تازہ ترین
نئے ڈومیسائل قانون پر سیاسی ردِ عمل
نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے بھی ڈومیسائل قوانین پر عمل در;200;مد کے اس اقدام کی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے قانون کو’کھوکھلا‘قرار دیا اور کہا کہ یہ وہ تحفظات نہیں دیتا جس کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا ’;200;پ تصور کرسکتے ہیں کہ ڈومیسائل قانون اس حقیقت سے کتنا کھوکھلا ہے کہ کہ دہلی کی حمایت سے بننے والی نئی پارٹی ڈومیسائل قانون پر تنقید کرنے پر مجبور ہوگئی ہے، جس نے اس قانون کے لئے لابنگ کی تھی‘ ۔ ادھرجموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے بدھ کے روز مرکزی حکومتکی جانب سے جموں و کشمیر کے لئے ڈومیسائل قانون کے نفاذ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کووڈ ۔ 19وباختم ہونے تک اس حکم کو ملتوی کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس طرح کا اہم حکم ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب پورا ملک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور مہلک کورونا وائرس کے پھیلا وکو روکنے کے لئے لاک ڈاون میں ہے ۔ اس دوران نیشنل کانفرنس نے حکومت ہند کی طرف سے جموں وکشمیر کے عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے متعارف کئے گئے اقامتی قانون کو کھوکھلا اور ناقابل قبول قرار دیا ہے ۔ پارٹی کے ترجمانِ اعلیٰ آغا سید روح اللہ مہدی نے اپنے ایک بیان میں متعارف شدہ قانون کو بھونڈا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی لوگوں کیلئے صرف درجہ چہارم کے اسامیان مخصوص رکھی گئی ہیں ، اس سے زیادہ بے عزتی کی کیا بات ہوسکتی ہے ۔
15سال جموں وکشمیر میں قیام پذیر رہنے والوں کو اقامتی زمرے میں لانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ اس کا مقصد جموں و کشمیر کا آبادیاتی تناسب بگاڑنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہاں تعینات مرکزی حکومت کے ملازمین ،پی ایس یو ز اور مہاجرین کے بچے بھی اب یہاں ملازمتیں حاصل کرنے کے اہل ہونگے اور ایسے میں مقامی آبادی کیلئے برائے نام اسامیاں رہ جائیں گی ۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے یہ قانون کتنا ظالمانہ ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کے کسی بھی حصے کا شہری محض 7سال یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈوماسائل کیلئے رجوع کرسکتا ہے اور نوکری حاصل کرنے کا اہل بن سکتا ہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دوسری ریاستوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کو بھی اس طرح کے حقوق حاصل ہوں ;238;قانون متعارف کرنے کے وقت کو زخموں پر نمک پاشی قرار دیتے ہوئے این سی ترجمانِ اعلیٰ نے کہا کہ جب پورا ملک کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے لڑرہا ہے اور جموں وکشمیر کے عوام اور اُن کے نمائندے اپنے کنبوں اور لوگوں سے متعلق تشویش اور فکر میں مبتلا ہیں ، ایسے وقت میں حکومت ہند کی طرف سے قانون سامنے لانا خود به خود اپنی مشکوکیت بیان کرتا ہے ۔ نئی دلی یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ اس وقت لوگ ;67;ovid-19کی عالمگیر وباء سے پیدا شدہ صورتحال سے پریشانیوں ، مصائب اور مشکلات سے دوچار ہیں اور وہ اس وقت اس جانب کوئی توجہ نہیں دیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کے یہ اقدام بظاہر عوام کیساتھ دھوکہ اور فریب ہیں ۔
اقامتی قانون کو مسترد کرتے ہوئے این سی ترجمان نے کہا کہ ہماچل پردیش اور دیگر ریاستوں میں ڈومیسائل قانون کے تحت زمین کے حقوق محفوظ رکھے گئے ہیں جبکہ جموں و کشمیر اقامتی قانون میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ اس قانون میں جموں وکشمیر کے عوام کی زمینوں کے تحفظ کی کوئی بات نہیں ۔
نیشنل کانفرنس نے اس بات پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا کہ ڈومیسائل کی اجرائی میں کسی بھی قسم کی تحقیق کا طریقہ کار نہیں رکھا گیا ہے اورایک تحصیلدار سطح کا ایک آفیسر اقامتی سرٹیفکیٹ اجراء کرنے کا اہل ہوگا ۔ مرکزی حکومت کی دوغلی پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ نے کہا جہاں ملک میں 70سال سے قیام پذیر لوگوں کو شہریت ثابت کرنے کیلئے کہا جارہا ہے وہیں جموں وکشمیر میں 10سے 15سال قیام کرنے والوں کو شہری حقوق دیئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک اب بھی جاری رکھا ہے ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
