تازہ ترین
کورونا وائرس: دنیا میں متاثرین 5 لاکھ 75 ہزار سے زائد، اموات 26 ہزار سے تجاوز کرگئیں
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے اموات کا سلسلہ جاری ہے اور آج (جمعہ کے روز) یورپی ملک اٹلی میں سب سے زیادہ 969 اموات ریکارڈ ہوئیں، اس کے علاوہ اسپین میں 769 اموات ہوئیں جس سے عالمی سطح پر وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں 26 ہزار سے تجاوز کرگئی۔
عالمی سطح پر نوول کورونا وائرس کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق جمعہ کی رات 12 بجے تک دنیا میں وائرس کا شکار ہو کر فوت ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہزار 819 تک پہنچ چکی تھی۔
ویب سائٹ کے مطابق متاثرین کی تعداد 5 لاکھ 76 ہزار 895 تک پہنچ چکی تھی جبکہ ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد صحتیاب بھی ہوئے تھے۔
علاوہ ازیں اٹلی 9 ہزار 134 اموات کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا جس کے بعد اسپین میں 4 ہزار 934 اموات، چین 3 ہزار 174 اموات اور ایران 2 ہزار 378 اموات کے ساتھ چوتھے نمبر پر تھا۔
ان ممالک علاوہ یورپ کے ایک اور ملک فرانس میں ایک ہزار 696 اموات، برطانیہ میں یہ تعداد 759 تک پہنچ چکی تھی، نیدرلینڈ میں 546 اموات تھیں جبکہ امریکا میں 365 افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔
وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک کی بات کی جائے تو امریکا اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں 94 ہزار 238 افراد متاثر ہوئے، اس کے بعد اٹلی 86 ہزار 498، چین 81 ہزار 897، اسپین 64 ہزار 59 جرمنی 49 ہزار 344، ایران 32 ہزار 332، فرانس 29 ہزار 593 جبکہ برطانیہ میں 14 ہزار 735 افراد متاثر ہوئے۔
اٹلی میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 969 اموات
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جمعے کے روز پورپی ملک اٹلی میں ایک روز میں اب تک کی سب سے زیادہ 969 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہزار 134 تک پہنچ گئی۔
خیال رہے کہ جمعے کے روز تک اٹلی میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 86 ہزار 498 تک پہنچ چکی تھی اور یہ دنیا میں متاثرین کی تعداد کے حساب سے دوسرے نمبر تھا۔
رپورٹ کے مطابق دنیا میں اس وقت 5 لاکھ 75 ہزار سے زائد متاثرین ہیں جن میں سے صرف یورپ میں 3 لاکھ سے زائد متاثرین موجود ہیں۔
اس کے علاوہ یورپ میں سب سے زیادہ 23 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ دنیا بھر میں اموات کی مجموعی تعداد 26 ہزار سے زائد ہے۔
ترک صدر کا عوام سے رضاکارانہ طور پر قرنطینہ کرنے کا مطالبہ
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر 8 کروڑ شہریوں کو رضاکارانہ طور پر قرنطینہ میں منتقل ہونے پر زور دیا ہے۔
ملک میں 92 اموات کی تصدیق ہونے کے بعد انہوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ضروری طور پر اور انتہائی ہنگامی صورت حال کے علاوہ گھروں سے باہر نہ آئیں۔
اس کے ساتھ ہی ترک صدر نے تمام بین الاقوامی پروازوں کی معطلی کا اعلان کیا اور ملک کے 30 بڑے شہروں میں وبا سے نمٹنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے اور اضافی حفاظتی اقدامات کرنے پر بھی زور دیا جہاں ان کی ضرورت ہو۔
خیال رہے کہ ملک میں اس وقت وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 ہزار 600 سے تجاوز کرچکی ہے۔
امریکا میں ڈیموکریٹ رکن بھی کورونا وائرس کا شکار
امریکا کی ریاست ساؤتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے امریکی نمائندے جیو کننگم میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
انہوں نے ایک جاری بیان میں کہا کہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جبکہ ان میں کورونا وائرس کی علامات پہلے ہی بہتر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
جیو کننگم کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود کو 19 مارچ سے قرنطینہ میں منتقل کررکھا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب تک اموات کی تعداد 366 تک پہنچ چکی تھی جبکہ متاثرین کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ امریکا میں 97 ہزار 28 تھی۔
آئرلینڈ میں متاثرین کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی
ادھر ائرلینڈ کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 2 ہزار 121 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 3 ہزار افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔
ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے مطابق ملک میں وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھتے ہوئے صحت کے مراکز کی تعداد بڑھا پر 22 کردی گئی ہے۔
فرانس میں مزید 299 اموات
