دنیا
ڈونلڈ ٹرمپ: امریکہ کے موجودہ صدر نے اگر صدارتی انتخاب کے نتائج تسلیم کرنے اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کر دیا تو کیا ہوگا؟
اگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جانے سے انکار کیا تو یہ کام سیکرٹ سروس کو دیا جاسکتا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب 2020 میں جو بائیڈن کی فتح کے خلاف قانونی جنگ ’صرف شروعات ہے۔‘ وائٹ ہاؤس میں پریس سیکریٹری کے مطابق ’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔ یہ ختم نہیں ہوا۔‘ انھوں نے بغیر شواہد کے انتخاب میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تاحال منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں مل سکے اور یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ نتائج پر اثر ڈالا گیا۔ رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ نے صدارتی دوڑ میں ہار تسلیم نہیں کی۔
کیا امریکہ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے؟
امریکہ کی 244 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک صدر نے الیکشن ہارنے کے بعد وائٹ ہاؤس نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہو۔ امریکہ کی جمہوریت اسی اصول پر قائم سمجھی جاتی ہے کہ یہاں اقتدار ایک فرد سے دوسرے فرد تک قانون کے تحت اور پُرامن انداز میں منتقل ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کیوں ہوئی؟ صدر ٹرمپ کے ساتھ گزرا وہ دن جب وہ انتخاب ہارے
جو بائیڈن: وہ سیاستدان جنھیں قسمت کبھی عام سا نہیں رہنے دیتی امریکہ کی پہلی خاتون اور غیر سفیدفام نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیرس کون ہیں؟ اسی وجہ سے صدر ٹرمپ کے اعلان نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مبصرین اب ایسے حالات پیدا ہونے سے متعلق اپنی رائے دے رہے ہیں جس کا گمان پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔
’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور‘
7 نومبر کو جب بڑے امریکی ذرائع ابلاغ نے جو بائیڈن کی متوقع فتح کی خبریں دیں تو اس وقت ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی کے قریب گالف کھیلتے نظر آئے۔
ان کی انتخابی مہم کی ٹیم نے بیان جاری کیا کہ یہ الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔
جب بائیڈن کی متوقع فتح کا اعلان ہوا تو اس وقت ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے
ایک بیان میں کہا گیا کہ ’بائیڈن جھوٹ بول کر خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں ان کے دوست ان کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ سچ سے پردہ اٹھانا نہیں چاہتے۔‘
اس میں کہا گیا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ الیکشن ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔‘ انھوں نے عندیہ دیا کہ ٹرمپ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے نتائج کی مخالفت کریں گے اور مختلف ریاستوں میں ووٹنگ کے عمل میں بدعنوانی کا دعویٰ دائر کریں گے۔
امریکی آئین کے مطابق یہ واضح ہے کہ موجودہ صدارتی دور 20 جنوری کی شام کو اختتام پذیر ہوجائے گا۔
جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق 270 سے زیادہ الیکٹورل کالج ووٹ جیت لیے ہیں۔ تو اگلے چار برسوں تک انھیں صدر رہنے کا حق ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس قانونی حق اور وسائل ہیں کہ وہ ووٹنگ کے نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں انھیں عدالتوں میں شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ’الیکشن میں فراڈ ہوا‘ ہے لیکن اب تک انھوں نے کسی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے۔
اگر وہ 20 جنوری تک ایسا نہ کرسکے تو نئے صدر کا اعلان ہوجائے گا اور ٹرمپ کو دفتر چھوڑنا ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اپنے اعتراضات کی بنیاد پر ’شکست تسلیم نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے بارہا کہا تھا کہ الیکشن حکام جو مرضی کہیں وہ صدر کے منصب پر قائم رہیں گے۔ انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں ہار سکتے ہیں اگر الیکشن ’چوری کیا گیا ہو۔‘
تو اس سب کے پیش نظر ملک میں اس بارے میں بحث جاری ہے کہ ایسے حالات میں کیا ہوگا اگر ٹرمپ صدر برقرار رہنے کا خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں۔
اس ممکنہ صورتحال کے مفروضے پر جو بائیڈن سے بھی پوچھا گیا تھا۔
11 جون کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کامیڈین ٹریور نواح نے بائیڈن سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں بائیڈن نے کہا تھا کہ ’ہاں میں نے اس بارے میں سوچا ہے۔
’مجھے یقین ہے کہ ایسی صورتحال میں فوج انھیں دفتر میں رہنے سے روکے گی اور آسانی سے انھیں وائٹ ہاؤس نے نکال دے گی۔‘
بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ووٹرز نے کرنا ہے، نہ کہ امیدواروں نے کہ انتخاب کے نتائج کیا ہوں گے۔ انھوں نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’امریکی عوام اس انتخاب کے نتائج طے کرے گی۔ امریکہ کی حکومت اس قابل ہے کہ وائٹ ہاؤس میں موجود کسی گھس بیٹھیے کو باہر نکال سکے۔‘
ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کام امریکی مارشلز یا سیکرٹ سروس کے پاس جائے کہ وہ ٹرمپ کو صدارتی رہائش گاہ سے باہر لے آئیں۔
سیکرٹ سروس ایک سویلین ادارہ ہے جو صدر کو سکیورٹی فراہم کرتا ہے۔ قانون کے تحت اسے تمام سابق صدور کو بھی محفوظ رکھنا ہوتا ہے اور وہ 20 جنوری کے بعد بھی ٹرمپ کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔
اگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جانے سے انکار کیا تو یہ کام سیکرٹ سروس کو دیا جاسکتا ہے
جب سے بائیڈن نو منتخب صدر بنے ہیں، سیکرٹ سروس نے ان کی سکیورٹی بھی بڑھا دی ہے۔ حکام کے مطابق اب ان کی سکیورٹی کسی صدر جتنی ہی ہے، اس بات سے قطعہ نظر کے ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار الیکشن ہار چکے ہیں۔
ایسے حالات جن کے بارے میں کبھی سوچا نہ گیا ہو
سب سے پیچیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوسکتی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کردیتے ہیں اور یہ رویہ جاری رکھتے ہیں۔
بی بی سی نے ماہرین سے دریافت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ٹرمپ نے اپنی صدارت برقرار رکھنے کے لیے ریاستی سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا تو پھر کیا ہوگا۔
پروفیسر ڈکوٹا روڈسل امریکہ میں قومی سلامتی کی پالیسی اور قانون سازی کے ماہر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اقتدار میں رہنے کے لیے اگر ایک صدر بظاہر شکست کے بعد بھی اپنی طاقتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس سے اہم (جمہوری) روایات تباہ ہوجائیں گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا ہونا ’ناقابل فہم نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’اس سے ملک، سول ملٹری تعلقات کے اہم اصولوں اور عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان کی رائے میں ایسا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں کہ ٹرمپ صدارت سے جڑے رہیں گے اور انھیں سکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل ہوگی۔
’فوجی اہلکار آئین سے وفاداری کا حلف لیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاستدان سے وفاداری کا جو اُس وقت اقتدار میں ہو۔ ملک میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز فوجی اہلکار، جوائنٹ چیفس آف سٹاف چیئرمین جنرل مارک ملی نے بارہا کہا ہے کہ امریکی انتخاب میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔‘
پروفیسر روڈسل واحد فرد نہیں جو ان مسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیشا بلین، جو یونیورسٹی آف پٹسبرگ کی پروفیسر اور سماجی جدوجہد کی خاطر ہونے والے مظاہروں پر نظر رکھتی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’صرف یہ بات کہ ہم اس چیز پر غور کر رہے ہیں کہ آیا فوج انتخاب میں مداخلت کرے گی، اس سے ملک کی افسوسناک صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘
’چار سال قبل اکثر امریکی اس بات پر غور نہیں کر رہے تھے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ٹرمپ نے کیسے پورٹ لینڈ اور واشنگٹن میں مظاہروں کے دوران وفاقی اہلکاروں کو تعینات کیا۔ یہ ایک سنجیدہ مقاملہ ہے۔
’مجھے نہیں لگتا کہ یہ صورتحال ہوگی لیکن رواں سال جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے تناظر میں ہم اس کے امکانات کو رد نہیں کر سکتے۔‘
نسلی تعصب کے خلاف مظاہروں کے دوران ٹرمپ نے مظاہرین کو روکنے کے لیے فوج کی مدد لینے پر غور کیا تھا۔
جون 5 کو نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ جنرل ملی نے ٹرمپ کو قائل کیا کہ وہ 1807 میں بغاوت روکنے کے لیے بننے والے ایکٹ کا استعمال نہ کریں جس سے پورے ملک میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوجی اہلکاروں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ’یہ وہ حد ہے جو کئی امریکی فوجی عبور کرنا نہیں چاہتے، اگر صدر اس کا حکم دے تب بھی نہیں۔‘
آخر میں ٹرمپ نے نیشنل گارڈ کے دستوں کو استعمال کرنے کا حکم دیا۔ صدر یا ریاست کے گورنر ان دستوں کو حالات کے تناظر میں استعمال کر سکتے ہیں۔
مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ‘یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔’
یاد رہے کہ مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس گرجا گھر کو جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد بدامنی کے دوران نقصان پہنچا تھا۔
لیکن بعد میں مارک ملی نے اپنے اس عمل پر معافی مانگ لی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ‘یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔۔۔ مجھے وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ ایک حاضر سروس فوجی افسر ہونے کی حیثیت سے یہ ایسی غلطی ہے جس سے میں نے سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے ہم سب اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔’
