تازہ ترین
وادی میں انرنیٹ بندش: کتب اور دیگر تفریحی سامان کی خریدادی میں اضافہ
خبراردو ڈیسک:
محمد فاروق ہر روز سرینگر کے امیرا کدل علاقے میں ایک جگہ پر صبح کو ہی اپنی لگائی گئی پٹری پر سی ڈیز بیچتے ہیں ۔ اور اس کی وجہ کشمیر میں چار ماہ سے انٹرنیٹ سروس بند ہے اور لوگوں کے پاس کوئی بھی تفریحی سامان میسر نہیں ہے ۔
فاروق کہتے ہیں کہ ۵ اگست سے پہلے وہ پورے دن میں کچھ سی ڈیز (کمپیکٹ ڈیسکس ) بیچ پاتے تھے ،کیوں کہ لوگ خاص کر نوجوان انٹرنیٹ پر اپنی مرضی سے جو بھی انہیں دیکھنا تھا ، دیکھ لیتے تھے ، اور مجھے گھر کا خرچہ برابر کرنے کےلئے اور بھی دیگر سامان بیچنے کےلئے رکھنا پڑتا تھا ۔ لیکن اب میری پٹری پر لوگوں کی بھیڑ بھی جمع ہوتی ہے، سی ڈیز کی خریداری میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ لوگ ہندی ، انگریزی فلموں کی سی ڈیز کے علاوہ گانوں کی سی ڈیز بھی خریدتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ” زیادہ سے زیادہ سی ڈیز بیچنے کےلئے میں نے نئی فلموں اور گانوں کی سی ڈیز بھی رکھی ہیں “۔
وہاں موجود ایک گاہک جو اپنی پسندیدہ فلمی کیسٹ کی تلاش کر رہے تھے۔اس کے اس کام میں ہم نے کچھ سیکنڈ کےلئے روک لگاتے ہوئے اس سے جب سی ڈیز خریدنے کے متعلق بات کی تو اس نے کہا کہ ”میں دن کو کام کرتا ہوں،اور شام کو تھکان دور کرنے کےلئے میں اپنے فون پر ہی فلمیں دیکھتا تھا لیکن اب انٹرنیٹ نہیں شروع ہوا تو میں سی ڈیز ہی سے لفط اندوز ہونا چاہتا ہوں“۔
آپ کو بتاد یں جموں کشمیر میں انٹرنیٹ سروس ۵ اگست سے بند ہے ۔ اور تب سے ۱۳۶ روز ہو گئے ہیں ۔
انٹرنیٹ بندشوں پر رپورٹ جمع کرنے والی دلی میں موجود ایک سافٹ وئر فریڈم لاءسینٹر(SFLC) کے مطابق جموں کشمیر میں رواں سال ۵۵ مرتبہ انتظامیہ کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کو منسوخ کر دیا گیا ۔ اسکے بعد راجھستان میں ۱۱ مرتبہ انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ۔
ایک طرف کشمیر میں لوگوں نے انٹرنیٹ بندش سے پرانے تفریحی سامان کی جانب پھر سے رخ کیا ہے ۔ وہیں دوسری جانب سے اب لوگ کتابوں کی دکانوں کا رخ کرنے لگے ہیں اور اس میں بھی سرینگر میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔
لالچوک میں ایک کتب فروش نے کہا کہ ” ۵ اگست کے بعد سے لوگ زیادہ تعداد ان کی دکان کا رخ کر رہے ہیں اور زیادہ تر لوگ کشمیر کے متعلق ہی کتابوں کو خرید رہے ہیں“ ۔
دوسری جانب سے ایک شخص جو اپنے بچوں کے لئے ناول کی کتب خرید رہے تھے نے کہا کہ ” انٹرنیٹ بندش سے مجھے کسی حد تک فائد ہ ہی ہوا جہاں بچے میرے فون پر ہمیشہ کارٹون کے ویڈیوز دیکھتے تھے اور کتابوں میں دلچسپی کم دیکھاتے تھے وہیں اب جبکہ انٹرنیٹ نہیں ہیں ، میرے بچے پڑھائی کی طرف مائل ہوئے ہیں “۔
وادی میں بہت حد تک مطالعہ کتب کا رواج انٹرنیٹ کے پھیلاﺅ سے کافی حد تک غائب ہوا تھا ، کیوں کہ نوجوان طلبہ وطالبات آن لائن ہی اپنا تعلیمی مواد ڈاون لوڈ کر کے پڑھتے تھے ، جبکہ کتب کے لئے پی ڈی ایف فائلیں بھی آن لائن مہیا ہیں ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
