اداریہ
کوویڈ-19کی وبا ،اقتصادی بدحالی اور مقامی دستکاریوں کا رول
کوویڈ -19 کی وجہ سے چاروں طرف کہرام مچا ہوا ہے سڑکیں ویران پڑی ہوئی ہے رسل و رسائل پر پابندی ہے کیونکہ اس وبائی بیماری کی چھایا ہر سو پڑ رہی ہے کوئی اس سے دور نہیں ۔
ہر شخص اس بیماری سے خوفزدہ ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ لوگ ڈسپلن کو بالائے طاق رکھ کر اس بیماری کو پھیلنے میں مدد کر رہے ہیں
w.h.oکے مطابق ماسک کا استعمال کرنے اور سماجی دوری بنانے سے آپ اپنی اور اپنے آس پاس رہنے والے لوگوں کی جانیں بچا سکتے ہیں اور یہی آپ کی اپنی سوساءٹی کے تیءں ذمہ داری بنتی ہے ٹی ۔ وی، اخبارات، اور دوسرےوسائل کے ذریعہ ہر روز یہ باتیں بتائی جارہی ہے کہ آپ کیسے اس بیماری سے بچ سکتے ہیں
روز بروز covid-19 کے کیسوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت نے اس صورت حال کو مد نظر رکھ کر جموں کشمیر کے کئی علاقوں جن میں سرینگر بھی شامل ہے میں ایک بار پھر سے لاک ڈاوَن نافذ کر دیا ہے ۔
اس ساری اْتھل پتھل میں کاروبار اور اقتصادی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی لوگ دانے دانے کو محتاج ہوگئے ۔ غریب اور متوسط طبقہ تباہی کے دہانے پر پہونچ گئے ۔ کسی سے اْمید نہیں صرف اوپر والے کی ذات پے بھروسہ ہے ایسے میں کشمیریوں کو مقامی دستکاریاں بچا سکتی تھی مثلا قالین بافی، پیپر ماشی،گبہ سازی، شال بافی وغیرہ مگر ہم ان سے پہلے ہی دامن چھڑا چکے ہیں اس میں زیادہ دوش ہمارا ہی ہے ہماری جعلسازی، لالچ اور دھوکہ بازی نے ہماری دستکاری کے نام کو بدنام کردیاکچھ حالات نے بھی وفا نہیں کی ۔
آہستہ آہستہ یہ دستکاریاں زوال پذیر ہوگئی اس کے باوجود کہ حکومت انہیں از سر نو زندہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن ہماری نوجوان نسل کو اس میں مستقبل نظر نہیں آتا اور جو لوگ پچھلے کئی سالوں سے اس سے وابستہ ہیں وہ بھی اس سے دامن چھڑارہے ہیں کیونکہ اس میں آمدنی کے امکانات بے حد کم رہ گئے جس سے اپنا اور اپنے کنبے کا پیٹ پالنا دشوار ہے حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج قالین بافی ،شال بافی، اور پیپر ماشی کرنے والے جادوئی ہاتھ جن کا کام دیکھ کر غیر ملکی سیاح عش عش کر اْٹھتے تھے وہ مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ۔
لاکھوں کشمیری لوگ مختلف اقسام کی دستکاریوں سے وابستہ تھے اور اس سے ریاست کو خاطر خواہ ذرمبادلہ بھی حاصل ہوجاتا تھا لیکن سن 2000کے بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا جس کا اثر ان دستکاریوں پر پڑا ۔ حالات کے ساتھ ساتھ یہاں کی صنعتیں غیر ممالک سے مقابلہ نہ کر سکی اور جدید ٹکنالوجی کو اپنا نہ سکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پچاس سالوں سے شال بافی سے وابستہ گل محمد سرینگر کی سڑکوں پر دس دس روپے کے بیگ بیچنے پر مجبور ہوگیا ہے یہ بتاتے ہوئے گل محمد کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ بتانے لگے کہ’’جس کام کو میں نے اپنی زندگی کے بہترین پچاس سال دیے اْس نے مجھے بڑھاپے میں دغادی اور میں بے روزگار ہوگیا ۔ ایک آرٹسٹ سڑکوں پر دس دس روپے کے بیگ بیچتا ہے یہ بحیثیت سوساءٹی ہمارے لئے شرم کی بات ہے یہ تصویر ہمیں جگانے کے لئے کافی ہے ہم میں ہنر ہے حوصلہ ہے جراَت ہے کیوں نہ ہم ایک بار پھر سے زیرو سے شروعات کریں اور اِن مقامی دستکاریوں کو اپنائیں تاکہ ہماری آنے والی نسل کا مستقبل سنور جائیں ۔
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین
یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار
نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ
لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
