ہندوستان
حلقہ بندی تنازع پر کانگریس کا مودی حکومت پر پارلیمنٹ کے التوا میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام، کل جماعتی بات چیت کا مطالبہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز نریندر مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی مجوزہ حلقہ بندی قانون سازی کے لیے ضروری حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد پارلیمنٹ کے سیشن کو باقاعدہ طور پرملتوی کرنے میں تاخیر کر رہی ہے، جبکہ مان سون سیشن 13 اگست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد سے 60 دنوں سے معطل نہیں کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے کہا کہ پارلیمانی اجلاس کے ملتوی ہونے اور اس کے باقاعدہ التوا کے درمیان کا وقفہ “بہت پہلے ہی تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے”، جو 2015 کے مان سون سیشن کے بعد کے 28 دن کے سابقہ ریکارڈ سے بھی آگے نکل گیا ہے۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ حکومت اپنے مجوزہ حلقہ بندی بلوں کے لیے لوک سبھا میں ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، نیز قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے کئی اتحادیوں کے تحفظات نے اس کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ اتحادی اب مجوزہ قانون سازی کی مخالفت میں زیادہ کھل کر بولنے لگے ہیں۔
رمیش نے اس پارلیمانی تعطل کو “گیانیش گیٹ” سے جوڑا، جو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے کام کاج سے متعلق اس کے الزامات کا حوالہ ہے۔
رمیش نے کہا، “وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے ناپاک ارادے اپوزیشن کے اتحاد اور یکجہتی کی وجہ سے 17 اپریل کو لوک سبھا میں بری طرح ناکام ہو گئے تھے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی سخت مزاحمت کی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپوزیشن کی کچھ رکن جماعتوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود ان کا اتحاد برقرار رہا۔
کانگریس رہنما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کوملتوی کرے اورحلقہ بندی پر ایک بامعنی کل جماعتی بات چیت کا آغاز کرے، جس میں انتخابی حلقوں کی ازسرنو حد بندی شامل ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ سیاسی نمائندگی پر دور رس اثرات مرتب کرنے والے اس عمل کو وسیع تر مشاورت اور جامع سیاسی تفہیم کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
حلقہ بندی تنازع حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک اہم تنازع بن کر ابھرا ہے، جس میں مجوزہ قانونی ڈھانچے، پارلیمانی نمائندگی کی تقسیم اور حلقوں کی حد بندی کے اثرات سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ اس عمل کے لیے ضروری آئینی ترمیمات کو پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا ہوگی، جس کی وجہ سے سیاسی اتفاقِ رائے اور حکومت کی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت اس کے قانون سازی کے منصوبوں کے لیے انتہائی اہم ہو گئی ہے۔
تاہم، رمیش نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو پہلے الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل کی ساکھ کے حوالے سے اپوزیشن کے خدشات کو دور کرنا چاہیے۔ کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو ملتوی کرنے اور انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انتخابی نظام کو “بہت بری طرح متاثر” کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، رمیش نے سوال اٹھایا کہ جن پر اپوزیشن کی جانب سے اسے کمزور کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، کیا ان سے خود اصلاحی کارروائی کی امید کی جا سکتی ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن کے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی اور متعلقہ فیصلوں پر بار بار تشویش ظاہر کی ہے، اور یہ دلیل دی ہے کہ عدم شفافیت اور مناسب تحفظات کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو فہرستوں سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن اور حکومت کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی آئینی عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد درست ووٹر فہرستوں کو یقینی بنانا ہے۔ اپوزیشن نے اس عمل میں زیادہ شفافیت، تحفظ اور جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔
رمیش نے کانگریس کے اس موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، “بالآخر آئین ہی غالب آئے گا اور عوام کا عزم فتح یاب ہوگا،” کہ حکومت کو مناسب مشاورت کے بغیر آگے بڑھنے کے بجائے اپوزیشن کے خدشات کا جواب دینا چاہیے۔
