تازہ ترین
کورو نا وائرس کا قہر ،وزیر اعظم کا چوتھی مرتبہ عوام سے خطاب
وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے منگل کی صبح ملک گیر تالہ بندی(لاک ڈاؤن) کی مدت میں 3 مئی تک توسیع کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ لاک ڈاؤن پر سختی کے ساتھ عمل کر کے کورونا انفیکشن پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی ریاستیں یا مقامات جہاں آئندہ ایک ہفتے میں ماحول سازگار ہوا، یعنی وائرس انفیکشن کے معاملے سامنے نہیں آئے، انھیں 20 اپریل سے کچھ چھوٹ دی جا سکتی ہے،تاہم دوسرے مرحلے کے لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے کیلئے نریندر مودی نے عوام سے7وعدے بھی مانگے۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق منگل کے روز عوام سے خطاب کے دوران پی ایم مودی نے کہا کہ ’سبھی مشوروں کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ طے کی گیا ہے کہ ہندوستان میں لاک ڈاؤن کو اب3مئی تک اور بڑھانا پڑے گا۔
یعنی 3 مئی تک ہم سبھی کو ہر ملکی باشندے کو لاک ڈاؤن میں ہی رہنا ہوگا۔ اس دوران ہمیں ڈسپلن پر اسی طرح سے عمل کرنا ہے جیسے ہم کرتے آ رہے ہیں۔ میری سبھی باشندوں سے گزارش ہے کہ اب کورونا کو ہمیں کسی بھی قیمت پر نئے علاقوں میں پھیلنے نہیں دینا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا ’مقامی سطح پر اب ایک بھی مریض بڑھتا ہے تو یہ ہمارے لیے فکر کا باعث ہونا چاہیے۔ کہیں پر بھی کورونا سے ایک بھی مریض کی موت ہوتی ہے تو ہماری فکر مزید بڑھنی چاہیے۔ اور اس لیے ہمیں ہاٹ اسپاٹ کو نشان زد کر کے پہلے سے بھی زیادہ، بہت زیادہ احتیاط رکھنا ہوگا۔
جن جگہوں کو ہاٹ اسپاٹ میں بدلنے کا اندیشہ ہے اس پر بھی ہمیں سخت نظر رکھنی ہوگی، سخت قدم اٹھانے ہوں گے۔ نئے ہاٹ اسپاٹ کا بننا ہماری محنت اور کاوشوں کو مزید چیلنج پیش کرے گا۔ نئے بحران پیدا کرے گا۔ اس لیے اگلے ایک ہفتہ میں کورونا کے خلاف لڑائی میں سختی مزید بڑھائی جائے گی‘۔انہوں نے آئندہ ایک ہفتہ کے دوران ملک میں ہر ریاست اور ہر قصبہ پر باریکی سے نظر رکھے جانے کی بات کہتے ہوئے عوام کو بتایا ’20 اپریل تک ہر قصبے، ہر تھانہ، ہر ضلع، ہر ریاست کوبہت باریکی سے پرکھا جائے گا کہ وہاں لاک ڈاؤن پر کتنا عمل ہو رہا ہے۔
اس علاقہ نے کورونا سے خود کو کتنا بچایا ہے، اس کا لگاتار جائزہ ہوگا۔ جو علاقے اس امتحان میں کامیاب ہوں گے، جو اپنے یہاں ہاٹ اسپاٹ نہیں بننے دیں گے اور جن کے ہاٹ اسپاٹ میں بدلنے کا اندیشہ بھی کم ہوگا، وہاں پر20 اپریل سے کچھ ضروری سرگرمیوں کی اجازت دی جا سکتی ہے‘۔انہوں نے 20 اپریل سے چھوٹ دیے جانے کی بات بتاتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ’یاد رکھیے، یہ اجازت شرائط پر مبنی ہوگی۔ باہر نکلنے کی اجازت بہت سخت ہوں گے۔
