تازہ ترین
کورونا وائرس کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟
دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے سبب عالمی معیشت کا پہیہ جام ہو گیا ہے اور دنیا کی آدھی سے زائد آبادی گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔
اس وائرس کے سبب پیدا ہونے والے بحران کی وجہ حکومتوں کے گرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ سفارتی تعلقات میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس کڑے وقت میں دنیا بھر میں جاری تنازعات میں سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے اور سربراہ انتونیو گوتریز نے خبردار کیا کہ اس وائرس کا اصل بدترین بحران آنا ابھی باقی ہے۔
وائرس مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ایران کے سوا کہیں بھی زیادہ تیزی سے نہیں پھیلا لیکن یہ بات غیرواضح ہے کہ اس وائرس کے مشرق وسطیٰ میں جاری مختلف جنگوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
یہاں شام، عراق، لیبیا اور یمن میں جاری تنازعات کا ایک جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
شام
کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد شام میں 9ساٍل سے جاری جنگ میں دو اہم فریقین روس اور اور ترکی کے درمیان سیز فائر پر اتفاق ہو گیا ہے۔
معاہدے کے بعد سیز فائر زون میں رہنے والے ادلیب کے افراد میں وائرس سے نمٹنے کیلئے امید کی نئی کرن پیدا ہو گئی ہے۔
جنگ سے تباہ شدہ ملک میں وائرس کے جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کے خطرے کے سبب سیز فائر کا معاہدہ عمل میں آیا۔
شام کی انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیم کے مطابق 2011 میں شروع ہونے والے اس تصادم میں مارچ میں سب سے کم 103ہلاکتیں ہوئیں۔
شام میں متعدد منتظمین مثلاً دمشق کی حکومت، خود مختار کرد انتظامیہ اور ادلیب کو چلانے والے اتحاد کی کورونا وائرس سے نمٹنے کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ یہ وائرس وہاں پھیلتا ہے یا نہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تجزیہ کار فیبریس بلانک نے کہا کہ یہ وبا دمشق کی حکومت کے لیے یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ ریاست شام موثر ہے اور تمام علاقے ان کے انتظام میں واپس آنے چاہئیں۔
البتہ اس وبا اور اس کی وجہ سے درکار متحرک نظام کے سبب عین ممکن ہے کہ شام اور پڑوسی ملک عراق سے امریکی افواج فوری طور پر واپس لوٹ جائے۔
اس کے نتیجے میں شام میں ایک خلاف پیدا ہو جائے گا اور ایک سال قبل اپنے خلیفہ کی ہلاکت کے بعد سے مستقل جدوجہد کرنے والی داعش کے نئے اور جارحانہ حملوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔
یمن
اقوام متحدہ کی اپیل پر حکومتی اتحادی سعودی عرب کی طرح یمن کی حکومت اور حوثی باغیوں نے مثبت جواب دیا تھا۔
البتہ پانچ سال سے جاری اس تنازع میں نظر آنے والی امید کی کرن اس وقت دم توڑ گئی جب گزشتہ ہفتے ریاض اور ایک سرحدی شہر پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے میزائل فائر کیے تھے۔
اس کے جواب میں پیر کو سعودی اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے گڑھ صنعا میں میزائل فائر کیے تھے جس کے بعد سے بات چیت مسلسل ناکام یو رہی ہے لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کے نمائندے مارٹن گریفتھ یمن میں جاری اس تنازع میں سیز فائر کے لیے دونوں فریقین سے مستقل مشاورت کر رہے ہیں۔
اگر یمن میں سیز فائر نہیں ہوتا تو اس وبا کے دوران ایک نیا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جہاں اسے پہلی ہی دنیا کا بدترین بحران قرار دیا جا چکا ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، لوگوں کو پانی بھی بمشکل میسر آتا ہے اور جہاں 2کروڑ 40لاکھ عوام کو انسانی مدد کی شدید ضرورت ہے، اگر وہاں کورونا وائرس کا مرض پھیلتا ہے تو پوری آبادی کے صفحہ ہستی کے مٹنے کا اندیشہ ہے کیونکہ سیز فائر نہ ہوا تو وہاں طبی امداد بھی نہیں پہنچ سکے گی۔
حدیدہ شہر کے ٹیکسی محمد عمر نے کہاکہ اگر کورونا وائرس پھیلا تو لوگ گلیوں میں مر رہے ہوں گے اور لاشیں سڑکوں پر سڑ رہی ہوں گی۔
لیبیا
یمن کی طرح لیبیا میں بھی مرکزی فریقین نے سیز فائر کے مطالبات ماننے کی حامی بھر لی تھی لیکن پھر یہ امید بھی دم توڑ گئی۔
حالیہ دنوں میں دارالحکومت تریپولی کے جنوبی علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی اس مسلح تصادم کو روکنے کیلئے ناکافی ہے۔
ترکی نے حال ہی میں اس تنازع میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔
فیبریس بلانک نے پیش گوئی کی کہ مغربی ممالک کی مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں عدم دلچسپی کی وجہ سے حکومت صرف ترکی کی معاونت تک محدود ہو سکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں ایک سال قبل حکومت کے خلاف خلیفہ ہفتر کی حمایت یافتہ افواج کے خلاف محاذ شروع کرنے والے فورسز کو فائدہ ہے جسے متحدہ عرب امارات، روس اور مصر کی بھی حمایت حاصل ہے۔
مغربی ممالک کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جسے فوجی وسائل کے ساتھ ساتھ امن کے قیام کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق لیبیا میں سیز فائر کے لیے کوششوں کے زیادہ حوصلہ افزا نتائج برآمد نہیں ہوئے کیونکہ مگربی ممالکت کی توجہ اس وقت کورونا وائرس پر مرکوز ہے۔
عراق
عراق میں اب جنگ کی شدت ماضی کے مقابلے میں انتہائی کم ہے لیکن کچھ علاقوں میں اب بھی وہاں کے عوام داعش کے رحم و کرم پر ہیں اور اب اس جنگ میں فریق بننے والے امریکا اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں۔
ایران اور امریکا کورونا وائرس سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مالک کی فہرست میں شامل ہیں لیکن اب بھی اثرورسوخ کی جنگ میں دونوں ہی حریف پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
عراق سے امریکا کی اکثر افواج جا چکی ہیں اور اب محض چند ہی مقامات پر مٹھی بھر فوجی موجود ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