اس تازہ ترین بیان نے پارلیمانی طریقہ کار، حلقہ بندی اور انتخابی ساکھ کے مسائل کو ایک مشترکہ سیاسی تصادم میں بدل دیا ہے۔ جہاں کانگریس حلقوں کی ازسرنو حد بندی پر کل جماعتی بات چیت کا دباؤ ڈال رہی ہے، وہیں اس نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق اس کے مطالبات حکومت کے خلاف اس کی وسیع تر مہم کا مرکزی حصہ ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
‘ووٹ چوری’ کے خلاف رکے گا نہیں ہمارا احتجاج ، ایک ساتھ سپریم کورٹ جائیں گے اپوزیشن لیڈر : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ووٹ چوری کے خلاف ان کی عوامی تحریک رکنے والی نہیں ہے اور اپوزیشن جماعتیں مل کر اس معاملے میں لڑائی لڑیں گی اور سپریم کورٹ میں مشترکہ طور پر عرضی دائر کریں گی۔
مسٹر گاندھی نے پیر کے روز یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی میں گزشتہ پانچ چھ دنوں سے انصاف کی لڑائی لڑی جا رہی ہے اور ووٹ چوری کے خلاف عوامی تحریک چلائی جا رہی ہے۔ اس تحریک کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور لوگوں کو آنے جانے سے روکا جا رہا ہے۔ چاروں طرف پولیس تعینات کر کے دہلی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اسی کی مخالفت میں ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنما مارچ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تحریک ملک کی روح پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ہے اور اس تحریک کے ذریعے نوجوانوں پر ظلم و ستم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں شامل نوجوانوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ انصاف ملنے تک تحریک جاری رکھیں اور آئین اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے متحد ہو کر سب کی آواز اٹھائیں۔
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ پولیس نوجوانوں کو پٹواری ہے اور آر ایس ایس کے لوگوں کو کھلے عام گھومنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف کھڑے ہونے اور آئین کے تحفظ کی لڑائی لڑنے والوں کو روکا جا رہا ہے لیکن اپوزیشن پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ووٹ چوری کروا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ گیانیش کمار استعفیٰ کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ اپوزیشن الیکشن کمیشن سے اور حکومت سے سوال کر رہی ہے اور اسی وجہ سے سوال کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کی حفاظت کرنا ہی ان کا دھرم ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ تحریک طویل ہو سکتی ہے اور اس میں کئی دن یا مہینے لگ سکتے ہیں لیکن اسے روکا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا، “ہماری تحریک کے سامنے حکومت جھک جائے گی، اس کے افسران تھک جائیں گے اور اس کی پولیس بھی تھک جائے گی، لیکن ہماری تحریک نہیں رکے گی۔ ”
انہوں نے کہا کہ ملک کی روح اور آئین پر حملہ ہو رہا ہے اور تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر اس کی مخالفت کریں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے تقریباً 200 افسران ان کے رابطے میں ہیں اور آئین کو بچانے کی لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس سے ملنے کا وقت مانگا تھا لیکن چیف جسٹس نے انہیں عرضی دائر کرنے کے لیے کہا ہے اور اپوزیشن جماعتیں مل کر سپریم کورٹ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی ملک کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے ہے، وہ نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک میں ہونے والے واقعات کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان انصاف ملنے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آئین کو بچانے کی لڑائی جاری رکھیں گے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کے عوام کی آواز بیریکیڈ لگا کر روکی نہیں جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سچائی ہی ملک کی بنیاد ہے اور اپوزیشن کی لڑائی جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
نئی دہلی، محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اگلے چار دنوں میں ہریانہ، دہلی، چندی گڑھ اور پنجاب میں آندھی- طوفان، بجلی گرنے اور تیز ہوائیں چلنے کی وارننگ جاری کی ہے۔ شمال مغربی ہندوستان میں موسمیاتی ہلچل کا اثر بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے کچھ جگہوں پر ہوا کی رفتار 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے پیر کی صبح جاری کردہ بلیٹن میں آج سے 18 اکتوبر کے درمیان کئی شمالی ریاستوں میں بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ طے شدہ دنوں میں جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور پنجاب میں بھاری بارش یا شدید بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ کے مطابق ہریانہ، دہلی، چندی گڑھ، اور مغربی اتر پردیش میں آج کچھ جگہوں پر 50-60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی-طوفان آ سکتا ہے۔ پنجاب میں بھی کچھ جگہوں پر بجلی گرنے اور 40-50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز ہواؤں کے ساتھ آندھی-طوفان کے آثار ہیں۔
محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 15 اکتوبر تک بجلی گرنے اور تیز ہواؤں کے ساتھ آندھی-طوفان کا سلسلہ جاری رہے گا۔ آئی ایم ڈی کے اندازے کے مطابق 13 اور 14 اکتوبر کو بھی ان علاقوں میں کچھ جگہوں پر بجلی کڑکنے اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور طوفان آنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ آج سے 15 اکتوبر کے درمیانی عرصے میں ہریانہ، چندی گڑھ اور دہلی میں کچھ مقامات پر بارش کا امکان ہے، جبکہ پنجاب میں آج سے 14 اکتوبر تک اور 15 اکتوبر کو کافی زیادہ علاقوں میں بارش ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ کے سات روزہ بارش کی پیش گوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ 16 سے 18 اکتوبر تک ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں موسم بنیادی طور پر خشک رہے گا۔
موجودہ موسمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ڈی نے کسانوں کو زرعی صلاح جاری کی ہے تاکہ کھڑی فصلوں اور کٹی ہوئی پیداوار کو ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکے۔ محکمہ نے دونوں ریاستوں کے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کھڑی فصلوں میں آبپاشی نہ کریں اور کھیتوں سے اضافی بارش کے پانی کو نکالنے کا انتظام کریں۔ کسانوں کو یہ بھی صلاح دی گئی ہے کہ وہ کٹی ہوئی پیداوار کو محفوظ جگہوں پر لے جائیں یا تیز ہواؤں اور بارش سے بچانے کے لیے اسے ترپال سے ڈھک دیں۔
ادھر، شمال مغربی ہندوستان میں آندھی اور تیز ہواؤں کے ساتھ ساتھ آئی ایم ڈی نے 16 سے 18 اکتوبر کے درمیان کیرالہ، ماہے، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل میں کچھ مقامات پر بھاری بارش کا امکان ظاہرکیا ہے۔ 15 اکتوبر سے کیرالہ اور ماہے میں بارش کے تیز ہونے کے آثار ہیں اور 18 اکتوبر تک یہاں کافی زیادہ بارش کا امکان ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں : جسٹس سوریہ کانت
نئی دہلی، ملک کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت نے ‘انڈیا’ اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ سے ملاقات کرنے سے انکار کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور ہرہندوستانی شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔
جسٹس سوریہ کانت نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عام شہری یا منتخب باڈی کے رکن کی عرضی کا خیرمقدم کیا جائے گا اور قانون کے تحت مناسب کارروائی کی جائے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں اتوار کے روز ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے ملاقات کی درخواست کرنے والا ایک خط موصول ہوا تھا۔ انہوں نے کل خط کا جواب دیتے ہوئے ملاقات نہ کر پانے کی وجہ بھی واضح کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ امن و قانون سے جڑا ہوا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے رہنماؤں سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے سے معذوری ظاہر کی۔
جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص یا عوامی نمائندے کو اپنا موقف رکھنے کے لیے اعلیٰ ترین عدالت آنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے آنے والی عرضیوں پر قانون کے مطابق غور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ تمام شہریوں کے لیے یکساں طور پر دستیاب ہے اور کسی بھی جائز عرضی پر مناسب قانونی عمل کے تحت سماعت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ کسی بھی عام شہری یا منتخب ادارے کے رکن کی عرضی کا خیرمقدم ہے۔ ہر ہندوستانی شہری کو عدالت جانے کا حق ہے اور ہم ان کی بات سنیں گے نیز قانون کے تحت جو بھی مناسب ہوگا، وہ کریں گے۔
یواین آئی ایف اے
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا7 days agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoمرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان7 days agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
جموں و کشمیر7 days agoماضی کی حصولیابیوں سے استفادہ کرتے ہوئے پائیدار زراعت کے لیے اختراع کریں: لیفٹیننٹ گورنر کی نوجوانوں سے اپیل
-
دنیا1 week ago۔کیریبین سمندر میں امریکی فوج کا کشتی پر حملہ، منشیات اسمگلنگ کے 4 مبینہ ملزم ہلاک: کمانڈ
