تازہ ترین
وادی کشمیر کا شعبہ سیاحت وینٹی لیٹر پر
سیکیورٹی،کورنا لاک ڈاؤن نے توڑی کمر
13ماہ کے دوران شعبہ کو1168کروڑ روپے کا خسارہ،500 سے کم سیاح واردِ کشمیر
خبراردوِ:-
سرینگر:دفعہ370کی تنسیخ کے بعد وادی کشمیر کا سیاحتی شعبہ اور اس سے جڑے ادارے آخری سانسیں لے رہے ہیں۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ13ماہ کے دوران 500سے بھی کم سیاحوں نے کشمیر کا رُخ کیا۔
کشمیر نیوز سروس کو با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 5اگست2019کے ما بعد اب تک وادی کشمیر میں 500سے بھی کم سیاح سیر وتفریح کی غرض سے وارد کشمیر ہوئے ہیں۔محکمانہ ذرائع نے بتایا کہ دفعہ370کی تنسیخ اور کووڈ۔19وبائی مرض نے اس شعبے کی کمر توڑ کر رکھ دی اور شعبہ فی الوقت وینٹی لیٹر آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔
ذرائع کے بقول اگست2019میں سابق ریاست جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے اورمابعد امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے 8ماہ پر محیط سرکار کی جانب سے احتیاطی مجموعی بندشوں نے شعبہ سیاحت اور اس سے وابستہ اداروں کے کام کاج کو شدید متاثر کیا۔
محکمانہ ذرائع کے بقول اس عرصے کے دوران شعبہ سیاحت سے جڑے افراد کو بڑے پیمانے پر مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا جسکے نتیجے میں قریباً3لاکھ کے قریب افراد کا روزگار متاثر ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ خصوصی درجے کے خاتمے کے بعد عائد کی گئیں بندشوں کے بعد اس بات کا قوی امکان تھا کہ شعبہ سیاحت دوبارہ اپنی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں کامیاب ہو گا،تاہم مارچ کے وسط میں کووڈ۔19وبائی مرض نے اس تابوت میں آخری کھیل ٹھوک دی۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جن بے روزگاروں نے مختلف مالیاتی اداروں سے قرضہ جات حاصل کرکے شعبہ سیاحت سے منسلک کاروباری میں سر مایہ کاری کی،وہ سر کے بل لڑھک گئے۔انہوں نے کہا کہ وبائی مرض پھوٹ پڑنے کے بعد انتظامیہ نے جو احتیاطی لاک ڈاؤن نافذ العمل کیا،اُس نے اس شعبہ کے مستقبل پر سوالیہ لگایا۔ایک نجی ٹروال آپریٹر محمد سلیم نے بتایا کہ انہوں نے شعبہ سیاحت میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مالیاتی ادارے کی جانب رجوع کیا اور وہاں سے قرضہ حاصل کرنے کے بعد چند برس قبلاپنا ایک اسٹارٹپ شروع کیا،تاہم گزشتہ13مہینوں پر مشتمل غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے محمد سلیم کا مستقبل تاریک تر دکھائی دے رہا ہے۔
خیال رہے کہ 3اگست2019کو اُس وقت کی گورنر انتظامیہ نے وادی کشمیر میں مقیم ملکی وغیر ملکی سیاحوں کو فوری طور پر اپنا کشمیر دورہ سمیٹنے کی ہدایت کی،جسکے ساتھ ہی وادی کشمیر میں عوامی وسیاسی حلقوں کے اندر اضطرابی کیفیت نے مزید جنم لینا شروع کردیا۔ادھر ذرائع سے معلوم دفعہ370منسوخ ہونے کے بعد سے اب تک شعبہ سیاحت کو1168کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ سال2019میں ہی ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی شرح میں 34فیصد کمی آگئی۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