واشنگٹن اور پورٹ لینڈ سمیت دیگر امریکی شہروں میں مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر فوجی سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا گیا تھا جو محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی کو جوابدہ ہوتی ہیں۔
کچھ لوگوں نے الیکشن سے قبل یہ قیاس آرائی کی تھی کہ ٹرمپ ان اہلکاروں کو ممکنہ طور پر اپنی مرضی سے تعینات کر سکتے ہیں۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ فوج صدر کا سیاسی اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے ان کا ساتھ نہیں دے گی، تو یہ تصور کرنا مشکل ہوگا کہ ٹرمپ اقتدار میں رہنے کے لیے کون سی کامیاب چال چل سکتے ہیں۔
کیا پُر تشدد واقعات پیش آسکتے ہیں؟
پروفیسر روڈسل موجودہ حالات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہیں۔
سیاسی امور کے اس ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میں نے اس بارے میں لکھا کہ صدر ٹرمپ ایک صدارتی حکمنامہ استعمال کر سکتے ہیں یا ان کے حامیوں کے زیر اثر محکمۂ قانون ایک حکم جاری کر سکتا ہے۔ اس سے عندیہ ملے گا کہ انتظامیہ ٹرمپ کو اس متنازع انتخاب کا فاتح سمجھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ ’بالکل غلط اور ناقابل منظور ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’20 جنوری کی شام کے بعد بھی اگر فوج کو حکم دیا جاتا ہے کہ صدر کو سیلوٹ کریں تو اس سے فوج ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہوجائے گی۔‘
ماہرین کے مطابق صدر کے اعلان نے شہروں میں پُرتشدد واقعات کے امکان بڑھا دیے ہیں
پروفیسر روڈسِل نے کہا کہ ’ملک کے نصف شہری اور دنیا بھر میں کئی لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ غیر سیاسی امریکی فوج کسی ایک فریق کے حق میں جانبدار ہوگئی ہے۔ فوج کو کبھی بھی ایسا حکم نہیں ملنا چاہیے۔‘
سیاسی جماعتوں کے آپسی تنازعات کی وجہ سے مسلح افواج کی خود مختاری بھی خطرے میں محسوس ہو رہی ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے کئی علاقوں میں پُرتشدد واقعات بڑھ سکتے ہیں۔
کیشا بلین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسی صورتحال جس میں صدارتی امیدوار نتائج میں اپنی ہار تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو ملک میں شدید انتشار پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق صدر کے بیانیے نے مظاہروں اور پُرتشدد واقعات کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔
گذشتہ مہینوں کے دوران امریکی شہروں میں کئی پُرتشدد واقعات سامنے آئے۔ مسلح مظاہرین نے صدر کے حق میں اظہار خیال کیا جبکہ نسلی تعصب کی مخالفت میں بھی احتجاج دیکھے گئے۔ یہ اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی سیاسی تناؤ کے نتیجے میں تشدد کی فضا پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔
دنیا
پوتن نے ٹرمپ سے کہا، یوکرین نے فوری امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا: کریملن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ یوکرین نے روس کے پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرکے سہ فریقی امن مذاکرات کی فوری بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے ہفتہ کو ایک سینئر روسی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ نے پوتن کا موقف سنا ہے اور وہ ماسکو کا پیغام میامی میں امریکی عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے موجود یوکرینی وفد تک پہنچائیں گے۔
اوشاکوف نے کہا، ”ہمارے انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کیف حکومت نے انتخابات کے اہم دن ماسکو، دیگر شہروں، پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹنگ کے انعقاد سے وابستہ مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے۔ اس طرح اس نے مذاکراتی عمل فوری طور پر بحال ہونے کے امکانات کو عملاً ختم کردیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”اب، جیسا کہ صدر نے کہا ہے، ہم اس بات پر غور کریں گے کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔”
اوشاکوف کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس کے جنگی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جبکہ روسی افواج میدانِ جنگ میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور انہیں برتری حاصل ہے۔
اوشاکوف نے کہا، ”پوتن نے واضح کر دیا ہے کہ خصوصی فوجی کارروائی کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں ہمارا موقف بدستور برقرار ہے۔ اسی طرح دیرپا اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل پر آمادگی بھی برقرار ہے۔” کریملن یوکرین میں جاری جنگ کے لیے ”خصوصی فوجی کارروائی” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتن کو جنگ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے ان پر ”تفہیم کے ساتھ” غور کیا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان 90 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلی فونک گفتگو کا زیادہ تر حصہ یوکرین کے مسئلے پر مرکوز رہا۔
