تازہ ترین
ڈاکٹر فاروق بھاجپا کے خلاف مشترکہ محاذ کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں: پی ڈی پی
خبراردو:
پی ڈی پی نے این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ریاست جموں وکشمیر میں بھاجپا کے خلاف مشترکہ مزاحمت کا دائرہ تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ این سی لیڈر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے پی ڈی پی مخالف بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھاجپا کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کی خاطر مشترکہ مزاحمت کے دائرہ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھاجپا ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی خاطر کوئی بھی دقیقہ فروگززشت نہیں کرتی لہٰذا ان کی سازشوں کا توڑ کرنے کی خاطر مشترکہ مقابلے کی ضرورت ہے لیکن این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ بی جے پی کے خلاف کی جارہی مشترکہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے میں مصروف عمل ہے۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر نعیم اختر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ قومی سطح پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر مارکر بھاجپا کے خلاف مہاگھٹ بندھن کو تقویت پہنچانے میں پیش پیش ہے تاہم دوسری جانب وہ ریاست جموں وکشمیر میں بھاجپا کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے خاموش تماشائی کا رول ادا کررہے ہیں۔
پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ موصوف شاید اپنے خلاف درج کرپشن کیس جو سرینگر کی عدالت میں زیر سماعت ہے کو دبانے کی خاطر بی جے پی کی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں اور یوں نریندر مودی سمیت بھاجپا کی اعلیٰ قیادت کو راضی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔نعیم اختر کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی ہی وہ واحد جماعت ہے جس نے مرکزی سرکار کا آئین کے دائرے میں رہ کر جمہوری طریقے پر مقابلہ کرنے کی عزم کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے یہ بات ثابت کرکے دکھائی کہ قبل 2014اور مابعد جب بھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی بات آئی تو پی ڈی پی نے دو مہینوں تک تمام پہلوؤں پر باریک بینی سے تبادلہ خیال کیا اور بعد ازاں حکومت کی قیادت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے بھاجپا کی ناک میں نکیل ڈال کر اُن کے کشمیر دشمن منصوبوں کو خاک میں ملادیا۔محبوبہ مفتی نے حکومت کی قیادت کرتے ہوئے بی جے پی کی طرف ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کارروائیوں کو بھی ناکام بنادیا۔
پی ڈی پی صدر نے بھاجپا کو ریاست میں یک طرفہ سیز فائر کے لیے مجبور کرنے کے علاوہ مختلف الخیال رائے رکھنے والوں پر این آئی اے کو ہاتھ ڈالنے سے دور رکھا جبکہ اس دوران انہوں نے مختلف جیلوں اور پولیس تھانوں میں مقید سنگ بازی میں ملوث 12ہزار نوجوانوں کو رہا کردیا۔نعیم خان کا کہنا تھا سابق مخلوط حکومت کے ٹوٹ پھوٹ کے بعد محبوبہ مفتی ہی وہ واحد آواز ہے جنہوں نے مسلسل معصوم لوگوں پر کریک ڈاؤن کرنے، علیحدگی پسندوں پر شکنجہ کسنے، جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے، میر واعظ عمر فاروق کے خلاف سمن جاری کرنے اور دیگر آئینی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کی تاہم اس کے برعکس ڈاکٹر فاروق عبداللہ جو ریاست کے سینئر سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں، تذبذب میں مبتلا رہے۔
صرف تین ماہ قبل انہوں نے پی ڈی پی کے ساتھ حکومت سازی کے لیے حامی بھر لی تھی مگر آج یہی شخص پی ڈی پی کی شناخت کو مسخ کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔نعیم اختر نے بتایا کہ ماضی میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملانے کا واحد مقصد اپنے بیٹے عمر عبداللہ کو اُن کی کابینہ میں بحیثیت وزیر شامل کرانا تھا، اس کے لیے انہوں نے ریاست کی معاشی خود مختاری کے علاوہ یہاں کے جملہ پاور پروجیکٹوں کوبھارت کی جھولی میں ڈال دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہی ماضی میں سرکارنواز بندوق برداروں کا ٹولہ قائم کرکے اُن کی سرپرستی انجام دی اور ان کے ذریعے ریاست کے کونے کونے میں خوف ، دہشت اور ڈر کا ماحول قائم کیا۔ ڈاکٹر فاروق نے ہی بی جے پی نے کشمیر میں ہلال قرار دیا اور یہ سب 1947کے الحاق سے چلتا آرہا ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