الجزیرہ ہی کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی حکام نے بتایا کہ فرانس میں مزید 299 اموات کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 995 تک پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فرانس میں آج ہونے والی اموات کے مطابق 18 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ روز کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں متاثرین کی تعداد 29 ہزار 155 سے بڑھ کر 32 ہزار 964 تک پہنچ گئی۔
زمبابوے میں پیر سے 21 روز کے لاک ڈاؤن کا اعلان
زمبابوے کے صدر ایمرسن مننگاگوا نے ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر پیر سے 21 روز کے لاک ڈاؤن اعلان کردیا ہے۔
ان کے مطابق ملک میں صرف سرکاری ملازمین اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو لاک ڈاؤن میں استثنیٰ حاصل ہوگی۔
واضح رہے کہ زمبابوے میں اس وقت تک کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5 ہے جس میں سے ایک شخص ہلاک بھی ہوچکا ہے۔
ہندوستان
مودی، شاہ، گیانیش سے لڑ رہا ہوں، پیچھے نہیں ہٹوں گا: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑ رہے ہیں اور وہ انہیں اچھی طرح سمجھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی، مسٹر شاہ، موہن بھاگوت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے چاروں طرف گھیرا مسلسل تنگ ہو رہا ہے اور وہ ان کے خلاف جاری اس لڑائی میں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان لوگوں کی سب سے بڑی پہچان بزدلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی جتنی چاہیں اتنی پولیس بلالیں اور تمام رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیں، لیکن وہ ہرگز پیچھے نہیں ہٹنے والے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا، “ہم آپ کو چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں اور ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ میری بات یاد رکھیے، ہمیں جو جانکاری چاہیے، وہ ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔”
کانگریس رہنما نے ملک کے نوجوانوں سے اپنا احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوانوں پر فخر ہے اور وہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات یقینی بنائیں گے کہ موجودہ حکومت اور آئین پر حملہ کرنے والے لوگ شکست سے دوچار ہوں۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
پوتن نے ٹرمپ سے کہا، یوکرین نے فوری امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا: کریملن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ یوکرین نے روس کے پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرکے سہ فریقی امن مذاکرات کی فوری بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے ہفتہ کو ایک سینئر روسی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ نے پوتن کا موقف سنا ہے اور وہ ماسکو کا پیغام میامی میں امریکی عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے موجود یوکرینی وفد تک پہنچائیں گے۔
اوشاکوف نے کہا، ”ہمارے انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کیف حکومت نے انتخابات کے اہم دن ماسکو، دیگر شہروں، پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹنگ کے انعقاد سے وابستہ مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے۔ اس طرح اس نے مذاکراتی عمل فوری طور پر بحال ہونے کے امکانات کو عملاً ختم کردیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”اب، جیسا کہ صدر نے کہا ہے، ہم اس بات پر غور کریں گے کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔”
اوشاکوف کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس کے جنگی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جبکہ روسی افواج میدانِ جنگ میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور انہیں برتری حاصل ہے۔
اوشاکوف نے کہا، ”پوتن نے واضح کر دیا ہے کہ خصوصی فوجی کارروائی کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں ہمارا موقف بدستور برقرار ہے۔ اسی طرح دیرپا اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل پر آمادگی بھی برقرار ہے۔” کریملن یوکرین میں جاری جنگ کے لیے ”خصوصی فوجی کارروائی” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتن کو جنگ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے ان پر ”تفہیم کے ساتھ” غور کیا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان 90 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلی فونک گفتگو کا زیادہ تر حصہ یوکرین کے مسئلے پر مرکوز رہا۔
اوشاکوف نے بتایا کہ پیوٹن نے ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا اور واشنگٹن سے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، ”پیوٹن نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے معاملے میں سفارت کاری کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔”