اوشاکوف نے بتایا کہ پیوٹن نے ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا اور واشنگٹن سے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، ”پیوٹن نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے معاملے میں سفارت کاری کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔”
اوشاکوف کے مطابق، تعطل ختم کرنے کے ممکنہ راستے کے طور پر انتہائی افزودہ ایرانی یورینیم کو روس منتقل کرنے کی ماسکو کی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اس معاملے میں روس کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق ایران کا موقف ٹرمپ تک پہنچایا ہے۔ان کے مطابق، پیوٹن نے ترکمانستان میں دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی اور انہیں ٹرمپ کے ساتھ مجوزہ ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔
پیسکوف نے کہا، ”بعد ازاں ایرانی صدر کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پوتن نے تنازع کے ممکنہ حل کے بارے میں ایرانی فریق کا نقطۂ نظر ٹرمپ تک پہنچایا۔”
ٹرمپ نے جمعہ کو پوتن کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ”انتہائی کامیاب بات چیت” قرار دیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس نے امریکہ اور عالمی منڈیوں کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد مختصر مدت میں دس لاکھ ٹن اور اضافی 30 لاکھ ٹن ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہے۔ تاہم، یہ فراہمی روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتِ حال پر منحصر ہوگی۔
پوتن نے کہا کہ امریکہ اور عالمی منڈیوں کو روسی ڈیزل کی بڑھتی ہوئی فراہمی عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے توانائی کی منڈیوں، یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے امکانات، ایران سے متعلق تنازع اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
زیلنسکی کی روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی اپیل نظرانداز کرنے پر ٹرمپ نے پوتن سے ڈیزل معاہدہ کیا: امریکی عہدیدار
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ اس وقت کیا جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی امریکی اپیلوں کو بار بار نظرانداز کیا۔ اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک امریکی عہدیدار نے ‘ایکسیوس’ کو یہ اطلاع دی۔
اس فیصلے سے واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا، ”زیلنسکی صورتِ حال کو درست طور پر نہیں سمجھ رہے ہیں۔ ریفائنریوں پر حملے جاری رکھ کر وہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹرمپ کے ساتھ قائم ہونے والی خیرسگالی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”
زیلنسکی نے ایکسیوس کو دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس اعلان کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے اسے ”غیر منصفانہ اور غیر دیانت دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بلاجواز تحفہ دینے کے مترادف ہے۔
حالیہ مہینوں میں روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے روس کے توانائی کے شعبے میں خلل پڑا ہے اور توانائی کے بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے جواب میں ماسکو نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کردی، جس سے ایران سے متعلق جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں پر مزید دباؤ پڑا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ چاہتے تھے کہ یوکرین یک طرفہ طور پر روسی ریفائنریوں پر حملے روک دے، کیونکہ ان حملوں سے امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ٹرمپ یوکرین کے ان حملوں کو یوکرین کے بجلی کے نظام پر روسی حملوں کے مساوی نہیں سمجھتے تھے۔
زیلنسکی نے ٹرمپ اور امریکی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو بتایا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دے تو کیف روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانا بند کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمعہ کو میامی میں آٹھ گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران وٹکوف اور کشنر نے یوکرینی مذاکرات کاروں کو بتایا کہ ٹرمپ کی پوتن سے بات چیت متوقع ہے اور وہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کر سکتے ہیں۔
امریکی وفد کے مطابق، یہ فیصلہ کیف کی جانب سے حملے روکنے سے بار بار انکار کے بعد کیا گیا۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ ان حملوں سے امریکی صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