لاک ڈاؤن کا ضابطہ اگر ٹوٹتا ہے اور کورونا کا پیر ہمارے علاقے میں پڑتا ہے تو سبھی اجازت فوراً واپس لے لیے جائیں گے۔ اور اس لیے نہ خود کوئی لاپروائی کرنی ہے اور نہ ہی کسی اور کو لاپروائی کرنے دینی ہے‘۔20 اپریل تک سبھی مقامات کا جائزہ لینے کے بعد جو چھوٹ دی جائے گی، اس کے بارے میں تفصیلی گائیڈ لائن(رہنما خطوط) جاری کیے جانے کی بات بھی پی ایم مودی نے کی۔انہوں نے کہا کہ’کل (بدھ) اس بارے میں حکومت کی طرف سے ایک تفصیلی گائیڈ لائن(رہنما خطوط) جاری کیا جائے گا۔
20 اپریل سے جن علاقوں میں محدود چھوٹ کا انتظام ہمارے غریب بھائی کی روزی روٹی کو دھیان میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جو روز کماتے ہیں اور اس سے اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں وہی میری فیملی ہے، میری اہم ترجیحات میں سے ایک ان کی زندگی میں آئی مشکل کو کم کرنا ہے۔پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے ذریعہ حکومت نے ان کی مدد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اب نئی گائیڈ لائن بناتے وقت ان کے مفادات کا پورا دھیان رکھا گیا ہے۔
عوام سے مانگے7 وعدے:وزیر اعظم نے7 وعدوں میں سے ایک وعدہ کاروبار اور صنعت چلانے والے لوگوں سے لیا، جس میں انہوں نے گزارش کی کہ وہ اپنے یہاں کام کرنے والے لوگوں کو ملازمت سے نہ نکالیں۔1:اپنے گھر کے بزرگوں کا خاص خیال رکھیں۔ خصوصی طور پر ایسے شخص جنھیں پرانی بیماری ہو، ان کی ہمیں زیادہ حفاظت کرنی ہوگی۔ انھیں کورونا سے بہت بچا کر رکھنا ہوگا۔2:لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹنسنگ (سماجی فاصلہ) کے ضابطوں کا پورا عمل کریں۔ گھر میں بنے فیس کور (چہرے کو چھپانے کی چیز) یا ماسک کا لازمی طور پر استعمال کریں۔3:اپنی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے آیوش وزارت کے ذریعہ جو ہدایات دی گئی ہیں، اس پر عمل کریں۔ گرم پانی ہے، غلغلہ ہے، ان کا مستقل استعمال کریں۔4:کورونا انفیکشن کا پھیلاؤ روکنے میں مدد کرنے کے لیے آروگیہ سیتو موبائل ایپ ضرور ڈاؤن لوڈ کریں۔
دوسروں کو بھی اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ترغیب دیں۔5:جتنا ہو سکے اتنا غریب فیملی کی دیکھ ریکھ کریں، ان کے کھانے کی ضرورتیں پوری کریں۔6:آپ اپنے کاروبار، اپنی صنعتوں میں کام کر رہے لوگوں کے تئیں ہمدردی رکھیں۔ کسی کو ملازمت سے نہ نکالیں۔7:ملک کے کورونا جنگجوؤں، یعنی ہمارے ڈاکٹر، نرس، صفائی اہلکار، پولس اہلکار، ایسے سبھی لوگوں کی ہم عزت کریں، انھیں فخر کا موقع دیں۔
عوام سے مذکورہ سات باتوں پر عمل کرنے کا وعدہ لینے کے بعد نریندر مودی نے کہا’ساتھیو، ان سات باتوں میں آپ کا ساتھ چاہیے۔ یہ باتیں فتح حاصل کرنے کے لیے راستہ ہموار کریں گی۔ فتحیابی کے لیے خلوص کے ساتھ یہ کام کیا جانا چاہیے۔ پوری ایمانداری کے ساتھ3 مئی تک لاک ڈاؤن پر عمل کریں،جہاں ہیں وہیں رہیں، محفوظ رہیں۔ آپ سبھی ملک کو زندہ اور بیدار بنائے رکھیں‘۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
