فن و ادب
ہارر فلمیں:ڈرانے کا ذریعہ نہیں ،بلکہ گہری فکری، نفسیاتی اور سماجی معنویت رکھتی ہے
خصوصی مضمون: محمد جاوید
نئی دہلی، آج کے زمانے میں ہارر فلموں کی بات کرنا ، عجیب ضرور لگ سکتا ہے ، لیکن ہارر فلمیں بالی ووڈ ہو یا ہالی ووڈ ، انڈسٹری کا ایک بڑا حصہ سمجھی جاتی رہی ہیں۔ جہاں آج کے دور میں رومانٹک، ایکشن ، ڈرامہ والی فلمیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں وہیں ہارر فلمیں چاہےسا ل یادو سال میں ایک ہی فلم ریلیز کیوں نہ ہو، انڈسٹری اور فلمی مداحوں پر اپنے نقش ثبت کرجاتی ہیں۔ ہارر فلمیں ایسی فلمیں ہوتی ہیں جو ناظرین میں خوف، تجسس اور سنسنی پیدا کرتی ہیں۔ ہارر فلمیں دراصل انسان کے اندر چھپے ہوئے خوف، عدمِ تحفظ اور لاشعوری اضطراب کو کہانی کی شکل دیتی ہیں۔ یہ خوف صرف بھوت یا جن کا نہیں ہوتا، بلکہ طاقت کے غلط استعمال، سماجی ناانصافی، تنہائی، جنگ، بیماری اور موت جیسے حقیقی مسائل کا استعارہ بھی بن جاتا ہے۔ ہارر فلمیں محض ڈرانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی ذہن اور سماج کو سمجھنے کی ایک طاقتور صنف ہیں، جو خوف کے پردے میں گہری حقیقتوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔
یہ فلمیں مختلف انداز اور اصناف میں بنتی ہیں۔ ہارر فلموں کی کئی اقسام ہوسکتی ہیں، جیسے ماورائی،بھوت، جن، آتما، پراسرار طاقتیں وغیرہ، دوسری قسم آتی ہے، نفسیاتی ہارریعنی جن فلموں میں ذہنی خوف، وہم، پاگل پن دکھایا جاتا ہے۔ ہارر فلموں میں ایک اور قسم کی فلم بنائی جاتی ہے جسے سلیشر ہاررکہتے ہیں، یہ فلمیں قاتل، خونریز واقعات پر مبنی ہوتی ہیں۔ اسی طرح کچھ فلمیں دیہی عقائد، لوک کہانیوں پر پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں زندہ مردے، درندے وغیرہ کو ڈراونے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
ہارر فلمیں کچھ تو اس قدر خطرناک ہوتی ہیں جنہیں کمزور دل والے نہیں دیکھ پاتے ، اور کچھ ہلکی ہارر فلمیں ہوتی ہیں جنہیں سب عمر کے لوگ دیکھ سکتے ہیں اور بچوں کے لئے بھی ہارر فلمیں تیار کی جاتی ہیں جو بچوں کی عمر کو دھیان میں رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔
ہارر فلموں کی اہمیت کو صرف خوف یا سنسنی تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ صنف انسانی نفسیات، سماجی رویّوں اور ثقافتی خدشات کی عکاس بھی ہوتی ہے۔ انسانی خوف کی عکاسی کرنے والی ہارر فلمیں انسان کے بنیادی خوف یعنی موت، تنہائی، نامعلوم، طاقت کے ہونےکو علامتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی فلمیں اپنے اندر چھپے خوف کو پہچاننے اور سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔
ہدایت کار کچھ فلمیں نفسیاتی تطہیرپر مبنی فلمیں بناتے ہیں جس میں خوفناک مناظر دیکھ کر ناظر اپنے دبے ہوئے جذبات کو خارج کرتا ہے۔ یہ ایک طرح کی ذہنی صفائی ہوتی ہے جس کے بعد انسان خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔دوسرے سماجی اور اخلاقی تنقیدوالی ہارر فلمیں ہوتی ہیں جو سماجی مسائل پر گہرا تبصرہ کرتی ہیں،جیسے طبقاتی تفاوت، صنفی تشدد، جنگ، وبائیں یا طاقت کا غلط استعمال۔ خوف کو بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے۔
ہر معاشرے کی ہارر فلمیں اس کی لوک روایات، جنّات، بھوت پریت اور عقائد کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس طرح یہ فلمیں ثقافتی ورثے کی دستاویز بن جاتی ہیں۔تخلیقی اور فنی تجربات جیسی ہارر صنف والی فلموں میں ساؤنڈ ڈیزائن، لائٹنگ، کیمرہ اینگل اور علامت نگاری کے بے شمار تجربات کیے جاتے ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر سنیما کی زبان کو مالا مال کیا ہے۔
