تازہ ترین
کشمیر میں کورونا لاک ڈاءون کے 32واں دن
وادی کشمیر میں کورونا وائرس لاک ڈاءون کے ایک32دن مکمل ہوئے ،جس دوران شہر اور دیہات میں سخت بندشیں جاری ہیں ،جبکہ متاثرین کی تعداد میں روز روز کے اضافے سے عوامی حلقوں میں اضطراب بڑ رہا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس(کے این ایس ) کے مطابق وادی کشمیر میں گذشتہ32روزسے جاری لاک ڈاءون جاری ہے جس دوران خانیار سے خادنیار تک پابندیاں اور بندشیں سختی کیساتھ لاگو رہیں ۔
وادی میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں روز افزوں اضافے اور4 وائرس متاثرہ معزز افراد کی موت سے جہاں لوگ دہشت زدہ ہیں ، وہیں حکومت نے بھی لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے پابندیوں کو مزید سنگین کیا ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد لوگوں کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنا ہے ۔
سنیچر کوشہر سرینگر میں ہر سو سناٹا اور خوف وخاموشی چھائی ہوئی تھی لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں حد درجہ احتیاط کررہے ہیں ۔ سڑکوں اور گلی کوچوں پر سیکورٹی اہلکار ہاتھوں میں ڈنڈے لئے کھڑے ہیں اور خار دار تار سے بچھا کر بھی لوگوں کی نقل وحمل کو محدود کردیا گیا ہے ۔
شہر میں ڈرونز اور پولیس کی گاڑیوں میں نصب لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو رات دن گھروں میں ہی بیٹھے رہنے کی اپیلیں کی جارہی ہیں ۔ لوگوں کو جمعہ نماز اپنے گھروں میں ہی اداکرنے کیلئے کہاگیا جس کی وجہ سے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد،آثار شریف حضرتبل سمیت سبھی چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہ ہوسکی ۔
سنیچر کوبھی شہرسری نگرسمیت کشمیرسے سبھی اضلاع میں لوگ گھروں میں ہی محدود رہے ۔ سری نگرکومختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں ،بین الاضلاعی سڑکوں اورلنک روڈز پربھی پولیس اورفورسزنے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جبکہ جگہ جگہ چیک پوائنٹ پوسٹس قائم کی گئی ہیں جہاں سے لازمی خدمات سے منسلک افسروں ،ڈاکٹروں اورملازمین کے بغیرکسی بھی شہری کوپیدل یاگاڑیوں میں سوارہوکر آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ شہر سری نگر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد بند ہیں اور لوگ گھروں میں ہی نماز پنجگانہ ادا کررہے ہیں ۔
وادی کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ ضلع انتظامیہ کی طرف سے دفعہ 144 کے تحت کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں اور لوگوں کو گھروں میں بیٹھے رہنے کو یقینی بنانے کے لئے پولیس گاڑیاں مسلسل چکر کاٹ رہی ہیں اور لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھنے کی اپیل کرتے ہیں ۔ وادی میں سری نگر سے لے کر دیہات تک کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی ۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کرکے اس وبا کے فوری خاتمے کے لئے دعائیں کیں ۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے خیرات دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے تاکہ اس وبا سے چھٹکارا پایا جاسکے ۔
حکومت کے علاوہ مذہبی تنظیموں نے بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کو موجودہ حالات کے پیش نظر معطل رکھنے کا فیصلہ لیا تھا ۔ جموں وکشمیر میں انتظامیہ نے درجنوں ایسے علاقوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا ہے جہاں سے کورونا وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں ۔ ان علاقوں کواب سلاخوں سے مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کرکے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے علاقوں میں لوگوں کے لئے ضروریات زندگی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے ۔
ادھرصوبہ جموں ، جہاں کشمیر کے نسبت کورونا وائرس کے بہت کم مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں ، میں جمعہ کو مسلسل لاک ڈاءون جاری رہا ۔ جموں شہر اور صوبہ کے دیگر 9 اضلاع کے ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے اور کاروباری و دیگر سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں ۔ پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سڑکوں پر سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ۔
صوبہ جموں میں بھی کہیں بھی نماز جمعہ کا اجتماع منعقد نہیں ہوا ۔ یاد رہے کہ جموں کے ضلع ادھمپور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جوکہ کورونا پازیٹیو تھیں ،کی موت ہوگئی ہے ۔
اس موت کے بعد جموں میں سہم کر رہ گیا ۔ جموں کو مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ،تاہم لاک ڈاءون کی وجہ سے یہاں مندروں میں پوجا پاٹ نہیں ہوتی ہے ۔ ادھر وادی میں جمعہ کو ایک اور مریض کی موت ہوگئی ،جسکی وجہ سے صورتحال اور زیادہ سنگین ہوگئی ۔
دنیا
ایندھن کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر امریکہ روس سے ڈیزل درآمد کرے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکہ میں ایندھن کی قیمتں کم کرنے کے دباؤ بڑھنے کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن “امریکی اور عالمی مارکیٹ” کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، جس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز اٹھائے گئے اس قدم سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “ایک ایسی جنگ میں سرمایہ کاری ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے، نہ کہ طویل کھینچا جانا چاہیے۔”
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی ٹریژری 7 اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندیوں کو ہٹا رہی ہے، لیکن امریکی بینکوں میں موجود دیگر اثاثے ابھی بھی منجمد ہیں۔
اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس کی جانب سے مزید تیس لاکھ ٹن ڈیزل “کم وقت میں” دستیاب کرایا جائے گا، جو وہاں کی ریفائنریز کی صورتحال پر منحصر ہوگا جن پر یوکرین نے حملے کیے ہیں۔
بعد میں پوتن نے کہا کہ روس-جس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی-امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بیان میں مقدار کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تاہم، تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، اور ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔
دریں اثنا، برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا مؤقف “بالکل واضح” ہے اور وہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
“ہم برطانیہ کی جانب سے اب تک عائد کردہ سخت ترین پابندیوں کے ذریعے روس پر دباؤ برقرار رکھیں گے، پوتن کی جارحیت کی قیمت بڑھائیں گے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔”
جمعہ کا یہ اعلان امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کی سمت میں ٹرمپ کی تازہ ترین کوشش ہے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے سیاسی نتائج اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر اس کے اثرات سے نمٹنے میں کئی مہینوں سے مصروف ہیں، جس کا آغاز فروری میں ہوا تھا۔ اس تنازع کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور بالخصوص ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت کو دھکا لگا ہے؛ لوگ پمپوں پر بلند قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شدید پریشان ہیں۔
اے اے اے کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت فی الحال 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو کہ ستمبر کے آخر میں درج کیے گئے 6.53 ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح سے کچھ کم ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراََ بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے باضابطہ طور پر ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا، جس سے روسی ڈیزل کی مارکیٹ میں آمد کی راہ ہموار ہو گئی۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
