جموں و کشمیر
وزیراعظم مودی کی امریکی صدر کیساتھ 35منٹ تک ٹیلی فونک بات چیت
پاکستان کےساتھ دوطرفہ معاملات پر ثالثی
ہندوستان نے کبھی قبول نہیں کی اور نہ ہی کبھی قبول کرے گا
ڈونالڈٹرمپ کو’ کواڈ کے اگلے سربراہی اجلاس‘ کےلئے ہندوستان آنے کی دعوت دی
سری نگر: جے کے این ایس : آپریشن سندور کے بعد پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی۔ اس دوران دونوں رہنماو ں کے درمیان کئی اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ بھارت نے دہشت گردی پر اپنا موقف پیش کیا۔خارجہ سکریٹری وکرم مسری کے مطابق بات چیت کے دوران وزیراعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو آپریشن سندور کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ انہوں نے’ کواڈ سمٹ‘ میں شرکت کے لیے ہندوستان آنے کی دعوت بھی دی۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے بدھ کو بتایاکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کینیڈا میں منعقد ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کےساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی۔ آدھے گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بات چیت کے دوران، وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر کو ہندوستان کے آپریشن سندھ کے بارے میں آگاہ کیا اور مضبوطی سے یہ پیغام دیا کہ ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ معاملات پر ثالثی کو کبھی قبول نہیں کیا اور نہ ہی قبول کرے گا ۔سکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کی ملاقات ہونی تھی لیکن صدر ٹرمپ کو قبل از وقت امریکہ واپس آنا پڑا جس کی وجہ سے یہ ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد امریکی صدر کی درخواست پر دونوں رہنماو ¿ں نے بدھ کو فون پر بات کی۔دونوں رہنماو ¿ں نے تقریباً 35 منٹ تک بات چیت کی۔ خبررساں ادارے اے این آئی،کے مطابق وکرم مصری نے نوٹ کیاکہ وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا کہ اس پورے واقعہ کے دوران، کسی بھی وقت، کسی بھی سطح پر، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہندوستان،امریکہ تجارتی معاہدے یا امریکہ کی طرف سے ثالثی جیسے مسائل پر بات نہیں ہوئی۔ فوجی کارروائی کو روکنے پر براہ راست ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی گئی، دونوں فوجوں کے موجودہ چینلز کے ذریعے، اور یہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہاکہ وزیر اعظم مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان نے کبھی ثالثی کو قبول نہیں کیا، نہ اسے قبول کرتا ہے اور نہ ہی اسے کبھی قبول کرے گا۔ اس معاملے پر ہندوستان میں مکمل سیاسی اتفاق رائے ہے۔سیکرٹری خارجہ کے مطابق بات چیت کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیراعظم مودی سے پوچھا کہ کیا وہ کینیڈا سے واپسی پر امریکہ میں رکیں گے؟ وزیراعظم مودی نے پیشگی وعدوں کی وجہ سے ایسا کرنے میں اپنی مجبوری کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماو ¿ں نے فیصلہ کیا کہ وہ مستقبل قریب میں ملاقات کی کوشش کریں گے۔سکریٹری خارجہ وکرم مسری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کو کواڈ کی اگلی میٹنگ کے لیے ہندوستان آنے کی دعوت دی۔ دعوت قبول کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہندوستان کے دورے کے لیے پرجوش ہیں۔مصری نے بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم کے تفصیلی نکات کو سمجھا اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کی حمایت کا اظہار کیا۔وکرم مصری نے کہاکہ 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی سے فون پر تعزیت کا اظہار کیا تھا اور دہشت گردی کے خلاف حمایت کا اظہار کیا تھا۔ تب سے، یہ دونوں رہنماو ¿ں کے درمیان پہلی بات چیت تھی ۔وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ سے آپریشن سندور کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو واضح طور پر کہا کہ 22 اپریل کے بعد ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے اپنے عزم کے بارے میں پوری دنیا کو بتا دیا ہے۔ (اے این آئی)
جموں و کشمیر
سوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے سوپور سب ڈویژن میں ہفتہ کے روز پولیس نے جنگلاتی علاقے سے اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا۔
پولیس کے مطابق، مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سوپور پولیس نے مکہم چرہار کے جنگلاتی علاقے میں محاصرہ اور تلاشی کی کارروائی (کاسو) شروع کی۔ یہ علاقہ پولیس اسٹیشن بومئی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ تلاشی کے دوران ایک بڑے پتھر کے نیچے چھپایا گیا نیلے رنگ کا ڈرم اور ایک بیگ ملا، جس میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد رکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد مشتبہ دھماکہ خیز مواد کی جانچ اور اسے محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے بم ناکارہ بنانے والے دستے کو طلب کیا گیا۔
