹنے ٹیک دیے تھے۔
ہر سال فوجی جوانوں کے درمیان دیپوں کا تہوار دیوالی منانے کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اس بار وزیر اعظم مودی گوا کے ساحل اور کاروار بحری اڈے پر واقع آئی این ایس وکرانت پر پہنچے اور وہاں بحریہ کےجاںبازوں کے ساتھ دیوالی منائی۔
بحریہ کے افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بحریہ اور آئی این ایس وکرانت کو ہندوستان کی سمندری سرحدوں کا محافظ اور نگہبان قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’ وکرانت بہت عظیم، وسیع اور شاندار ہے۔ وکرانت مخصوص نوعیت کا ہے اور خاص بھی ہے۔
وکرانت صرف ایک جنگی جہاز نہیں، بلکہ اکیسویں صدی کے ہندوستان کی محنت، دبدبے اورعہد بستگی کا ثبوت ہے۔
آئی این ایس وکرانت آج ’آتم نربھر بھارت‘ اور’ میک اِن انڈیا‘ کی ایک بہت بڑی علامت ہے۔‘‘
وکرانت کو ہندوستان کی فوجی طاقت کا مظہر قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران اس کے خوف سے پاکستان گھنٹے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔
انہوں نے کہا، ’’سمندر کو چیرتا ہوا سودیشی طیارہ بردار آئی این ایس وکرانت ہندوستان کی فوجی صلاحیت کا مظہر ہے۔
ہندوستانی بحریہ کے ذریعے پیدا کردہ خوف ، ہندوستانی فضائیہ کی شاندار مہارت اور ہندوستانی فوج کی بہادری نے آپریشن سندور میں پاکستان کو بہت جلد ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستانی مسلح افواج نے خود انحصاری کی سمت میں تیزی سے قدم بڑھایا ہے اور ہمارا کا مقصد ہندوستان کو دنیا کے سرفہرست دفاعی برآمد کاروں میں شامل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’گزشتہ ایک دہائی سے ہماری افواج تیزی سے خود انحصاری کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
ہماری فوجوں نے ہزاروں ایسے آلات کی فہرست تیار کی ہے جنہیں اب بیرونِ ملک سے نہیں منگوایا جائے گا۔
ہمارا ہدف ہے کہ ہندوستان پوری دنیا کے اعلیٰ دفاعی برآمد کار ممالک میں شمار ہو۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے ہندوستانی بحریہ کو بحر ہند کا محافظ قرار دیتے ہوئے کہا،’’ہندوستانی بحریہ بحرِ ہند کی حفاظت پر تعینات ایک نگہبان کی طرح ہے۔‘‘
انہوں نے سکیورٹی فورسز کی بہادری اور شجاعت کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے عزم و حوصلے کی بدولت ملک میں نکسلی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری سکیورٹی فورسز کے عزم و شجاعت کی بدولت ملک نے گزشتہ برسوں میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی ہے — اور وہ ہے نکسلی دہشت گردی کا خاتمہ۔‘‘
اس موقع پر آئی این ایس وکرانت پر لڑاکا طیاروں نے فضائیہ کی طاقت کا شاندار مظاہرہ کیا اور ثقافتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
اس موقع پربحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش تریپاٹھی اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یو این آئی- م ک۔ایس وائی۔
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
