ہندوستان
وقف ترمیمی قانون پرسپریم کورٹ میں اگلی سماعت جمعرات کو
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے نئے وقف قانون کے خلاف عرضداشتوں کے سلسلے میں آج تفصیلی سماعت کی اور حکومت کو اس قانون کے کچھ ضابطوں کے بارے میں سخت سوالات کئے اور اگلی سماعت کے لئے کل کا دن مقرر کیا سہ رکنی بینچ جس کی قیادت چیف جسٹس سنجیو کھنہ کر رہے تھے، نے بحث کے دوران حکومت سے کہا کہ کیا وہ دوسرے مذہبوں کے ٹرسٹوں میں بھی مسلمانوں نمائندگی دے گی۔ اس نے کہاکہ جو وقف جائدادیں سینکڑوں سال پرانی ہیں، ان کے پاس رجسٹریشن کیسے ہوگی اور اس قانون کے مختلف ضابطوں پر سوالیہ نشان قائم کیا۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ یہ قانون دستور کے مطابق ہے۔
حکومت کے وکیل سالییسٹر جنرل تشار مہتا نے کہاکہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اس قانون کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا۔ نوے لاکھ سے زیادہ پٹیشنز موصول ہوئے اور ان کی جانچ بھی کی گئی۔ مشترکہ کمیٹی میں بھی اس پر تفصیلی بحث ہوئی اور یہ طے پایا گیا کہ یہ ملک کے آئین کے کسی بھی شق خلاف ورزی نہیں کر رہا ہے اس کا مقصد وقف جائداد کا صیح طور پر استعمال ہے۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے مختلف عرضیوں اور پٹیشن کی سماعت شروع کی۔ اس متنازعہ قانون پر سینئر وکیل کپل سبل نے مسلم تنظیموں کی طرف سے دلائل پیش کرتے ہوئے کہاکہ وقف بورڈ میں غیر مسلموں کو ممبر نامزد کرنا دستور کے آرٹیکل اور شق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی مذہب کی وراثت میں مداخلت کرے۔ لیکن اس موقع پر چیف جسٹس کھنہ نے کہاکہ ایسا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آرٹیکل کی شق نمبر 26سیکولرازم کی عکاسی کر رہی ہے اور یہ سبھوں پر عائد ہوتی ہے۔
اس موقع پر کپل سبل نے کہاکہ وقف کا مقصد یہ ہے کہ کسی جائداد یا زمین کو فلاحی کاموں کے لئے وقف کرسکے۔ یہ ریاست کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عقیدت سے وابستہ ہے۔
چیف جسٹس کے علاوہ اس مقدمے کی سماعت جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وشوناتھن بھی کررہے ہیں۔
اس قانون کے خلاف عدالت عظمی میں 30سے زائد عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ جن میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے وقف قانون میں ترمیم کرکے ایک مخصوص مذہبی فرقے کے ساتھ امتیازی اختیار کیا ہے۔
اس قانون کی حمایت میں بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے بھی اپیل دائر کی ہے اور کہا کہ یہ قانون دستور کے مطابق ہے اور اسے برقرار رکھا جائے۔
وقف ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیتہ علمائے ہند (الف)جمعیتہ علمائے ہند (م)، اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید، آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا، ٹی ایم سی کے رکن پارلیمان مہوا موئترا، دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) پارٹی، انڈین یونین مسلم لیگ، وائی ایس آر سی پارٹی، سمستھا کیرالہ کے ایم ایل اے ایس پی کے ایم پی ضیا,لرحمان برق۔دہلی کے ایم ایل اے امانت اللہ خاں، مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے اللہ خان، جامع مسجد بنگلورو کے امام، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، ٹی وی کے کے صدر اور تمل اداکار وجے، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس وغیرہ، درخواست گزاروں میں سے کچھ ہیں۔
راجستھان، گجرات، ہریانہ، مہاراشٹر، آسام، اتراکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں نے ایکٹ کی حمایت میں مداخلت کی درخواستیں دائر کی ہیں۔ مرکزی حکومت نے بھی ایک کیویٹ داخل کیا ہے۔
اس کے علاوہ ہندو سینا کے وکیل برون کمار سہنا نے وقف ترمیمی قانون کی حمایت میں عرضی داخل کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
