ہندوستان
کانگریس کے ووٹ چوری کرائے جارہے ہیں، گیانیش کمار ووٹ چوروں کو بچا رہے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ پورے ملک میں کانگریس کو ووٹ دینے والے ووٹروں کے نام جان بوجھ کر انتخابی فہرستوں سے ہٹائے جا رہے ہیں اور یہ کام ملک بھر میں خودکار، مرکوز اور حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہےلوک سبھا میں حزب اختلاف کےلیڈر مسٹر گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب شکایت کی جاتی ہے تو اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسٹر گیانیش کمار ملزمان کو بچا رہے ہیں اور ووٹ چوری کی کارروائی کو تحفظ فراہم رہے ہیں۔
جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک خصوصی پریس کانفرنس میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ حکمت عملی کے ساتھ کاٹے جا رہے ہیں اور کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ووٹروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کرناٹک کے الند کا ذکر کیا، جہاں 6,018 ووٹ کاٹے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن ووٹر کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ہیں وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کے نام حذف کردیے گئے ہیں۔ نام حذف کرنے کا یہ عمل نہایت صاف، منظم اور مرکوز طریقے سے انجام دیا گیا ہے۔
انہوں نے اس معاملے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں کچھ ووٹروں کو بھی پیش کیا۔ ان میں سے ایک سوریہ کانت نے کہا کہ اس نے کوئی ووٹ ڈیلیٹ نہیں کیا ہے، جب کہ ان کے نام سے 12 ووٹ محض 14 سیکنڈ میں ڈیلیٹ کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ووٹ کاٹ دیا گیا جس کی انہیں خبر تک نہیں ہے۔ اپنا ووٹ کاٹے جانے سے وہ حیران ہیں اور جب اس معاملے کی شکایت کی گئی تو اس پر کہیں سنوائی نہیں ہورہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس کو ووٹ دینے والے ووٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دلت اور او بی سی ووٹوں کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ کانگریس کے ووٹروں کے نام جان بوجھ کر ڈیلیٹ کیے گئے ہیں اور جن کے ووٹ ڈیلیٹ کیے گئے وہ اس سے لاعلم ہیں اور یہ تمام ووٹ کرناٹک سے باہر کے موبائل نمبروں سے ڈیلیٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘سوال یہ ہے کہ ان ووٹوں کو کون اور کہاں سے ڈیلیٹ کر رہا ہے؟ کس نے اور کیسے او ٹی پی بنایا اور ووٹوں کو ڈیلیٹ کیا؟ کرناٹک کے الند میں 6018 سے زیادہ ووٹ کیسے ڈیلیٹ کیے گئے؟ محض 14 منٹ میں 12 ووٹ ڈیلیٹ کر دیے گئے اور جس شخص کے نام پر یہ کیا گیا اسے اس کی خبر تک نہیں ہے۔’
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ووٹوں کو ڈیلیٹ کرنے کا یہ واقعہ نہ صرف کرناٹک بلکہ مہاراشٹر کے راجواڑا میں بھی ہوا ہے۔ اسی طرح کا کام مہاراشٹر، ہریانہ اور اتر پردیش میں ہوا ہے۔ اس میں نام غلط ہوتے ہیں اور پتے تو ہوتے ہی نہیں ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