ناظرین کی نفسیاتی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی فلموں پر طبع آزمائی کی گئی ہے ۔
جوکنٹرولڈ ماحول میں خوف کا سامنا کرنے سے انسان حقیقی زندگی کے دباؤ اور خطرات سے نمٹنے کی ذہنی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔اگرچہ ہارر فلمیں تفریح کے ساتھ سنجیدہ مکالم بھی فراہم کرتی ہیں، مگر وہ زندگی، موت، خیر و شر اور انسانی جبلّت جیسے سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتی ہیں۔
نفسیاتی سطح پر ہارر فلمیں ناظر کو اپنے خوف کا سامنا کرنے کا موقع دیتی ہیں۔ ایک محفوظ ماحول میں خوف کو محسوس کرنا انسان کو ذہنی طور پر مضبوط بناتا ہے اور دبے ہوئے جذبات کے اخراج کا ذریعہ بنتا ہے۔
سماجی اعتبار سے بہت سی ہارر فلمیں خاموش مسائل پر بات کرتی ہیں—جیسے گھریلو تشدد، صنفی عدم مساوات، طبقاتی فرق یا نوآبادیاتی اثرات لیکن براہِ راست نہیں بلکہ علامتوں اور استعاروں کے ذریعے۔فنی لحاظ سے بھی ہارر صنف نے سنیما کو نئی زبان دی ہے۔خاموشی کا استعمال، روشنی اور سائے، آوازوں کی نفسیات اور علامتی مناظر،یہ سب سنیما کی تخلیقی وسعت کو بڑھاتے ہیں۔
ہارر فلمیں صرف خوف پیدا نہیں کرتیں بلکہ ناظر کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، سماج کا آئینہ دکھاتی ہیں اور انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ خوف یہاں مقصد نہیں بلکہ پیغام پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ہارر فلمیں انسان کے بنیادی خوف کو نہایت گہرے اور علامتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہ خوف صرف بیرونی مخلوقات یا خوفناک مناظر تک محدود نہیں ہوتے بلکہ انسان کی داخلی دنیا سے جڑے ہوتے ہیں۔
سب سے پہلا اور بنیادی خوف موت کا ہے۔ ہارر فلمیں موت کو کبھی بھوت، کبھی وبا، کبھی قاتل اور کبھی نامعلوم طاقت کی صورت میں دکھا کر انسان کی فانی حیثیت کو اجاگر کرتی ہیں۔دوسرا بڑا خوف نامعلوم کا ہوتا ہے۔ اندھیرا، خاموشی، بند دروازے اور نہ دکھائی دینے والی طاقتیں اسی خوف کی نمائندگی کرتی ہیں، کیونکہ انسان ہمیشہ اس چیز سے زیادہ ڈرتا ہے جسے وہ سمجھ نہ سکے۔تنہائی اور ترک کیے جانے کا خوف بھی ہارر فلموں کا اہم موضوع ہے۔ ویران گھر، سنسان جنگل یا الگ تھلگ قصبے انسان کی اس اندرونی بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اکیلا نہ رہ جائے۔
ایک اور بنیادی خوف کنٹرول کے ہونے کا ہے۔ جسم پر کسی اور طاقت کا قبضہ، ذہن کا قابو سے باہر ہو جانا یا حالات کا انسان کے ہاتھ سے نکل جانا—یہ سب اسی خوف کی علامتیں ہیں۔ہارر فلمیں اخلاقی خوف کو بھی اجاگر کرتی ہیں، یعنی گناہ، سزا اور ضمیر کی خلش۔
بعض کہانیوں میں خوف دراصل انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ہارر فلمیں انسان کے بنیادی خوف کو صرف ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ انہیں سمجھنے، پہچاننے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے پیش کرتی ہیں۔ یہ صنف خوف کو ایک نفسیاتی اور فکری تجربہ بنا دیتی ہے۔
یہ سوال دراصل ذوق، توقع اور معیار تینوں سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کا ایک سادہ سا جواب نہیں، بلکہ تقابلی جائزہ زیادہ مناسب ہے۔ایسی کہانیوں میں جذبات، رشتے اور مقامی سماجی تناظر مضبوط ہوتا ہے۔مکالمے اور موسیقی ناظر سے فوری ربط پیدا کرتے ہیں
عام ناظر کے لیے قابلِ فہم اور دل سے قریب ہوتی ہیں۔بعض اوقات غیر ضروری گانے یا لمبائی سنسنی کو کم کر دیتی ہے۔
