ہندوستان
پوری دنیا نے ہندوستان کی فوجی طاقت کا مشاہدہ کیا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ “آپریشن سندور” کے دوران ہندوستانی فوج نے دہشت گردوں کے آقاؤں کے گھر میں گھس کر جو کامیاب کارروائی کی، اس سے پوری دنیا نے ہندوستان کی فوجی طاقت اور صلاحیت کا مشاہدہ کیا ہے۔
مسٹر مودی نے پیر کو مانسون اجلاس کے آغاز سے قبل پارلیمنٹ کے احاطے میں کہا کہ مانسون جدت اور تخلیق کی علامت ہے، اور اب تک جو اطلاعات ملی ہیں، اس سال ملک میں موسم بہت اچھا چل رہا ہے، کاشتکاری کے لیے فائدہ مند بارش کی خبریں ہیں۔ بارش نہ صرف کسانوں بلکہ ملکی معیشت، دیہی معیشت اور ہر خاندان کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “جو معلومات مجھے دی گئی ہیں، اس کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں پانی کے ذخائر تین گنا تک بڑھے ہیں، جو مستقبل میں ملکی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہوں گے۔‘‘
انہوں نے کہا، “یہ مانسون اجلاس ملک کے لیے بہت ہی قابل فخر اجلاس ہے۔ یہ سیشن دراصل ایک فتح کا تہوار ہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ یہ سیشن ملک کا فخر اور فتح کا جشن ہے، تو سب سے پہلے میں کہنا چاہوں گا کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلی بار ہندوستان کا ترنگا لہرانا ہر ہندوستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے تئیں یہ ایک کامیاب مہم رہی ہے، جو پورے ملک میں نئی امید اور جوش پیدا کرتی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں یکجہتی کے ساتھ اس پر فخر کا اظہار کیا جائے گا، جو ہندوستان کے خلائی پروگراموں کے لیے مزید تحریک کا باعث بنے گا۔”
وزیر اعظم نے مزید کہا، “یہ مانسون اجلاس ایک ‘وجے اتسو’ ہے۔ پوری دنیا نے ہندوستان کی فوجی طاقت اور صلاحیت کو دیکھا ہے۔ آپریشن سندور میں ہماری فوج نے جو ہدف مقرر کیا تھا، اسے 100 فیصد حاصل کیا۔ دہشت گردوں کے آقاؤں کے گھر میں گھس کر صرف 22 منٹ کے اندر آپریشن مکمل کر کے انہیں زمین دوز کر دیا۔ میں نے بہار کے ایک پروگرام میں اس کی اطلاع دی تھی، اور ہماری افواج نے اسے مختصر وقت میں کر کے دکھایا۔ یہ ‘میڈ ان انڈیا’ فوجی طاقت کا نیا روپ ہے، جو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج دنیا میں جن سے بھی ملاقات ہوتی ہے، وہ ہندوستان کے بنائے گئے دفاعی ہتھیاروں میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پارلیمنٹ جب یکجہتی کے ساتھ اس فتح کا جشن منائے گی تو یہ نہ صرف فوج کو حوصلہ دے گا بلکہ ملک کے عوام کو بھی تحریک دے گا۔”
انہوں نے کہا، “یہ دہائی ہم کہہ سکتے ہیں کہ امن اور ترقی شانہ بہ شانہ چل رہے ہیں۔ ملک ماضی میں کئی پرتشدد واقعات کا شکار رہا ہے، آزادی کے بعد سے ہمیں اس چیلنج کا سامنا رہا ہے، چاہے وہ دہشت گردی ہو یا نکسلزم۔ کچھ تحریکیں پہلے شروع ہوئیں اور کچھ بعد میں، لیکن آج نکسلزم اور ماؤ نواز بہت تیزی سے سمٹ رہے ہیں۔ نکسلزم کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہمارے سیکورٹی فورسز نئے اعتماد اور تیز رفتاری سے کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ ملک کے سینکڑوں اضلاع نکسلزم کے چنگل سے آزاد ہو کر آزادی کی سانس لے رہے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ بندوق، بم اور گولیوں کے سامنے ہمارے ملک کا آئین کامیاب ہو رہا ہے، جیت رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “ملک کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے۔ جو علاقے کل تک ریڈ کاریڈور کہلاتے تھے، آج وہ گرین گروتھ زون میں تبدیل ہو رہے ہیں۔‘‘
جاری یواین آئی۔ ایم جے۔
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
