تازہ ترین
کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی مخدوش: میرواعظ عمر فاروق
خبراردو:
نماز جمعہ سے قبل عوام کے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سرینگر میں حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے حکومت ہندوستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی متنازعہ سیاسی حیثیت کو بگاڑنے اور جموں وکشمیر کی ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ایک لاحاصل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حریت کانفرنس(ع) کا اس سلسلے میں موقف بالکل واضح ہے اور یہ کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور کسی بھی عدالتی، قانونی یا سیاسی اقدامات کے ذریعے اس مسئلہ کی متنازعہ حیثیت و ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتااور آج نہیں تو کل اس مسئلہ کو حل کرنا ہی ہوگا۔
میرواعظ نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو انتہائی مخدوش غیر واضح اور حد درجہ تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی ہفتوں سے لگاتار یہاں کے حالات میں زبردست تبدیلی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں نیم فوجی دستوں کو نئے سرے سے یہاں لاکر کشمیر کے چپے چپے پر تعینات کیا جارہا ہے ایسے حالات میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ حکومت کے کیا منصوبے اور عزائم ہیں کیونکہ ان حالات کی وجہ سے ہر طرف تشویش اور چے میگوئیوں کا بازار گرم ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اس سارے عمل کو معمول کی کارروائی بتاکر حالات ٹھیک ہیں کا اعلان کررہی ہیں مگر دوسری طرف جبکہ کشمیر میں پہلے سے ہی لاکھوں کی تعداد میں فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں ایسے میں مزید ہزاروں کی تعداد میں فورسز کی تعیناتی سمجھ سے بالا ترہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔میرواعظ نے کہا کہ جہاں تک 35A اور دفعہ370کا تعلق ہے تو کبھی ان دفعات کو ہٹانے کی بات کی جاتی ہے جسکا مقصد اس ریاست کے مسلم اکثریتی کردار اور اس مسئلہ کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنا ہے اور یہ آج سے نہیں 1947سے کوشش ہو رہی ہے اور اس حوالے سے بھارت کے سپریم کورٹ میں بھی کئی عرضیاں داخل کی جاچکی ہیں اور کشمیر کی ہند نواز جماعتوں کیلئے ان دفعات کا دفاع کرنا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور وہ عوام کے سامنے آکر انہیں بتائیں کہ انہوں نے کن شرائط کے تحت بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کیاتھا۔
میرواعظ کے بقول مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت پوری عالمی برادری تسلیم کرچکی ہے اور آج امریکہ سمیت پوری دنیا بھارت اور پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس مسئلہ کو بامعنی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کریں اور ہماری ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ آخر کار بھارت اور پاکستان اور کشمیری عوام کو ہی اس مسئلہ کو حل کرنا ہے۔ شوشہ بازی، افواہ بازی، دھونس دباؤکی پالیسی سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں کیونکہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور اس مسئلہ کی وجہ سے ہی کئی بار دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے لیکن عالمی برادری کی مداخلت کی وجہ سے جنگی صورتحال ٹل گئی اورہم دیکھ رہے ہیں کہ آج ایل او سی پر گریز سیکٹر، راجوری اورمژھل سیکٹر میں دونوں اطراف سے بھاری گولہ باری کے نتیجے میں انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ نہ پاکستان اور نہ بھارت کا کوئی فوجی مرے اور نہ کشمیری ہی مریں کیونکہ ہمارا واحد مدعا و مقصد یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔
حریت (ع) چیرمین نے کہا کہ 1947سے یہاں کے حالات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں تاہم حریت قیاد ت کو ہدف تنقید بنانے سے یا بیجا پروپیگنڈا کرنے سے اس مسئلہ کی حساسیت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کیونکہ حریت کانفرنس نے 2004میں بھی بھارت اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے مذاکرات کے کئی ادوار کئے اور آج بھی ہمارا یہ موقف واضح ہے کہ اس مسئلہ کو صرف تینوں فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے عوام سے تلقین کی کہ وہ آج کے مخدوش اور غیر یقینی صورتحال میں اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق قائم رکھیں اور اللہ کی ذات بے ہمتا پر مکمل بھروسہ رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف انفرادی اور اجتماعی طور پر رجوع کریں کیونکہ اس ذات واحد کے ساتھ توسل کرنے سے ہی ہمارے جملہ مشکلات اور مصائب حل ہو سکتے ہیں اور ہم نے ماضی میں بھی مشکل حالات کے دوران جس ہمت اور حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا ہے آئندہ بھی اللہ کے بھروسے اسی ہمت اور حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں گے۔
ہندوستان
مودی، شاہ، گیانیش سے لڑ رہا ہوں، پیچھے نہیں ہٹوں گا: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑ رہے ہیں اور وہ انہیں اچھی طرح سمجھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی، مسٹر شاہ، موہن بھاگوت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے چاروں طرف گھیرا مسلسل تنگ ہو رہا ہے اور وہ ان کے خلاف جاری اس لڑائی میں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان لوگوں کی سب سے بڑی پہچان بزدلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی جتنی چاہیں اتنی پولیس بلالیں اور تمام رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیں، لیکن وہ ہرگز پیچھے نہیں ہٹنے والے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا، “ہم آپ کو چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں اور ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ میری بات یاد رکھیے، ہمیں جو جانکاری چاہیے، وہ ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔”
کانگریس رہنما نے ملک کے نوجوانوں سے اپنا احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوانوں پر فخر ہے اور وہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات یقینی بنائیں گے کہ موجودہ حکومت اور آئین پر حملہ کرنے والے لوگ شکست سے دوچار ہوں۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
پوتن نے ٹرمپ سے کہا، یوکرین نے فوری امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا: کریملن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ یوکرین نے روس کے پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرکے سہ فریقی امن مذاکرات کی فوری بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے ہفتہ کو ایک سینئر روسی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ نے پوتن کا موقف سنا ہے اور وہ ماسکو کا پیغام میامی میں امریکی عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے موجود یوکرینی وفد تک پہنچائیں گے۔