سسپنس کی جگہ ڈرامہ غالب آ جاتا ہے۔
جہاں تک غیر ملکی یعنی ہالی ووڈکی سنسنی خیز فلموں کا تعلق ہے وہاں فلموں میں اسکرپٹ اور رفتار پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ ایسی فلموں میں نفسیاتی تھرلر اور غیر متوقع انجام نظر آتا ہے ۔تکنیکی معیار جس میں ساؤنڈ، ایڈیٹنگ، کیمرہ ورک بہت مضبوط ہوتا ہے۔ ثقافتی فرق کے باعث ہر ناظر فوراً جڑ نہیں پاتا۔جذباتی پہلو نسبتاً سرد محسوس ہو سکتا ہے۔ہارر فلمیں اخلاقی خوف کو بھی اجاگر کرتی ہیں اور یہی پہلو اس صنف کو محض خوفناک تفریح سے آگے لے جاتا ہے۔
اخلاقی خوف سے مراد وہ ڈر ہے جو انسان کے اپنے ضمیر، گناہ، غلط فیصلوں اور ان کے انجام سے پیدا ہوتا ہے۔ بہت سی ہارر فلموں میں اصل خوف کسی بھوت یا عفریت سے نہیں بلکہ انسان کے اپنے کیے ہوئے اعمال سے جنم لیتا ہے۔اکثر کہانیوں میں دیکھا جاتا ہے کہ ظلم، لالچ یا دھوکے کے بعد خوف ایک سزا کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔کردار اپنے گناہ سے بھاگتا ہے، مگر خوف اس کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ماضی کے غلط کام کسی ماورائی یا نفسیاتی شکل میں لوٹ آتے ہیں۔یہ فلمیں ناظر کو یہ سوال سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ”اگر ضمیر بیدار ہو جائے تو اس کا سامنا کیسے کیا جائے؟”
اخلاقی خوف ہارر فلموں میں اکثر ان علامتوں سے ظاہر ہوتا ہے جیسےآسیب یا سایہ ، دبا ہوا جرم،ویران گھر ، اندرونی خالی پن،یوں ہارر فلمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ خوف ہمیشہ باہر سے نہیں آتا، بعض اوقات انسان خود اپنے لیے خوف تخلیق کرتا ہے۔
عام طور پر بالی ووڈ میں ہارر فلمیں پہلی پسند نہیں سمجھی جاتیں، مگر اس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔بالی ووڈ کا مرکزی دھارا زیادہ تر رومان، خاندانی ڈرامہ، ایکشن اور موسیقی پر مبنی رہا ہے۔ چونکہ ہندوستانی ناظر بڑی تعداد میں اجتماعی اور خاندانی تفریح کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے ہارر جیسی نسبتاً سنجیدہ اور خوف پر مبنی صنف مرکزی مقام حاصل نہیں کر پاتی۔
ہارر فلمیں خاندانی ناظرین کے لیے کم موزوں سمجھی جاتی ہیں۔بالی ووڈ میں طویل عرصے تک ہارر کو کم بجٹ اور فارمولا فلم سمجھا گیا۔غیر ضروری گانے اور کمزور اسکرپٹ نے اس صنف کی ساکھ متاثر کی۔اس طرح کی فلموں کے لئے سنسرشپ اور سماجی حساسیت بھی رکاوٹ بنتی رہی ہے۔اس کے باوجود کچھ ہارر اور ہارر-تھرلر فلموں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے آنے کے بعد ہارر صنف کو نئی زندگی ملی ہے۔ اب بالی ووڈ میں نفسیاتی، لوک کہانیوں پر مبنی اور سماجی استعاروں والی ہارر کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔
بالی ووڈ میں ہارر فلمیں روایتی طور پر پہلی پسند نہیں رہیں،لیکن اچھی کہانی اور تخلیقی انداز کے ساتھ یہ صنف آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا پائی ہے۔بالی ووڈ میں خوفناک مناظر اگرچہ ہالی ووڈ جتنے کثرت سے نہیں ملتے، مگر جب مؤثر انداز میں پیش کیے گئے تو وہ ناظر کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑ گئے۔ یہ مناظر اکثر ماورائی خوف، نفسیاتی دباؤ اور خاموش سسپنس کے ذریعے یادگار بنے۔
