ہندوستان
ہندستان انگولا کو اپنی مسلح افواج کی جدید کاری کے لیے 20 کروڑ ڈالر دے گا
نئی دہلی، ہندوستان اور انگولا نے آج دفاعی شراکت داری کے تحت جامع فوجی جدید کاری اور تربیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، صحت، خلائی ٹیکنالوجی، صلاحیت سازی ، کان کنی اور ہیروں کو تراشنے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلے وزیر اعظم نریندر مودی اور ہندوستان کے دورے پر آئے انگولا کے صدر جوآو مینول گونسالویز لورینکو کے درمیان آج یہاں حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ سربراہ اجلاس کے دوران کیے گئے۔ میٹنگ کے دوران چار مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے جن میں زراعت، ثقافت، آیوروید اور روایتی ادویات اور انگولا کی انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے) کی رکنیت سے متعلق دستاویز شامل ہیں۔ اس میٹنگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی موجود تھے۔ ہندستان نے انگولا کی مسلح افواج کی جدید کاری کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے قرض کا بھی اعلان کیا ہے۔جبکہ انگولانے پہلگام دہشت گردانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے سرحدپار کارروائی کے ہندوستان کےفیصلے کی حمایت کی ۔
ملاقات کے بعد پریس کو دیے گئے اپنے بیان میں مسٹر مودی نے صدر لورینکو اور ان کے وفد کا ہندوستان میں خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انگولا کے صدر 38 سال بعد ہندوستان کے دورے پر آئے ہیں۔ صدر لورینکو کا یہ دورہ نہ صرف ہندستان-انگولا تعلقات کو نئی سمت اور رفتار مل رہی ہے بلکہ ہندستان-افریقہ شراکت داری کو بھی مضبوط حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ہندوستان اور انگولا اپنے سفارتی تعلقات کی 40ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے تعلقات اس سے بہت پرانے اور گہرے ہیں۔ جب انگولا آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا،توہندوستان بھی پورے عزم اور دوستانہ جذبے کے ساتھ اس کے ساتھ کھڑا تھا۔
ہندوستان اور انگولا کے درمیان دفاعی تعلقات کی نئی جہتوں کو واضح کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، ’’ہندوستان ،انگولا کے تیل اور گیس کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔ ہم نے اپنی توانائی کی شراکت کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ انگولا کی افواج کو جدید بنانے کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے دفاعی قرض کی منظوری دی گئی ہے۔ ہم دیکھ بھال اور دفاعی پلیٹ فارم کی بحالی پر بھی بات چیت کریں گے۔” انگولا کی مسلح افواج کی تربیت میں۔ دفاعی پلیٹ فارمز اور اوورہال اور سپلائی پر بھی بات چیت ہوئی ۔ ہمیں انگولا کی مسلح افواج کی تربیت میں مدد کرنے میں خوشی ہوگی۔‘‘
مسٹر مودی نے کہا کہ اپنی ترقیاتی شراکت داری کو آگے بڑھاتے ہوئے، ہم انگولا کے ساتھ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، خلائی ٹیکنالوجی اور صلاحیت سازی میں اپنی صلاحیتوں کا اشتراک کریں گے۔ آج ہم نے صحت، ڈائمنڈ پروسیسنگ، کھاد اور اہم معدنیات کے شعبوں میں بھی اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انگولا میں یوگا اور بالی ووڈ کی مقبولیت ہمارے ثقافتی رشتوں کی مضبوطی کی علامت ہے۔ لوگوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے، ہم نے اپنے نوجوانوں کے درمیان یوتھ ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم انگولا کے انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے ) میں شمولیت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم نے انگولا کو بھی ہندوستان کی پہل ،کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلیئنٹ انفرااسٹرکچر (سی ڈی آر آئی)، بگ کیٹ الائنس اور گلوبل بائیو فیولز الائنس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
جاری ۔یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
