جموں و کشمیر
پائی پائی سے محروم کر دیا جائے گا، پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جو بھارت کا حق ہے:مودی
قسم ہے مجھے اس دیش کی مٹی کی، میں دیش کو مٹنے نہیں دونگا، میں دیش کو جھکنے نہیں دونگا‘
بات ہوگی توصرف پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر پر ہو گی
مودی کا دماغ ٹھنڈا ہے لیکن خون گرم ہے، میری رگوں میں سندور دوڑتا ہے:وزیراعظم
کہاپاکستان سے کوئی تجارت یا مذاکرات نہیں، بھارت ایٹمی دھمکیوں سے گھبرانے والا نہیں
سری نگر: جے کے این ایس : وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو زور دے کر کہا کہ ملک کے دشمنوں نے جان لیا ہے کہ جب ’سندور‘بارود بن جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی مسلح افواج کی تعریف کی کہ انہوں نے ایسا جال کھڑا کیا کہ پاکستان گھٹنوں کے بل گرنے پر مجبور ہو گیا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق پہلگام حملے کے بعد شروع کئے گئے آپریشن سندورکے بعد راجستھان میں اپنے پہلے عوامی خطاب میں، وزیر اعظم مودی نے پاکستان پر تنقید کی، اورکہاکہ 22 اپریل کو ہونے والے حملے کے جواب میں ہم نے 22 منٹ میں دہشت گردی کے9بڑے ٹھکانے تباہ کر دیئے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اور ملک کے دشمنوں نے دیکھا ہے کہ جب سندور بارود میں بدل جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت ایٹمی دھمکیوں سے گھبرانے والا نہیں ہے اور اگر ملک پر کوئی دہشت گرد حملہ ہوا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردانہ حملے کی صورت میں وقت اور طریقہ کار کا فیصلہ ہماری مسلح افواج کرے گی ۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہماری حکومت نے تینوں مسلح افواج کو فری ہینڈ دیا، انہوں نے مل کر ایسا جال بچھا دیا کہ پاکستان گھٹنوں کے بل گرنے پر مجبور ہو گیا۔یہ بتاتے ہوئے کہ پاکستان نے بیکانیر میں نال ایئر بیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ لیکن، کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان کا رحیم یار خان ایئر بیس کب دوبارہ کھلے گا۔ یہ آئی سی یو میں ہے، حملے نے اسے تباہ کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے براہ راست لڑائی کبھی نہیں جیت سکتا، جب بھی براہ راست پرواز ہوتی ہے تو پاکستان کو بار بار شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف لڑنے کے لئے دہشت گردی کو ہتھیار بنا لیا ہے۔ راجستھان کے بیکانیر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے اپنے 2019 کے وعدے کو یاد کرتے ہوئے کہا، ”قسم ہے مجھے اس دیش کی مٹی کی، میں دیش کو مٹنےنہیں دونگا، میں دیش کو جھکنے نہیں دونگا“۔پہلگام میں22 اپریل کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہاکہ پہلگام میں چلائی گئی گولیوں نے 140 کروڑ ہندوستانیوں کے دلوں کو چھلنی کردیا، قوم دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئےمتحد ہوگئی، اور مسلح افواج نے فیصلہ کن جواب دیا۔
وزیراعظم مودی نے ایک تاریخی اتفاق کو بھی یاد کرتے ہوئے کہا کہ2019 کے بالاکوٹ فضائی حملے کے بعد ان کی پہلی ریلی بھی راجستھان کی سرحد پر ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہادر سرزمین ہمیں سکھاتی ہے کہ کوئی بھی چیز قوم اور اس کے لوگوں سے بالاتر نہیں ہے۔وزیراعظم مودی نے کہاکہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ تین چیزیں واضح کرتا ہے: ہر دہشت گرد حملے کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ بھارت ایٹم بم کی دھمکیوں سے نہیں ڈرے گا۔ اور بھارت پاکستان کے ریاستی اور غیر ریاستی اداکاروں کو ایک کے طور پر دیکھے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا ردعمل ”انصاف کی نئی شکل“ ہے کہ پاکستان کے ساتھ اب کوئی تجارت یا بات چیت نہیں ہوگی۔وزیراعظم مودی نے کہاکہ پاکستان بھارت سے براہ راست جنگ کبھی نہیں جیت سکتا۔ جب بھی براہ راست جنگ ہوتی ہے تو پاکستان کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے پاکستان نے دہشت گردی کو اپنا جنگی ہتھیار بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کے بعد سے، یہ کئی دہائیوں سے ہو رہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان دہشت گردی پھیلاتا تھا، بے گناہوں کو مارتا تھا، بھارت میں خوف کا ماحول پیدا کرتا تھا لیکن پاکستان ایک بات بھول گیا ہے، اب ما بھارتی کا سیوک مودی مودی کا دماغ ٹھنڈا ہے لیکن خون گرم ہے میری رگوں میں سنڈور دوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتقام کا کھیل نہیں ہے بلکہ انصاف کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ آپریشن سندور ہے۔ یہ صرف آکروش نہیں ہے، یہ پورے ہندوستان کا خوفناک روپ ہے، یہ ہندوستان کا نیا چہرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے3 اصول طے کیے ،اگر بھارت پر کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ وقت اور طریقہ کار ہماری مسلح افواج طے کرے گی اور شرائط و ضوابط بھی ہمارے ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ دوسرا، بھارت ایٹم بم کی دھمکیوں سے نہیں ڈرے گا۔وزیراعظم مودی نے کہاکہ تیسرااصول یہ کہ بھارت دہشت کے مالک اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی حکومت کو مختلف نظر سے نہیں دیکھے گا۔ انہیں ایک سمجھا جائے گا۔ پاکستان کا ریاستی اور غیر ریاستی اداکاروں کا کھیل اب نہیں چلے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے کوئی تجارت یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بات ہوئی تو وہ صرف پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر پر ہو گی اور اگر پاکستان دہشت گردوں کو برآمد کرتا رہا تو اسے ایک ایک پائی سے محروم کر دیا جائے گا، پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جو بھارت کا حق ہے، بھارتیوں کے خون سے کھیلنا پاکستان کو مہنگا پڑے گا، یہ بھارت کا عزم ہے، اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس سے دور نہیں کر سکتی، سلامتی اور استحکام کے لیے یہ دونوں عزم ضروری ہیں۔ (ترقی یافتہ) بھارت۔یادرہے بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں 7 مئی کو دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے پر آپریشن سندور کے تحت درست حملے کیے ۔ہندوستانی کارروائی کے بعد، پاکستان نے 8، 9 اور10 مئی کو ہندوستانی فوجی اڈوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ہندوستانی افواج نے کئی پاکستانی فوجی تنصیبات پر شدید جوابی حملہ کیا۔بھارت اور پاکستان نے 10 مئی کو سرحد پار سے ڈرون اور میزائل حملوں کے 4 دنوں کے بعد فوجی محاذ آرائی ختم کرنے کے لئے ایک مفاہمت کی تھی۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
جموں، جموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا پیر کے روز یہاں ایک نجی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 84 برس تھی۔
ہربنس سنگھ نے 1996 سے 2002 تک اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں کابینی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں انہیں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کا سیاسی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہربنس سنگھ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیے آنجہانی کی نمایاں خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
عمر عبداللہ نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے ابدی سکون کے لیے دعا کی۔
ہربنس سنگھ پسماندگان میں اہلیہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی خاتون فالوور سمیت تین افراد منشیات اور پستول کے ساتھ گرفتار
جموں، جموں ضلع میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران پولیس نے ایک خاتون فالوور سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے ہیروئن اور پستول برآمد کیے ہیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہر کے مضافاتی علاقے میران صاحب میں اندرا نگر کے قریب بالول ناکہ پر گاڑیوں کی تلاشی کے دوران تقریباً 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ معمول کی چیکنگ کے دوران پولیس ٹیم نے ایک اسکوٹی کو روکا، جسے شمیم بیگم چلا رہی تھیں۔ وہ ڈک بنگلو، مرالیان کی رہائشی ہیں۔
تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے تقریباً 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد ہوا۔ شمیم بیگم جموں و کشمیر پولیس میں فالوور کے عہدے پر تعینات ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں پولیس کسی بھی شخص کے عہدے یا وابستگی سے قطع نظر قانون پر غیر جانب دارانہ عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پابند عہد ہے۔
دریں اثنا، گاندھی نگر علاقے کے دگیانہ صنعتی علاقے میں گشت کے دوران دو دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کی ایک ٹیم ہائی وے روڈ کے قریب گشت کررہی تھی کہ اس نے دو افراد کو مشتبہ حالت میں گھومتے ہوئے دیکھا۔ پولیس کو دیکھ کر دونوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم انہیں پکڑ لیا گیا۔