اوشاکوف نے کہا، ”ہمارے انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کیف حکومت نے انتخابات کے اہم دن ماسکو، دیگر شہروں، پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹنگ کے انعقاد سے وابستہ مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے۔ اس طرح اس نے مذاکراتی عمل فوری طور پر بحال ہونے کے امکانات کو عملاً ختم کردیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”اب، جیسا کہ صدر نے کہا ہے، ہم اس بات پر غور کریں گے کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔”
اوشاکوف کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس کے جنگی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جبکہ روسی افواج میدانِ جنگ میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور انہیں برتری حاصل ہے۔
اوشاکوف نے کہا، ”پوتن نے واضح کر دیا ہے کہ خصوصی فوجی کارروائی کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں ہمارا موقف بدستور برقرار ہے۔ اسی طرح دیرپا اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل پر آمادگی بھی برقرار ہے۔” کریملن یوکرین میں جاری جنگ کے لیے ”خصوصی فوجی کارروائی” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتن کو جنگ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے ان پر ”تفہیم کے ساتھ” غور کیا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان 90 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلی فونک گفتگو کا زیادہ تر حصہ یوکرین کے مسئلے پر مرکوز رہا۔
اوشاکوف نے بتایا کہ پیوٹن نے ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا اور واشنگٹن سے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، ”پیوٹن نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے معاملے میں سفارت کاری کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔”
اوشاکوف کے مطابق، تعطل ختم کرنے کے ممکنہ راستے کے طور پر انتہائی افزودہ ایرانی یورینیم کو روس منتقل کرنے کی ماسکو کی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اس معاملے میں روس کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق ایران کا موقف ٹرمپ تک پہنچایا ہے۔ان کے مطابق، پیوٹن نے ترکمانستان میں دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی اور انہیں ٹرمپ کے ساتھ مجوزہ ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔
پیسکوف نے کہا، ”بعد ازاں ایرانی صدر کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پوتن نے تنازع کے ممکنہ حل کے بارے میں ایرانی فریق کا نقطۂ نظر ٹرمپ تک پہنچایا۔”
ٹرمپ نے جمعہ کو پوتن کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ”انتہائی کامیاب بات چیت” قرار دیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس نے امریکہ اور عالمی منڈیوں کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد مختصر مدت میں دس لاکھ ٹن اور اضافی 30 لاکھ ٹن ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہے۔ تاہم، یہ فراہمی روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتِ حال پر منحصر ہوگی۔
پوتن نے کہا کہ امریکہ اور عالمی منڈیوں کو روسی ڈیزل کی بڑھتی ہوئی فراہمی عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے توانائی کی منڈیوں، یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے امکانات، ایران سے متعلق تنازع اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
زیلنسکی کی روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی اپیل نظرانداز کرنے پر ٹرمپ نے پوتن سے ڈیزل معاہدہ کیا: امریکی عہدیدار
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ اس وقت کیا جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی امریکی اپیلوں کو بار بار نظرانداز کیا۔ اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک امریکی عہدیدار نے ‘ایکسیوس’ کو یہ اطلاع دی۔
اس فیصلے سے واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا، ”زیلنسکی صورتِ حال کو درست طور پر نہیں سمجھ رہے ہیں۔ ریفائنریوں پر حملے جاری رکھ کر وہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹرمپ کے ساتھ قائم ہونے والی خیرسگالی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”
زیلنسکی نے ایکسیوس کو دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس اعلان کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے اسے ”غیر منصفانہ اور غیر دیانت دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بلاجواز تحفہ دینے کے مترادف ہے۔
حالیہ مہینوں میں روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے روس کے توانائی کے شعبے میں خلل پڑا ہے اور توانائی کے بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے جواب میں ماسکو نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کردی، جس سے ایران سے متعلق جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں پر مزید دباؤ پڑا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ چاہتے تھے کہ یوکرین یک طرفہ طور پر روسی ریفائنریوں پر حملے روک دے، کیونکہ ان حملوں سے امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ٹرمپ یوکرین کے ان حملوں کو یوکرین کے بجلی کے نظام پر روسی حملوں کے مساوی نہیں سمجھتے تھے۔
زیلنسکی نے ٹرمپ اور امریکی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو بتایا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دے تو کیف روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانا بند کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمعہ کو میامی میں آٹھ گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران وٹکوف اور کشنر نے یوکرینی مذاکرات کاروں کو بتایا کہ ٹرمپ کی پوتن سے بات چیت متوقع ہے اور وہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کر سکتے ہیں۔
امریکی وفد کے مطابق، یہ فیصلہ کیف کی جانب سے حملے روکنے سے بار بار انکار کے بعد کیا گیا۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ ان حملوں سے امریکی صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
ایک یوکرینی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ وٹکوف اور کشنر نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین نے امریکی درخواستوں کو نظرانداز کرنا جاری رکھا تو امریکہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بند کر دے گا۔ تاہم، امریکی عہدیدار نے ایسی کسی دھمکی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ایلچیوں نے اس کے بجائے اس بات پر زور دیا تھا کہ واشنگٹن ہتھیاروں اور انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کے ذریعے یوکرین کا مضبوط شراکت دار ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
ہندوستان7 days agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
