تازہ ترین
کشمیر میں کووڈ ۔ 19 سے ایک اورہلاکت، مجموعی تعداد 5ہو گئی
کشمیر میں جمعے کو کووڈ ۔ 19مرض میں مبتلاء ایک اور معمر مریض کی موت ہوئی اور اس طرح وادی کشمیر میں کورونا ہلاکتوں کی تعداد4جبکہ جموں وکشمیر میں مجموعی طور پر 5ہوگئی ۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے فوت شدہ مریض کی تدفین آبائی علاقہ میں جاری رہنما خطوط اور پرو ٹو کول کے مطابق ہوئی ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق عہدیداروں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک70 سالہ کووڈ ۔ 19 مریض کا اسپتال میں انتقال ہوگیا ہے جس کے بعد جموں و کشمیر میں نئے کورونا وائرس کی وجہ سے پانچویں موت ہوگئی ہے ۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایس کے آئی ایم ایس بمنہ ڈاکٹر شفا اے دیوا ، نے موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسے 2 اپریل کو اسپتا ل میں داخل کرایا گیا تھا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ انتہائی دباءو کا شکار تھے اور دمہ میں بھی مبتلا تھے ۔ کورونا وائرس سے با رہمولہ میں گزشتہ21 روز کے دوران42 افراد کے ٹیسٹ مثبت پائے گئے جبکہ ٹنگمرگ کے ایک گاءوں میں ایک معمر شہری کی موت واقع ہوئی ۔
اس دورانن 15دیہات ریڈ زون اور کئی دیہات بفر زون قرار گئے ہیں ،216 افراد اسپتالوں میں داخل کئے اور15ہزار سے زیادہ افرادہوم قرنطینہ میں رکھے گئے ۔ محکمہ صحت کے ذراءع نے بتایا ہے کہ شمالی بارہمولہ پہلا مثبت کیس 25 مارچ کو آیا تھا ۔ ٹنگمرگ کے 20، سوپور کے13 اور اوڑی کے 9 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے شامل ہیں ۔
15ہزار سے زیادہ افراد ہوم قرنطینہ میں ہیں جن میں سے216 افراد قصبہ بارہمولہ ، سوپور ، پٹن ، ٹنگمرگ ، رفیع آباد اور اوڑی کے علاوہ کئی علاقوں میں قائم کئے گئے واڑوں یا اسپتالوں میں داخل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ38 افرادضلع اسپتال بارہمولہ میں میں ہیں جبکہ 20افراد آیسولیشن واڑوں میں ہیں ۔
ذارءع کے مطابق ضلع میں 7413 افراد نے ہوم قرنطینہ مکمل کیا ہے ۔ ضلع میں انتظامیہ نے ابھی تک15 دیہات کو ریڈ زون قرار دیا ہے جن میں سولیندہ ٹنگمرگ ، چکتن چھانہ پورہ ،چندیلورہ ،ہاریونتو،کامپورہ ،گوٹی پورہ ،کٹی پورہ ،قاضی پورہ ، کیلوارہ ،کرلپورہ ، خواجیپورہ،سون ،اْگہامہ ،اور اوڑی کے سلطان ڈھکی، بسگرں اور املوک کالونی شامل ہیں ۔ ٹنگمرگ اور اوڑی کے کئی دیہات کو بفر زون بھی قرار دیا گیا ہے ۔ اس دوران محکمہ صحت نے کہا کہ محکمہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے اور عوامی تعاون طلب کیا ۔
اس دوران کورونا وائر س سے ہلاک شدہ مریض کی تدفین آبائی علاقہ میں جاری رہنما خطوط اور پرو ٹو کول کے مطابق ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ جنازے میں چند افراد نے ہی شرکت کی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر مذہب میں آخری رسومات کے انداز مختلف ہیں ، مسلمان، ہندو، عیسائی، سکھ اور بدھ مت سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والے مختلف انداز میں اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں ۔ مگر کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں آخری رسومات سے جڑی روایات میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں ۔
عالمی ادارہ صحت نے 24 مارچ کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے انتقال کرنے جانے والے افراد کی لاشیں وائرس کو منتقل نہیں کرتیں ۔ تاہم عالمی ادارے نے رشتے داروں کو میت کو نہ چھونے کا مشورہ دیا جبکہ دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے سماجی دوری کی ہدایات کے نتیجے آخری رسومات اور تدفین کے عمل میں بھی کافی کچھ تبدیل ہوا ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