اوشاکوف کے مطابق، تعطل ختم کرنے کے ممکنہ راستے کے طور پر انتہائی افزودہ ایرانی یورینیم کو روس منتقل کرنے کی ماسکو کی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اس معاملے میں روس کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق ایران کا موقف ٹرمپ تک پہنچایا ہے۔ان کے مطابق، پیوٹن نے ترکمانستان میں دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی اور انہیں ٹرمپ کے ساتھ مجوزہ ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔
پیسکوف نے کہا، ”بعد ازاں ایرانی صدر کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پوتن نے تنازع کے ممکنہ حل کے بارے میں ایرانی فریق کا نقطۂ نظر ٹرمپ تک پہنچایا۔”
ٹرمپ نے جمعہ کو پوتن کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ”انتہائی کامیاب بات چیت” قرار دیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس نے امریکہ اور عالمی منڈیوں کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد مختصر مدت میں دس لاکھ ٹن اور اضافی 30 لاکھ ٹن ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہے۔ تاہم، یہ فراہمی روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتِ حال پر منحصر ہوگی۔
پوتن نے کہا کہ امریکہ اور عالمی منڈیوں کو روسی ڈیزل کی بڑھتی ہوئی فراہمی عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے توانائی کی منڈیوں، یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے امکانات، ایران سے متعلق تنازع اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
زیلنسکی کی روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی اپیل نظرانداز کرنے پر ٹرمپ نے پوتن سے ڈیزل معاہدہ کیا: امریکی عہدیدار
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ اس وقت کیا جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی امریکی اپیلوں کو بار بار نظرانداز کیا۔ اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک امریکی عہدیدار نے ‘ایکسیوس’ کو یہ اطلاع دی۔
اس فیصلے سے واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا، ”زیلنسکی صورتِ حال کو درست طور پر نہیں سمجھ رہے ہیں۔ ریفائنریوں پر حملے جاری رکھ کر وہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹرمپ کے ساتھ قائم ہونے والی خیرسگالی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”
زیلنسکی نے ایکسیوس کو دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس اعلان کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے اسے ”غیر منصفانہ اور غیر دیانت دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بلاجواز تحفہ دینے کے مترادف ہے۔
حالیہ مہینوں میں روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے روس کے توانائی کے شعبے میں خلل پڑا ہے اور توانائی کے بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے جواب میں ماسکو نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کردی، جس سے ایران سے متعلق جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں پر مزید دباؤ پڑا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ چاہتے تھے کہ یوکرین یک طرفہ طور پر روسی ریفائنریوں پر حملے روک دے، کیونکہ ان حملوں سے امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ٹرمپ یوکرین کے ان حملوں کو یوکرین کے بجلی کے نظام پر روسی حملوں کے مساوی نہیں سمجھتے تھے۔
زیلنسکی نے ٹرمپ اور امریکی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو بتایا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دے تو کیف روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانا بند کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمعہ کو میامی میں آٹھ گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران وٹکوف اور کشنر نے یوکرینی مذاکرات کاروں کو بتایا کہ ٹرمپ کی پوتن سے بات چیت متوقع ہے اور وہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کر سکتے ہیں۔
امریکی وفد کے مطابق، یہ فیصلہ کیف کی جانب سے حملے روکنے سے بار بار انکار کے بعد کیا گیا۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ ان حملوں سے امریکی صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
ایک یوکرینی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ وٹکوف اور کشنر نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین نے امریکی درخواستوں کو نظرانداز کرنا جاری رکھا تو امریکہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بند کر دے گا۔ تاہم، امریکی عہدیدار نے ایسی کسی دھمکی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ایلچیوں نے اس کے بجائے اس بات پر زور دیا تھا کہ واشنگٹن ہتھیاروں اور انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کے ذریعے یوکرین کا مضبوط شراکت دار ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
