تازہ ترین
کابل: افغان حکومت نے 100 طالبان قیدی رہا کر دیے
طالبان اور افغان حکومت کی درمیان قیدیوں کی رہائی کے لیے کابل میں ہونے مذاکرات کے ناکام ہونے کے ایک دن کے بعد افغان حکومت نے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
یادر ہے کہ افغان حکومت اور طالبان عہدیدار گزشتہ ہفتے سے کابل میں فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے بات چیت کر رہے تھے۔ لیکن، منگل کو طالبان نے افغان حکومت پر حیلے بہانے سے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کرنے کا الزم عائد کرتے ہوئے افغان حکام سے جاری بات چیت ختم کر دی۔
افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کی طرف ہونے ایک بیان کے مطابق، افغان صدر اشرف غنی کے 11 مارچ کے فرمان کے مطابق، افغان حکومت نے بدھ کو 100 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
بیان کے مطابق، ان قیدیوں کی رہائی ان کی صحت، عمر اور ان کی باقی ماندہ قید کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ افغان حکومت کے مطابق، ان قیدیوں کی رہائی امن کوششوں اور کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کی کوشش کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ رہائی پانے والے طالبان قیدیوں نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ دوبارہ لڑائی میں شامل نہیں ہوں گے۔
یادر ہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہونا تھا۔ لیکن، یہ معاملہ بعض وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہوتا رہا ہے۔ افغان حکومت نے طالبان قیدیوں کی مشروط اور مرحلہ وار رہائی کی منظوری دی چکی ہے۔ لیکن، طالبان اپنے قیدیوں کی مشروط رہائی قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
حال ہی میں فریقین کے درمیان ہونے والے رابطوں کے بعد طالبان کی ایک تین رکنی ٹیم قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بات چیت کے لیے گزشتہ ہفتے کابل پہنچی جہاں فریقین کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور ہوئے۔ لیکن، منگل کو طالبان نے افغان حکومت پر قیدیوں کے تبادلہ میں تاخیر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بات چیت سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے کابل سے اپنی مذاکراتی ٹیم کو واپس بلانے کا اعلان کیا۔
ادھر افغان حکومت کا موقف ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر اس لیے ہو رہی ہے کہ طالبان سب سے پہلے اپنے 15 اعلیٰ کمانڈروں کی رہائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، جب کہ افغان حکومت طالبان کے 400 قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار ہے جو خطرناک نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان نے رواں سال فروری کے اواخر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بین الافغان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے افغان حکومت نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنا تھا، جب کہ اس کے بدلے طالبان نے افغان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔ لیکن فریقین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہوا۔ طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک تمام طالبان قیدی رہا نہیں ہو جاتے اس وقت تک بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔
طالبان نے حال ہی میں ایک بیان میں امریکہ پر زور دیا کہ وہ کابل حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، تاکہ طالبان قیدیوں کی جلد رہائی ممکن ہوسکے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ اگر طالبان قیدیوں کی رہائی جلد عمل میں آتی ہے تو اس کے نتیجے میں بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔
دنیا
ایندھن کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر امریکہ روس سے ڈیزل درآمد کرے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکہ میں ایندھن کی قیمتں کم کرنے کے دباؤ بڑھنے کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن “امریکی اور عالمی مارکیٹ” کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، جس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز اٹھائے گئے اس قدم سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “ایک ایسی جنگ میں سرمایہ کاری ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے، نہ کہ طویل کھینچا جانا چاہیے۔”
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی ٹریژری 7 اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندیوں کو ہٹا رہی ہے، لیکن امریکی بینکوں میں موجود دیگر اثاثے ابھی بھی منجمد ہیں۔
اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس کی جانب سے مزید تیس لاکھ ٹن ڈیزل “کم وقت میں” دستیاب کرایا جائے گا، جو وہاں کی ریفائنریز کی صورتحال پر منحصر ہوگا جن پر یوکرین نے حملے کیے ہیں۔
بعد میں پوتن نے کہا کہ روس-جس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی-امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بیان میں مقدار کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تاہم، تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، اور ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔
دریں اثنا، برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا مؤقف “بالکل واضح” ہے اور وہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
“ہم برطانیہ کی جانب سے اب تک عائد کردہ سخت ترین پابندیوں کے ذریعے روس پر دباؤ برقرار رکھیں گے، پوتن کی جارحیت کی قیمت بڑھائیں گے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔”
جمعہ کا یہ اعلان امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کی سمت میں ٹرمپ کی تازہ ترین کوشش ہے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے سیاسی نتائج اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر اس کے اثرات سے نمٹنے میں کئی مہینوں سے مصروف ہیں، جس کا آغاز فروری میں ہوا تھا۔ اس تنازع کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور بالخصوص ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت کو دھکا لگا ہے؛ لوگ پمپوں پر بلند قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شدید پریشان ہیں۔
اے اے اے کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت فی الحال 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو کہ ستمبر کے آخر میں درج کیے گئے 6.53 ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح سے کچھ کم ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراََ بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے باضابطہ طور پر ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا، جس سے روسی ڈیزل کی مارکیٹ میں آمد کی راہ ہموار ہو گئی۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
