تازہ ترین
کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی بحالی محض دعویٰ:ڈاکٹر فاروق عبداللہ
کل جماعتی میٹنگ پر قدغن،مین اسٹریم لیڈران کا ردِ عمل
بھا جپا کا جشن منانے کا اعلان منافقت:عمر عبداللہ،جذبات کو دبا نا ناممکن:التجاء،کیا یہی حکومت کی نار ملسی ہے؟تاریگامی، زمینی صورتحال مختلف:مظفر شاہ
سرینگر:مجوزہ کل جماعتی میٹنگ پر انتظامیہ کی جانب سے قدغن لگائے جانے پر سابق وزیر اعلیٰ و نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ سمیت کئی لیڈران نے اپناردِ عمل ظاہر کیا۔سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی بحالی کو محض دعویٰ قرار دیا۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 5اگست کو جشن منا رہی ہے،دوسری جانب ہمیں کل جماعتی میٹنگ کی اجازت نہیں جارہی ہے،یہ منا فقت ہے۔سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے طنزیہ سوال کرتے ہوئے کہا ’یہی حکومت کی نارملسی ہے‘۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی بیٹی التجاء مفتی نے کہا کہ جذبات کو دبایا نہیں جاسکتا ہے۔
اے این سی کے نائب صدر مظفر شاہ کہتے ہیں کہ سرکاری نشریاتی ادارے کہتے ہیں کشمیر میں کرفیو نہیں ہے لیکن زمینی صورتحال بالکل مختلف ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے 5اگست کے جشن کو منافقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیگر لیڈران کو جموں وکشمیر میں کیا کچھ ہورہا ہے؟،پر تبادلہ خیال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
انہوں نے سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریر کرتے ہوئے بھا جپا کو نشانہ بنا یا اورکہا ’بی جے پی اپنی منافقت کا مظاہرہ کررہی ہے، وہ اکٹھا ہوسکتے ہیں اور جشن منا سکتے ہیں،باقی ہم سب،جموں و کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ اس پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے مل بھی نہیں سکتے ہیں‘۔سلسلہ وار ٹوئیٹس میں عمر عبداللہ کا مزید کہنا تھا ’ایک سال بعد بھی حکام اتنے خوفزدہ ہیں کہ ہمیں میٹنگ کی اجازت دیں تاکہ ہم کم سے کم معمول کی سیاسی سرگرمی جاری رکھ سکیں، یہ خوف کشمیر میں زمینی حقائق کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے‘۔انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ’واضح طور پر آگے بڑھنے کیلئے میٹنگ کی اجازت نہیں دی گئی،بی جے پی 5اگست کے موقع پر15روزہ جشن منا نے کا اعلان کرتی ہے اور ہم میں سے چند ایک کو میرے والد کی رہائش کے احاطے میں ملنے یا میٹنگ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے،بی جے پی کی قومی قیادت حیرت زدہ ہیں کہ یہاں کوئی سیاسی سرگرمی کیوں نہیں ہے؟‘
۔ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی طرف سے بلائی جانے والی مجوزہ میٹنگ کے بارے میں انہوں نے لکھا ’ایک سال ہوگیا، یہ آج کا گپکار روڑ ہے، ہمارے دروازوں کے سامنے پولیس گاڑیاں،خار دار تاریں پورے روڑ پر نصب کی گئیں اور کسی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ میرے والد نے موجودہ صورتحال پر غور وخوض کرنے کیلئے مین اسٹریم جماعتوں کے لیڈران کی ایک میٹنگ طلب کی تھی‘۔سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجاء مفتی نے کہا ہے کہ جذبات کو دبایا نہیں جاسکتا ہے۔ سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سوالیہ انداز میں کہا ’کیا یہی نار ملسی ہے،جس کے بارے میں حکومت کہہ رہی ہے؟‘۔
ان کا کناتھا ’آپ کیسے نار ملسی کے دعوے کر سکتے ہیں جب لیڈران کو میٹنگ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ وہ آج کی طلب کر دہ مجوزہ میٹنگ میں شرکت کرنے کا پروگرام رکھتے تھے،لیکن مجھے کہا گیا کہ گھر سے باہر قدم نہیں رکھنا‘۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنا ہے کہ جو لیڈران مجوزہ میٹنگ میں شرکت کرنے والے تھے،کو خانہ نظر بند رکھا گیا ہے‘۔ ان کا کہناتھا کہ ’کشمیر میں سیاسی سرگر میاں بحال ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے،لیکن ایک بھی لیڈر کو میری رہائش گاہ پر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے‘۔حکام کا کہنا ہے کہ سرینگر میں دفعہ144نافذ ہے اور کسی کو بھی اسکی خلاف ور زی کی اجازت نہیں دی جا ئے گی۔
اے این سی کے نائب صدر مظفر شاہ کہتے ہیں کہ سرکاری نشریاتی ادارے کہتے ہیں کشمیر میں کرفیو نہیں ہے لیکن زمینی صورتحال بالکل مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے 5اگست 2019کو کی گئی ہمالیاتی غلطی کیساتھ جموں وکشمیر اور لداخ کی اکثریت نہیں ہے‘۔انہوں نے کہا ’5اگست 2020کو لی گئی تصاویر کنٹرولڈ میڈیا کی جانب سے جھوٹ کا پلندہ ہے‘۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