برآمد شدہ مواد میں دو اسالٹ رائفلیں، ایک اے کے 47 اور ایک اے کے 76، سات میگزین اور گولہ بارود، چار پستول بمعہ میگزین اور گولہ بارود، پانچ راؤنڈ کے ساتھ ایک ملٹی گرینیڈ لانچر اور 11 دستی بم شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ریموٹ کنٹرول سے لیس تین دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی)، آٹھ ڈیٹونیٹر، دو ٹائمر اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے میں استعمال ہونے والے دیگر اجزا، جن میں پرائما کورڈز، تاریں اور بیٹری سیل شامل ہیں، بھی برآمد کیے گئے۔ ایک وائی ایس ایم ایس سیٹ اور دیگر لوازمات بھی ضبط کیے گئے۔
پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات 13، 18، 20 اور 23، آرمز ایکٹ کی دفعات 7/25 اور ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت پولیس اسٹیشن بومئی میں ایف آئی آر نمبر 66/2026 درج کرلی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ برآمد شدہ مواد کے ماخذ اور اس کے ممکنہ استعمال کا پتہ لگانے، اسے چھپانے کے ذمہ دار افراد کی شناخت کرنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں سے اس کے ممکنہ روابط کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
سی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
سری نگر، کانگریس، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کو سری نگر میں ملک گیر مہم ”جمہوریت بچاؤ ہفتہ” اور ”ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ” کے تحت مشترکہ احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کانگریس ہیڈکوارٹر سے مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہاں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہوں نے دفتر کے احاطے میں علامتی احتجاج کیا۔ انڈیا اتحاد کے مظاہرین کے ہاتھوں میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پرچم تھے۔
کانگریس رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس کے ایک رہنما نے کہاکہ ”آج ہم نے مشترکہ طور پر پُرامن احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر سے کنیا کماری تک ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ گنیش کمار، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو اپنے عہدوں سے ہٹ جانا چاہیے۔”
رہنماؤں نے دہلی میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، جن میں نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات پر قدغنیں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
دہلی میں احتجاج پر پابندیوں کو لے کر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں کا کشمیر سے موازنہ
سری نگر، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل نئی دہلی کے بعض علاقوں میں عائد پابندیوں پر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں نے ہفتہ کو تنقید کی اور ان کا موازنہ جموں و کشمیر میں عائد کی جانے والی پابندیوں سے کیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کی شام کہا کہ ”کشمیر ماڈل” کو قومی دارالحکومت دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل وسطی دہلی میں انٹرنیٹ خدمات بند کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
عمر عبداللہ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ ”کشمیر ماڈل کو دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ نئے جموں و کشمیر کے طرز پر بنائی گئی نئی دہلی میں آپ کا خیرمقدم ہے۔”
مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات 24 گھنٹے کے لیے معطل کرنے کی اجازت دی تھی۔
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ہفتہ کو دہلی کے حالات کا موازنہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں عائد پابندیوں سے کیا۔
محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو یاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بعد میں حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھاکہ ”آج کی دہلی، دفعہ 370 کی غیر آئینی منسوخی کے بعد کے کشمیر کی ایک خوف ناک یاد دلاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں بند کردیا گیا تھا، انٹرنیٹ بند کردیا گیا تھا اور پورے خطے کا محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ اس وقت بی جے پی نے ڈھٹائی سے دعویٰ کیا تھا کہ کسی نے احتجاج نہیں کیا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ”آج جب دہلی کا محاصرہ کیا گیا ہے، ٹرینیں روک دی گئی ہیں اور جنتر منتر جانے والی سڑکیں بند کردی گئی ہیں، تو وہ دوبارہ یہی جھوٹ دہرا سکتے ہیں کہ گیانیش کمار کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پہلے احتجاج کو کچل دو، پھر اس سے انکار کردو کہ ایسا کبھی ہوا بھی تھا۔ جبری خاموشی کو رضامندی کے طور پر پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے۔”
جموں و کشمیر کے سرکردہ سیاست دانوں کے یہ بیانات قومی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں جنتر منتر جانے والی سڑکوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی ۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سڑک حادثہ، مغربی بنگال کی ایک خاتون ہلاک، 37 زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ اور جاپان نے سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
