ہندوستان
وزیر اعظم کا 20 ستمبر کو گجرات کا دورہ ، مختلف پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی 20 ستمبر کو گجرات کا دورہ کریں گے ۔ وہ صبح تقریبا 10:30 بجے بھاؤ نگر میں ‘سمندر سے سمردھی’ تقریب میں شرکت کریں گے اور 34,200 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ وہ اس موقع پر اجتماع سے خطاب بھی کریں گے ۔اس کے بعد وزیر اعظم دھولیرا کا فضائی سروے کریں گے ۔ تقریبا 1:30 بجے وہ ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کریں گے اور لوتھل میں نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس کا بھی دورہ کریں گے ۔
سمندری شعبے کو ایک بڑے پیمانے پر تقویت فراہم کرنے کی غرض سے وزیر اعظم سمندری شعبے سے متعلق 7,870 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ وہ اندرا ڈاک میں ممبئی انٹرنیشنل کروز ٹرمینل کا افتتاح کریں گے ۔ وہ کولکاتہ کی شیاما پرساد مکھرجی بندرگاہ پر ایک نئے کنٹینر ٹرمینل اور اس سے وابستہ سہولیات کا سنگ بنیاد رکھیں گے ؛ ان میں پارادیپ بندرگاہ پر نیا کنٹینر برتھ ، کارگو ہینڈلنگ کی سہولیات اور اس سے وابستہ ترقیات ؛ ٹونا ٹیکرا ملٹی کارگو ٹرمینل ؛ کامراجار بندرگاہ ، اینور میں آگ بجھانے کی سہولیات اور جدید سڑک رابطہ ؛ چنئی بندرگاہ پر سمندر سے متصل دیواروں اور ریوٹمنٹس سمیت ساحلی تحفظ کے کام ؛ کار نکوبار جزیرے میں سمندری دیوار کی تعمیر ؛ دین دیال بندرگاہ ، کاندلا میں ایک کثیر مقصدی کارگو برتھ اور گرین بائیو میتھانول پلانٹ ؛ اور پٹنہ اور وارانسی میں جہاز کی مرمت کی سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔
مجموعی اور پائیدار ترقی کے لیے اپنے عزم کے مطابق وزیر اعظم مرکزی اور ریاستی حکومت کے متعدد پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے ، جن کی مالیت 26,354 کروڑ روپے سے زیادہ ہے ، جو گجرات میں مختلف شعبوں کی ضرورتوں کو پورا کریں گے ۔ وہ چھارا بندرگاہ پر ایچ پی ایل این جی ری گیسی فیکیشن ٹرمینل ، گجرات آئی او سی ایل ریفائنری میں ایکریلکس اور آکسو الکحل پروجیکٹ ، 600 میگاواٹ گرین شو انیشی ایٹو ، کسانوں کے لیے پی ایم-کسم 475 میگاواٹ کمپونینٹ سی شمسی فیڈر ، 45 میگاواٹ بادلی شمسی پی وی پروجیکٹ ، دھورڈو گاؤں کی مکمل شمسی کاری کا افتتاح کریں گے ۔ وہ ایل این جی کے بنیادی ڈھانچے ، اضافی قابل تجدید توانائی کے منصوبوں ، ساحلی تحفظ کے کاموں ، شاہراہوں اور صحت کی دیکھ بھال اور شہری نقل و حمل کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے ، جن میں بھاؤنگر کے سر ٹی جنرل اسپتال ، جام نگر کے گرو گووند سنگھ سرکاری اسپتال اور 70 کلومیٹر قومی شاہراہوں کو چار لین والا بنانا شامل ہیں ۔
وزیر اعظم پائیدار صنعت کاری ، اسمارٹ انفراسٹرکچر اور عالمی سرمایہ کاری کے ارد گرد بنائے گئے گرین فیلڈ صنعتی شہر کے طور پر تصور کردہ دھولیرا خصوصی سرمایہ کاری علاقہ (ڈی ایس آئی آر) کا فضائی سروے بھی کریں گے ۔ وہ لوتھل میں نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس (این ایچ ایم سی) جائیں گے اور اس کی ترقی کا بھی جائزہ لیں گے اور جسے تقریبا 4500 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جا رہا ہے ، تاکہ ہندوستان کی قدیم سمندری روایات کا جشن منایا جاسکے اور ان کا تحفظ کیا جاسکے تاکہ یہ سیاحت ، تحقیق ، تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے مرکز کے طور پر کام کرے ۔
یواین آئی، م ش۔م الف
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