خالی فلیٹ، آہستہ آہستہ بند ہونے والے دروازے اور پس منظر میں خاموشی،یہ سب خوف کو غیر ضروری چیخ و پکار کے بغیر پیدا کرتے ہیں۔جنگل، ویران سڑک اور اچانک ظاہر ہونے والی موجودگی نے خوف کے ساتھ تجسس بھی پیدا کیا۔ہستار کی پہلی جھلک، اندھیرے تہہ خانے اور بارش میں ڈوبا گاؤں،یہ مناظر خوف کو لوک کہانی اور لالچ کے استعارے میں بدل دیتے ہیں۔رات کے وقت گلیوں میں سنائی دینے والی آواز اور پیچھے مڑنے کی ممانعت،سادہ مگر نہایت مؤثر خوف کا احساس دلاتی ہے۔جسمانی حرکات، آئینے اور اچانک زاویے بدلتے مناظر نفسیاتی خوف پیدا کرتے ہیں۔ٹی وی پر آنے والے مناظر کا حقیقت بن جانا،یہ خیال ہی خوفناک ہے، جسے فلم نے بہترین انداز میں دکھایا۔بالی ووڈ کے خوفناک مناظر اکثر نفسیاتی اور ماحولاتی خوف پر مبنی ہوتے ہیں، نہ کہ صرف اچانک ڈرانےپر۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مناظر چیخ سے زیادہ خاموش خوف پیدا کرتے ہیں۔
نتیجتاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہارر فلمیں اخلاقی ذمہ داری، سزا و جزا اور انسانی ضمیر پر ایک خاموش مگر گہرا مکالمہ قائم کرتی ہیں، جو ناظر کو سوچنے اور خود احتسابی کی طرف لے جاتا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
نئی دہلی، معروف اداکار، فلم ساز اور تھیٹر فنکار نانا پاٹیکر، جن کی پُرجوش اداکاری، منفرد آواز اور انسانی جذبات سے بھرپور کرداروں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے، جمعرات کی صبح 75 سال کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی سفر کا اختتام ہو گیا۔
نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن صبح 5:20 بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے ہندوستانی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے صرف ایک معروف اداکار کے انتقال پر افسوس نہیں کیا بلکہ ایسے فنکار کے کھو جانے کا دکھ منایا جس کی محض ایک نظر، ایک لمحے کی خاموشی یا مکالمے کی ایک سطر بھی پردے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نانا پاٹیکر کبھی روایتی معنوں میں فلمی ستارہ نہیں رہے۔ وہ ایسے اداکار تھے جو عام لوگوں کی جذباتی دنیا میں اتر جاتے تھے، ان کے غصے، زخموں، بے بسی، مزاحمت، کمزوری اور کبھی کبھی بے باک مزاح کو اپنے کرداروں میں پوری سچائی سے پیش کرتے تھے۔
ان کی اداکاری میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو مرکزی دھارے کی فلموں کے بناوٹی انداز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ ان کی منفرد آواز اور مکالمے ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عام سے عام جملے کو بھی جذبات اور اثر سے بھر دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز بلند کیے بغیر بھی پورے منظر پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور خاموشی کے ذریعے بھی کسی کردار کی پوری جذباتی داستان بیان کر دیتے تھے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے مشکلات سے بھرے بچپن کے بعد اپنی نسل کے سب سے قابل احترام اداکاروں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1978 میں ‘گمن’ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا اور ہندی و مراٹھی فلموں میں مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا۔
ان کی اصل شناخت ایسے کرداروں سے بنی جن میں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کی طاقت اور شخصیت کا اثر درکار تھا۔ 1989 کی فلم ‘پرندہ’ میں بے رحم انا کا خوفناک کردار ادا کرنے پر انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ میں شاندار اداکاری کی، جس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘انگار’، ‘ترنگا’، ‘اگنی ساکشی’ اور ‘خاموشی: دی میوزیکل’ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ۔ایم جے
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