تلاشی کے دوران سامبا ضلع کی تحصیل بڑی برہمنہ کے پلی گاؤں کے رہائشی ونسھ شرما کے قبضے سے ایک پستول، جیب میں رکھنے والی ڈیجیٹل ترازو مشین اور تقریباً 100 گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔
اسی طرح سامبا ضلع کی تحصیل بڑی برہمنہ کے پلی ٹانڈہ کے رہائشی یوگیشور سنگھ کے قبضے سے ایک دیسی ساختہ پستول (دیسی کٹا) اور تقریباً 13 گرام ہیروئن برآمد کی گئی۔
پولیس نے برآمد شدہ منشیات اور ہتھیاروں کو ضبط کرلیا ہے، جبکہ گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مزید تفتیش جاری ہے، تاکہ منشیات اور غیر قانونی ہتھیاروں کے ذرائع کا پتہ لگانے کے ساتھ ساتھ اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی شناخت بھی کی جاسکے۔
جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ معاشرے کو منشیات اور جرائم سے پاک رکھنے میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ہانگل کے افزائشی موسم کے دوران داچی گام نیشنل پارک سیاحوں کے لیے بند
سرینگر، خطرے سے دوچار کشمیری ہرن ہانگل کو اس کے افزائشی موسم کے دوران انسانی مداخلت سے بچانے کے لیے داچی گام نیشنل پارک میں اکتوبر کے مہینے کے دوران سیاحوں اور دیگر افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ایک حکم نامے کے مطابق، نیشنل پارک میں داخلے کی اجازت 31 اکتوبر تک معطل کردی گئی ہے۔
یہ حکم سرینگر کے وائلڈ لائف وارڈن، سینٹرل ڈویژن کی سفارش پر جاری کیا گیا، جس کی کشمیر ریجن کے ریجنل وائلڈ لائف وارڈن نے توثیق کی۔
ایک ماہ تک نافذ رہنے والی اس پابندی کا اطلاق تمام سیاحوں، زائرین اور دیگر افراد پر ہوگا۔ تاہم، ضروری محکمہ جاتی فرائض انجام دینے والے اہلکاروں، جنگلی حیات کے تحفظ اور انتظامی کارروائیوں میں مصروف افراد، ہنگامی حالات میں کام کرنے والوں اور مجاز اتھارٹی کی خصوصی اجازت سے سرگرمیاں انجام دینے والے افراد کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس مدت کے دوران داخلے کی اجازت صرف سخت نگرانی میں اور ضرورت کے مطابق کم سے کم تعداد میں دی جائے گی۔
سرینگر کے وائلڈ لائف وارڈن، سینٹرل ڈویژن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ داخلی دروازوں، چیک پوسٹوں اور فیلڈ عملے کو ضروری ہدایات دے کر حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں، غیر مجاز داخلے کو روکیں اور پابندی کے بارے میں وسیع پیمانے پر لوگوں کو مطلع کریں۔
حکام نے بتایا کہ داچی گام نیشنل پارک میں اکتوبر کے دوران عائد کی گئی پابندی کا مقصد ہانگل کے افزائشی موسم میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنا ہے۔ یہ مدت ہانگل کے افزائش نسل کے دور میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس اقدام سے اس نایاب نسل کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
داچی گام نیشنل پارک ہانگل کی بقا کا سب سے اہم مرکز ہے، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں کی آبادی کا ترال کے شکار گاہ علاقے، ترال وائلڈ لائف سینکچری اور اننت ناگ کی اوویرا وائلڈ لائف سینکچری میں موجود ہانگل کے چھوٹے گروہوں سے رابطہ بڑی حد تک منقطع ہوچکا ہے۔
نیشنل پارک کی عارضی بندش ہانگل، جسے کشمیری ہرن بھی کہا جاتا ہے، کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کے درمیان عمل میں آئی ہے۔ یہ ہرن خطے کی نمایاں اور معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی نسلوں میں شمار ہوتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہانگل کی آبادی میں حوصلہ افزا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کی تعداد 2015 میں 183 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 323 ہوگئی۔ تاہم، اس نسل کو اب بھی تحفظ کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسے وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ، 1972 کے شیڈول اوّل میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے اسے معدومیت کے انتہائی شدید خطرے سے دوچار نسل قرار دیا ہے۔
گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں کے دوران ہانگل کی آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ غیر قانونی شکار، مویشیوں کے ساتھ خوراک اور وسائل کے لیے مسابقت، قدرتی مسکن کی تباہی اور اس کے مختلف حصوں میں تقسیم ہوجانے کو اس کمی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا7 days agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان7 days agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoمرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
دنیا1 week agoروس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
