تازہ ترین
جموں وکشمیر کی سوا کروڑ آبادی گھروں میں مقید
جموں وکشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن کے دوسرے اور مجموعی طور پر 6روز منگلوار کو بھی معمولات زندگی ٹھپ رہے جبکہ سوا کروڑ کی آبادی گھروں میں مقید ہو کر رہ گئی۔تاہم طبی ماہرین و معالجین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے محفوظ رہنا کا واحد راستہ گھروں میں بیٹھ اسکی زنجیر کو توڑ نا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر کے سبھی اضلاع میں سختی کیساتھ بندشیں اور پابندیاں عائد رہیں۔پولیس گاڑیوں کے ذریعے لاؤڈ اسپیکروں سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کے اعلانات کئے گئے۔
شہر سرینگر سمیت قصبہ جات میں لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو روکنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور خار دار تاروں سے علاقوں،سڑکوں،پلوں کو مکمل طور سیل کیا گیا۔صرف لازمی خدمات سے وابستہ گاڑیوں اور افراد کو ہی پوچھ تاچھ کے بعد ایک جگہ سے دوسرے مقام کی اور آنے جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔پوری وادی میں سبھی چھوٹے بڑے بازاربند رہے،تجارتی مراکز،کاروباری اداروں اور ہر طرح کے دکانات پر تالے چڑھے رہے۔سڑکوں اور شاہراہوں سے پبلک ونجی ٹرانسپورٹ غائب رہا۔چہار سو وادی میں سنا ٹا،ویرانی اور سنسانی نظر آرہی تھی۔
سرینگر،بڈگام،گاندر بل،پلوامہ،کولگام،اننت ناگ،شوپیان،کپوارہ،بانڈیپورہ اور بارہمولہ میں لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کیلئے پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔وادی کشمیر میں ریل سروس اور انٹر ااسٹیٹ ٹرانسپورٹ کو 31مارچ تک معطل رکھنے کے احکامات پہلے جاری ہوگئے ہیں،جسکی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کی سر گرمیاں ٹھپ رہیں۔وادی کشمیر میں 31مارچ تک تعلیمی ادارے،عوامی وتفریحی پارکیں وصحت افزاء مقامات،کلبس اور رستوران وہوٹل بھی بند رہیں گے۔یاد رہے کہ وادی کشمیر میں جمعرات کو اُس وقت بندشیں عائد کی گئیں جب خیام سرینگر سے تعلق رکھنے والی67سالہ خاتون کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا۔مذکورہ خاتون 16مارچ کو عمر ہ کی ادائیگی کے بعد کشمیر وارد ہوئی تھیں۔
تاہم تاحال کشمیر میں ایک مثبت کیس سامنے آیا ہے۔اس دوران کئی جگہوں پر سماجی دوریاں اختیار کرنے کیلئے پولیس نے ادویات،اے ٹی ایم مشینوں اور دگر لازمی خدمات کے مقامات پر نشانات ڈالے،تاکہ سوشل فاصلے کو یقینی بنایا جاسکے۔سرکاری احکامات کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں جموں،اننت ناگ اور دیگر کئی مقامات پر دکانوں اور دیگر کارو باری مراکز کو سربمہر کردیا گیا۔ ادھر جموں و کشمیر پولیس نے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے والے 89افراد کو گرفتار کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ضلع سرینگر میں 3، سوپور میں 10، ہندوارہ میں 35، اننت ناگ میں ایک اور کولگام ضلع میں 20افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ہندوارہ میں 23گاڑیوں کی ضبط کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر میں گزشتہ چار روز سے انتظامیہ نے دفعہ 144نافذ کرکے سخت ترین بندشیں عائد کی ہیں۔کشمیر میں پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں اور گلیاروں میں تعینات ہیں۔جموں و کشمیر میں 4300افراد کو گھروں یا قرنطینہ مراکز میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔
جنوبی قصبہ ترال میں پولیس نے اپنے گھر میں دو درجن سے زائد غیر ریاستی مزدوروں کو پناہ دینے پر ایک مقامی شہری ارشد حسین ڈار ولد غلام محمد ساکن ہردومیر ترال کوگرفتار کر لیا ہے۔یاد رہے کہ جموں میں سوموار کو جموں وکشمیر کے چیف سیکریٹری کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی تھی،جس میں کورونا وائرس کی روک تھام سے متعلق کئی اہم فیصلے لئے گئے۔کو رونا وائرس کے پھیلاؤ سے لڑنے کیلئے سبھی ضلع ترقیاتی کمشنروں کو 40کروڑ روپے کی اضافی رقم واگزار کی گئی۔
پنجاب،ہماچل پردیش اور لداخ کیساتھ لگنے والی جموں وکشمیر کی سرحدیں مکمل طور پر سیل کردی گئیں جبکہ انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کی گئی،اس کے علاوہ دو ماہ کیلئے پیشگی راشن کی واگزار ی کی بھی ہدایت دی گئی۔چیف سیکریٹری خاص طور پر ہدایت دی ہے کہ انٹری پوائنٹس (داخلہ مراکز) پر سخت چیکنگ اور اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے جبکہ ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،جو دیگر لوگوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
