جموں و کشمیر
کہاجائے انکاﺅنٹر سے ایک اے کے 47 رائفل، 17 رائفل گرینیڈرائفلیں اور دیگر اسلحہ و گولہ بارود برآمد
22اپریل پہلگام حملے کے بعدشروع کئے گئے’ آپریشن مہادیو‘ میں سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابی حاصل
ماسٹر مائنڈسمیت 3 مطلوب ترین دہشت گردہلاک
سلیمان شاہ عرف ہاشم موسیٰ کے علاوہ مہلوک دہشت گردوںمیں ابوحمزہ اور یاسر بھی شامل :دفاعی ذرائع
سری نگر کے مضافاتی ملنار لدواس ہارون جنگلات میں فوج کی کامیابی کارروائی ، کمین گاہ تباہ :دفاعی ترجمان
سری نگر:جے کے این ایس : 22اپریل کو پہلگام کی بائیسران وادی میں ایک دہشت گردانہ حملے میں ایک مقامی شہری اور25سیاحوں کی ہلاکت کے بعد فوج کو سری نگرکے مضافاتی جنگلات میں شروع کئے گئے ’آپریشن مہادیو‘کے دوران اسوقت ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ،جب پیرکی صبح سری نگرکے مضافاتی علاقے ہارون کے ملنارلدواس جنگل میں ایک کارروائی کے دوران 3انتہائی مطلوب دہشت گرد مارے گئے ،جن میں سے2پہلگام حملے میں ملوث تھے ۔وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے آپریشن سندور پر بحث کے دوران لوک سبھامیں اسبات کا انکشاف کیاکہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ اورپاکستانی فوج کا سابق افسر سلیمان شاہ عرف ہاشم موسیٰ دیگر 2دہشت گردوں سمیت ہلاک ہوگیا ۔جے کے این ایس کے مطابق دفاعی ذرائع نے بتایاکہ 22اپریل کو پہلگام کی بائیسران وادی میں ایک دہشت گردانہ حملے میں ایک مقامی شہری اور25سیاحوں کی ہلاکت کے بعد فوج کو سری نگرکے مضافاتی جنگلات میں شروع کئے گئے ’آپریشن مہادیو‘کے دوران اسوقت ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ذرائع نے بتایا کہ سری نگر کے قریب ملنار لدواس ہارون جنگل میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم کے بعد 3 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ہندوستانی فوج کے چنار کور کے آفیشل ایکس اکاو ¿نٹ نے پہلے پوسٹ کیا تھا کہ سیکورٹی فورسز نے لدواس میں آپریشن مہادیو شروع کیا ہے۔یہ فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ کارروائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ہارون کے علاقے ملنار میں آپریشن شروع کیا۔ علاقے میں کمک بھیج دی گئی۔انہوںنے بتایاکہ لدواس ہارون کایہ جنگلاتی علاقہ مرکزی شہر سے تقریباً20کلومیٹر دور ہے ۔ذرائع کے مطابق پہلگام کے ماسٹر مائنڈ سلیمان شاہ عرف ہاشم موسیٰ سمیت 3دہشت گردوں کو ’آپریشن مہادیو‘ میں مارا گیا۔ادھر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بحث شروع کی، سیکورٹی فورسز نے آج سری نگر کے قریب ایک تصادم میں تین پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرانے کی زبردست جیت حاصل کی، جن میں سے دو پہلگام حملے میں ملوث تھے جس میں 26 بے گناہوں کو قتل کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق لشکر طیبہ کے ایک دہشت گرد سلیمان شاہ کی شناخت22 اپریل کے دہشت گردانہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر کی گئی تھی جس نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سیکورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وہ پیرکی صبح انکاو ¿نٹر میں مارے گئے دہشت گردوں میں شامل تھا۔ذرائع کے مطابق آج کی کارروائی، جس کا نام آپریشن مہادیو ہے، میں2دیگر دہشت گردوں ابو حمزہ اور یاسر کوبھی ہلاک کر دیاگیا۔ابو حمزہ اور یاسر کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پہلگام کے قاتلوں میں شامل ہے۔ فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے سیکورٹی دستے آج کے مشترکہ آپریشن کا حصہ تھے۔ذرائع کے مطابق سلیمان نے پاکستان آرمی میں خدمات انجام دیں اور انہیں ہاشم موسیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ پہلگام کی بیسران وادی میں دہشت گردانہ حملے کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے سلیمان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے پر 20 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے چنار کور کے آفیشل ایکس اکاونٹ نے پہلے پوسٹ کیا تھا کہ سیکورٹی فورسز نے لڈواس میں آپریشن مہادیو شروع کیا ہے۔ فوج نے ایک اپ ڈیٹ میں کہا،کہ تین دہشت گردوں کو شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔یہ معلوم ہوا ہے کہ مارے گئے تمام دہشت گرد ’ہائی ویلیو“یاانتہائی مطلوب ہدف تھے۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ہاروان کے علاقے ملنار میں آپریشن شروع کیا۔ علاقے میں کمک بھیج دی گئی ہے اور کومبنگ مشق جاری ہے۔این ڈی ٹی وی نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی تصویر تک بھی رسائی حاصل کی ہے جسے آپریشن مہادیو میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ بصری طور پر جنگل کے علاقے کے اندر گہرائی میں واقع ٹھکانے میں متعدد بندوقیں دکھائی دیتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق انکاو ¿نٹر کے دوران مریکی ساخت کی کاربائن اورایک اے کے 47 رائفل، 17 رائفل گرینیڈرائفلیں اور دیگر اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ سیکورٹی فورسز کو شبہ ہے کہ دہشت گرد جموں و کشمیر میں کسی بڑی کارروائی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
