تازہ ترین
وادی کشمیر میں لاک ڈاؤن 8واں دن،ملک گیر سطح پر دوسرا
وادی کشمیر میں عالمی وبا کورونا وائرس کے خلاف جاری لاک ڈاؤن کے 8ویں روز جمعرات کو بھی لوگوں کی کلہم آبادی گھروں تک ہی محدود رہی جبکہ اس دوران ضوابط وقوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی عمل بھی عمل میں لائی،جس دوران صرف او نتی پورہ میں 40افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ کئی افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کئے گئے۔اس دوران وادی کشمیر میں جمعہ اجتماعات ے پیش نظر جمعرات کو سرینگر میں سبھی عبادت گاہیں بند رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے شروع کئے لاک ڈاؤن کا سلسلہ جمعرات کو مسلسل8ویں روز بھی جاری رہا۔ادھر ملک گیر سطح پر شروع کئے گئے لاک ڈاؤن کا جمعرات کو دوسرا دن مکمل ہوا۔وادی کشمیر میں مسلسل آٹھویں روز بھی مکمل طور پر لاک ڈاؤن رہا۔ہر سو ہو کا عالم ہے جبکہ لاک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کرنے کیلئے تعینات پولیس وفورسز اہلکاروں نے گذشتہ دنوں کے مقابلوں میں کافی سختی کیساتھ لاک ڈاؤن کو نافذ کیا۔
اس دوران خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔او نتی پورہ میں 40افراد کو خلاف ورزی کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ادھرکورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے ضلع انتظامیہ سری نگر نے ضلع میں مساجد و گردواروں سمیت تمام عبادت گاہوں کو بند رکھنے کا حکمنامہ جاری کردیا ہے۔اونتی پورہ اور گاندربل پولیس نے سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ستارہ افراد کو گرفتارکرکے ان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس انداج کئے۔ اونتی پورہ پولیس نے سرکاری احکامات کی خلاف وازی کر نے والے چودہ افرادوں کے خلاف کیس ایف ائی ار نمبر 38/2020 کو متعلقہ دفعات کے تحت اندراج کر کے گرفتارکیا۔ اسی طرح سے گاندربل پولیس نے گاندربل علاقے سے تین افراد کو گرفتارکیا جنہوں نے سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔ پولیس نے ان کے خلاف ایف ائی 59/2020 کو متعلقہ دفعات کے تحت انداج کیاگیا۔
اونتی پورہ اورگاندربل پولیس کی جانب سے عوام الناس سے گزارش کی جاتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں والڈ ہلتھ آرگنزیشن کی دئے گئے رونموائے خطوط پر عمل در آمد کریں تاکہ لوگ کورونا وائرس سے بچ جائے۔ لوگ پولیس کی تعاون کریں تاکہ اس مہلوک وائرس سے بچاجائے۔ پولیس لوگوں کے خاطر ایسے اقدامات اُٹھارہی ہے۔ضلع مجسٹریٹ سری نگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے اس سلسلے میں اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’انتظامیہ کمیٹیوں کے بھر پور تعاون سے سری نگر میں تمام عبادت گاہوں کو بند کیا جارہا ہے، مقدس زیارت گاہیں حضرت بل اور نقش بند صاحب نشان راہ بن گئے، گھروں میں ہی بیٹھے رہیں‘۔
سرکاری ترجمان کے مطابق تمام بڑی مساجد و گردواروں کی انتظامیہ کمیٹیاں ضلع انتظامیہ کے اس فیصلے کے ساتھ متفق ہیں اور ضروری تعاون فراہم کررہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ متعلقہ افسران ضلع کے گوشہ وکنار میں جاکر مساجد، گردواروں، مندروں اور گرجا گھروں کو بند کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔موصوف ضلع مجسٹریٹ نے عبادت گاہوں کی انتظامیہ کمیٹیوں اور لوگوں سے ضلع انتظامیہ کے اس فیصلے کو عمل میں لانے کے لئے تعاون فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ مشکل ضرور ہے لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر ناگزیر بھی ہے۔پائین شہر کے نوہٹہ علاقے میں واقع قدیم تاریخی جامع مسجد کا انتظام و انصرام چلانے والی انجمن اوقاف نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات کے پیش نظر فی الحال جامع مسجد میں تمام اجتماعی نمازیں موقوف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کر رکھی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں قیام کرکے وہیں پر نمازوں کا اہتمام کریں۔انجمن اوقاف جس کی سربراہی گھر میں مسلسل نظر بند میرواعظ مولوی عمر فاروق کررہے ہیں، نے 24 مارچ کو جاری ایک بیان میں لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ موجودہ غیر معمولی، بحرانی اور سنگین حالات میں احتیاطی اقدامات پر مکمل عمل کریں اور اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر بھر پور توکل اور بھروسہ کرکے پوری انسانیت کی حفاظت اور سلامتی کے لئے بارگاہ خداوندی میں گھر پر توبہ و استغفار اور دعاؤں کا اہتمام جاری رکھیں۔
انجمن اوقاف جامع مسجد سے قبل بھی بعض مذہبی جماعتوں نے مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں میں اجتماعات منعقد نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس دوران کشمیرکے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے جمعرات کو کہا کہ لوگوں کو مساجد میں نماز جمعہ پڑھنے سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پوری کشمیر کے ائمہ اور خطباسمیت تمام لوگوں اور مساجد کے منتظمین سے میری عاجزانہ اپیل ہے کہ وہ جمعہ کی اجتماعی نماز سے احتراز کریں۔انہوں نے کہا کہ مسجد کے معززین سمیت صرف تین افراد مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز پڑھیں، باقی لوگوں کو گھر میں ہی نماز پڑھنی چاہئے۔کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثر شخص کی موت کے بعد انتظامیہ نے شہر میں جمعرات سے تمام مذہبی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ضلع مجسٹریٹ سرینگر شاہد چودھری نے اس ضمن میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذہبی اداروں نے منتظمین سے صلاح و مشورہ کرکے ان اداروں کو احتیاطی تدابیر کے تحت بند کیا گیا ہے۔انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ سرینگر میں نقشبند صاحب، خانقاہ، دیگر مساجد اور گرو دواروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں احتجاج پر پابندیوں کو لے کر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں کا کشمیر سے موازنہ