ایک یوکرینی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ وٹکوف اور کشنر نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین نے امریکی درخواستوں کو نظرانداز کرنا جاری رکھا تو امریکہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بند کر دے گا۔ تاہم، امریکی عہدیدار نے ایسی کسی دھمکی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ایلچیوں نے اس کے بجائے اس بات پر زور دیا تھا کہ واشنگٹن ہتھیاروں اور انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کے ذریعے یوکرین کا مضبوط شراکت دار ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روبیو کے ‘موت کے فرقے’ سے متعلق بیان پر ایران کا سخت ردعمل، امریکہ پر تہذیب کو نشانہ بنانے کا الز
تہران، ایران نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبائیو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ مغربی تاریخ میں مزاحمت کی تعریف کرتا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ قرار دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے روبیو کے اس بیان کو چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے قدیم یونانی تاریخ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی سے جوڑا تھا۔
ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ روبیو کی حالیہ تقریر میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونان کے تناظر میں آخری دم تک ڈٹے رہنے کی تعریف کی جاتی ہے، لیکن عظیم ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”مسٹر روبیو، آپ کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔”
ولایتی نے کہا کہ اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کی تعریف کرنا اور دوسروں کی جانب سے اسی طرز عمل کو اختیار کیے جانے پر اس کی مذمت کرنا دیانت داری نہیں ہے۔ انہوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کاریوں کے ذمہ داروں کو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب بقائی نے روبیو پر الزام لگایا کہ وہ قدیم یونان سے جدید امریکہ تک مغربی تہذیب کو ایک مسلسل تاریخی سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یونانی فلسفے کا انتخابی استعمال کرکے طاقت اور قومی عزائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں روبائیو نے مغرب کی تاریخ کو قدیم یونان سے عصر حاضر کے امریکہ تک ایک غیر منقطع سلسلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق، مختلف تاریخی ادوار اور تصورات کو اس طرح یکجا کرنا تاریخ کے تناظر کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے یہ دریافت کر لیا ہو کہ تاریخ کے فلسفے کی روشنی میں دھمکی آمیز رویے کو پیش کرنا، روایتی سخت گیر زبان کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ روبیو نے یونانی تصور ‘تھوموس’ کو اس کے تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے الگ کرکے طاقت، مسابقت اور قومی ارادے کی تعریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ‘تھوموس’ کا تعلق جذبے، ولولے اور احساسِ وقار سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تشریح میں یونانی فکری ورثے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ قدیم یونانی فلسفہ صرف طاقت اور عظمت کے تصورات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سامراجی عزائم، جارحیت اور اقتدار کی حدود پر تنقید بھی شامل تھی۔
بقائی نے ہومر کی رزمیہ نظم ‘ایلیڈ’، ٹروئے کی داستان، تھوسی ڈائڈیز کی ‘پیلوپونیشین جنگ کی تاریخ’، افلاطون کی ‘ریپبلک’، ارسطو کی ‘پولیٹکس’ اور سوفوکلیز کے ڈراموں ‘اینٹی گون’ اور ‘اوڈیپس ریکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں طاقت کی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی تقدیر جیسے موضوعات پر گہری بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں اور فوجی طاقت کو جائز ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے منتخب پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس طرح تاریخ کو تحقیق اور تنقیدی غوروفکر کے بجائے سیاسی مقاصد کے جواز کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں موجودہ سیاسی پالیسیوں کو ناگزیر اور تاریخ کے طے شدہ راستے کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تاریخ کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں، بلکہ طاقت کی عظمت کا جشن منانا رہ جاتا ہے۔
بقائی نے روسی مصور واسیلی ویریشچاگن کی پینٹنگ ‘دی اپوتھیوسس آف وار’ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انسانی کھوپڑیوں کا ایک ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن پارہ فتوحات کی شان و شوکت کے بیانیے کے برعکس جنگ اور فتح کے تباہ کن نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی مفکرین پر زور دیا کہ وہ مغربی تہذیب کی فکری اور تاریخی روایات کی انتخابی تشریح کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کے مطابق، خطرہ صرف ماضی کو غلط سمجھنے میں نہیں، بلکہ موجودہ دور میں طاقت کے بے لگام استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے تاریخ کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں بھی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
