جموں و کشمیر
گولہ باری سے ہوئی تباہی ایک ‘المیہ’ ہے: راہل گاندھی
جموں، سینئر کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پونچھ میں پاکستانی گولہ باری سے ہونے والی تباہی کو المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گولہ باری سے کئی لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘لوگوں نے مجھے دو تین چیزیں قومی سطح پر اٹھانے کو کہا ہے جو میں کروں گا’۔
موصوف لیڈر نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ میں گولہ باری سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے دوران نامہ کے ساتھ مختصر بات کرتے ہوئے کیا۔
پونچھ میں گولہ باری سے ہوئی تباہی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘یہ بہت بڑا المیہ ہے، کئی لوگوں کی جانیں گئی ہیں، بہت بڑا نقصان ہوا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی اور ان کے مسائل و مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کی’۔
انہوں نے کہا: ‘لوگوں نے مجھے دو تین چیزیں قومی سطح پر اٹھانے کو کہا ہے جو میں کروں گا’۔
واضح رہے کہ راہل گاندھی ہفتے کی صبح پونچھ پہنچے جہاں انہوں نے گولہ باری سے ماتثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کے ساتھ بات چیت بھی کی۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
جموں، جموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا پیر کے روز یہاں ایک نجی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 84 برس تھی۔
ہربنس سنگھ نے 1996 سے 2002 تک اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں کابینی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں انہیں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کا سیاسی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہربنس سنگھ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیے آنجہانی کی نمایاں خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
عمر عبداللہ نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے ابدی سکون کے لیے دعا کی۔
ہربنس سنگھ پسماندگان میں اہلیہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی خاتون فالوور سمیت تین افراد منشیات اور پستول کے ساتھ گرفتار
جموں، جموں ضلع میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران پولیس نے ایک خاتون فالوور سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے ہیروئن اور پستول برآمد کیے ہیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہر کے مضافاتی علاقے میران صاحب میں اندرا نگر کے قریب بالول ناکہ پر گاڑیوں کی تلاشی کے دوران تقریباً 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ معمول کی چیکنگ کے دوران پولیس ٹیم نے ایک اسکوٹی کو روکا، جسے شمیم بیگم چلا رہی تھیں۔ وہ ڈک بنگلو، مرالیان کی رہائشی ہیں۔
تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے تقریباً 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد ہوا۔ شمیم بیگم جموں و کشمیر پولیس میں فالوور کے عہدے پر تعینات ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں پولیس کسی بھی شخص کے عہدے یا وابستگی سے قطع نظر قانون پر غیر جانب دارانہ عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پابند عہد ہے۔
دریں اثنا، گاندھی نگر علاقے کے دگیانہ صنعتی علاقے میں گشت کے دوران دو دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کی ایک ٹیم ہائی وے روڈ کے قریب گشت کررہی تھی کہ اس نے دو افراد کو مشتبہ حالت میں گھومتے ہوئے دیکھا۔ پولیس کو دیکھ کر دونوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم انہیں پکڑ لیا گیا۔
تلاشی کے دوران سامبا ضلع کی تحصیل بڑی برہمنہ کے پلی گاؤں کے رہائشی ونسھ شرما کے قبضے سے ایک پستول، جیب میں رکھنے والی ڈیجیٹل ترازو مشین اور تقریباً 100 گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔
اسی طرح سامبا ضلع کی تحصیل بڑی برہمنہ کے پلی ٹانڈہ کے رہائشی یوگیشور سنگھ کے قبضے سے ایک دیسی ساختہ پستول (دیسی کٹا) اور تقریباً 13 گرام ہیروئن برآمد کی گئی۔
پولیس نے برآمد شدہ منشیات اور ہتھیاروں کو ضبط کرلیا ہے، جبکہ گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مزید تفتیش جاری ہے، تاکہ منشیات اور غیر قانونی ہتھیاروں کے ذرائع کا پتہ لگانے کے ساتھ ساتھ اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی شناخت بھی کی جاسکے۔
جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ معاشرے کو منشیات اور جرائم سے پاک رکھنے میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ہانگل کے افزائشی موسم کے دوران داچی گام نیشنل پارک سیاحوں کے لیے بند
سرینگر، خطرے سے دوچار کشمیری ہرن ہانگل کو اس کے افزائشی موسم کے دوران انسانی مداخلت سے بچانے کے لیے داچی گام نیشنل پارک میں اکتوبر کے مہینے کے دوران سیاحوں اور دیگر افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ایک حکم نامے کے مطابق، نیشنل پارک میں داخلے کی اجازت 31 اکتوبر تک معطل کردی گئی ہے۔
یہ حکم سرینگر کے وائلڈ لائف وارڈن، سینٹرل ڈویژن کی سفارش پر جاری کیا گیا، جس کی کشمیر ریجن کے ریجنل وائلڈ لائف وارڈن نے توثیق کی۔
ایک ماہ تک نافذ رہنے والی اس پابندی کا اطلاق تمام سیاحوں، زائرین اور دیگر افراد پر ہوگا۔ تاہم، ضروری محکمہ جاتی فرائض انجام دینے والے اہلکاروں، جنگلی حیات کے تحفظ اور انتظامی کارروائیوں میں مصروف افراد، ہنگامی حالات میں کام کرنے والوں اور مجاز اتھارٹی کی خصوصی اجازت سے سرگرمیاں انجام دینے والے افراد کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس مدت کے دوران داخلے کی اجازت صرف سخت نگرانی میں اور ضرورت کے مطابق کم سے کم تعداد میں دی جائے گی۔
سرینگر کے وائلڈ لائف وارڈن، سینٹرل ڈویژن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ داخلی دروازوں، چیک پوسٹوں اور فیلڈ عملے کو ضروری ہدایات دے کر حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں، غیر مجاز داخلے کو روکیں اور پابندی کے بارے میں وسیع پیمانے پر لوگوں کو مطلع کریں۔
حکام نے بتایا کہ داچی گام نیشنل پارک میں اکتوبر کے دوران عائد کی گئی پابندی کا مقصد ہانگل کے افزائشی موسم میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنا ہے۔ یہ مدت ہانگل کے افزائش نسل کے دور میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس اقدام سے اس نایاب نسل کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
داچی گام نیشنل پارک ہانگل کی بقا کا سب سے اہم مرکز ہے، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں کی آبادی کا ترال کے شکار گاہ علاقے، ترال وائلڈ لائف سینکچری اور اننت ناگ کی اوویرا وائلڈ لائف سینکچری میں موجود ہانگل کے چھوٹے گروہوں سے رابطہ بڑی حد تک منقطع ہوچکا ہے۔
نیشنل پارک کی عارضی بندش ہانگل، جسے کشمیری ہرن بھی کہا جاتا ہے، کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کے درمیان عمل میں آئی ہے۔ یہ ہرن خطے کی نمایاں اور معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی نسلوں میں شمار ہوتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہانگل کی آبادی میں حوصلہ افزا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کی تعداد 2015 میں 183 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 323 ہوگئی۔ تاہم، اس نسل کو اب بھی تحفظ کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسے وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ، 1972 کے شیڈول اوّل میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے اسے معدومیت کے انتہائی شدید خطرے سے دوچار نسل قرار دیا ہے۔
گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں کے دوران ہانگل کی آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ غیر قانونی شکار، مویشیوں کے ساتھ خوراک اور وسائل کے لیے مسابقت، قدرتی مسکن کی تباہی اور اس کے مختلف حصوں میں تقسیم ہوجانے کو اس کمی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا7 days agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoمرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان7 days agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان7 days agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