سری نگر، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل نئی دہلی کے بعض علاقوں میں عائد پابندیوں پر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں نے ہفتہ کو تنقید کی اور ان کا موازنہ جموں و کشمیر میں عائد کی جانے والی پابندیوں سے کیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کی شام کہا کہ ”کشمیر ماڈل” کو قومی دارالحکومت دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل وسطی دہلی میں انٹرنیٹ خدمات بند کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
عمر عبداللہ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ ”کشمیر ماڈل کو دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ نئے جموں و کشمیر کے طرز پر بنائی گئی نئی دہلی میں آپ کا خیرمقدم ہے۔”
مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات 24 گھنٹے کے لیے معطل کرنے کی اجازت دی تھی۔
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ہفتہ کو دہلی کے حالات کا موازنہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں عائد پابندیوں سے کیا۔
محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو یاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بعد میں حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھاکہ ”آج کی دہلی، دفعہ 370 کی غیر آئینی منسوخی کے بعد کے کشمیر کی ایک خوف ناک یاد دلاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں بند کردیا گیا تھا، انٹرنیٹ بند کردیا گیا تھا اور پورے خطے کا محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ اس وقت بی جے پی نے ڈھٹائی سے دعویٰ کیا تھا کہ کسی نے احتجاج نہیں کیا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ”آج جب دہلی کا محاصرہ کیا گیا ہے، ٹرینیں روک دی گئی ہیں اور جنتر منتر جانے والی سڑکیں بند کردی گئی ہیں، تو وہ دوبارہ یہی جھوٹ دہرا سکتے ہیں کہ گیانیش کمار کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پہلے احتجاج کو کچل دو، پھر اس سے انکار کردو کہ ایسا کبھی ہوا بھی تھا۔ جبری خاموشی کو رضامندی کے طور پر پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے۔”
جموں و کشمیر کے سرکردہ سیاست دانوں کے یہ بیانات قومی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں جنتر منتر جانے والی سڑکوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی ۔ ظ ا
دنیا
ایندھن کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر امریکہ روس سے ڈیزل درآمد کرے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکہ میں ایندھن کی قیمتں کم کرنے کے دباؤ بڑھنے کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن “امریکی اور عالمی مارکیٹ” کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، جس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز اٹھائے گئے اس قدم سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “ایک ایسی جنگ میں سرمایہ کاری ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے، نہ کہ طویل کھینچا جانا چاہیے۔”
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی ٹریژری 7 اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندیوں کو ہٹا رہی ہے، لیکن امریکی بینکوں میں موجود دیگر اثاثے ابھی بھی منجمد ہیں۔
اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس کی جانب سے مزید تیس لاکھ ٹن ڈیزل “کم وقت میں” دستیاب کرایا جائے گا، جو وہاں کی ریفائنریز کی صورتحال پر منحصر ہوگا جن پر یوکرین نے حملے کیے ہیں۔
بعد میں پوتن نے کہا کہ روس-جس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی-امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بیان میں مقدار کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تاہم، تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، اور ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔
دریں اثنا، برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا مؤقف “بالکل واضح” ہے اور وہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
“ہم برطانیہ کی جانب سے اب تک عائد کردہ سخت ترین پابندیوں کے ذریعے روس پر دباؤ برقرار رکھیں گے، پوتن کی جارحیت کی قیمت بڑھائیں گے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔”
جمعہ کا یہ اعلان امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کی سمت میں ٹرمپ کی تازہ ترین کوشش ہے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے سیاسی نتائج اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر اس کے اثرات سے نمٹنے میں کئی مہینوں سے مصروف ہیں، جس کا آغاز فروری میں ہوا تھا۔ اس تنازع کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور بالخصوص ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت کو دھکا لگا ہے؛ لوگ پمپوں پر بلند قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شدید پریشان ہیں۔
اے اے اے کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت فی الحال 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو کہ ستمبر کے آخر میں درج کیے گئے 6.53 ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح سے کچھ کم ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراََ بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے باضابطہ طور پر ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا، جس سے روسی ڈیزل کی مارکیٹ میں آمد کی راہ ہموار ہو گئی۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
