تازہ ترین
20 ہفتوں کےبعد تاریخی جامع مسجد کے منبر و محراب گرج اٹھے، فرزندان توحید کا جم غفیرسربسجود
سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں 20ہفتے بعد مسلمانوں نے ادا کی جمعہ کی نماز
سری نگر کے پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع وادی کی سب سے بڑی اور تاریخی عبادت گاہ جامع مسجد میں مسلسل 19 ہفتے نماز جمعہ معطل رہنے کے بعد جمعہ کے روز محراب و منبر اذان و خطبہ جمعہ اور درود و اذکار سے گرج اٹھے اور لوگوں کی بڑی تعداد نے شدید سردی اور ہلکی برف باری کے بیچ ساڑھے چار ماہ کے بعد جامع میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے فرائض انجام دیے۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کے جموں کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے بعد وادی میں پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے منبر ومحراب مسلسل خاموش تھے تاہم بدھ کے روز جامع میں نمازظہربا جماعت ادا کی گئی تھی اور لوگوں نے اس وقت امید ظاہر کی تھی کہ جامع میں نماز جمعہ بھی اب ادا کی جائے گی۔
دریں اثنا ریاستی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے تاہم جامع مسجد کے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ حکومت جب تک نہ جامع کے گرد وپیش سیکورٹی حصار کو ختم کرے گی تب تک نماز جمعہ کی بحالی ناممکن ہے۔جامع کے امام حی سید احمد سعید نقشبندی نے بھی گزشتہ دنوں کہا تھا کہ جامع کے ارد گرد سیکورٹی حصار کے خاتمے تک جامع میں نماز جمعہ کا بحال ہونا بعید از امکان ہے۔وادی کے قدیم ترین معبد جامع مسجد میں جمعہ کے روز شدید سردی اور ہلکی برف باری کے بیچ ساڑھے چار ماہ کے بعد نماز جمعہ ادا کی گئی۔ عینی شاہدین نے کہا کہ جمعہ کے روز لوگوں کی بڑی تعداد اذان ہوتے ہی جامع میں داخل ہوئے اور خطبہ جمعہ سے فیض یاب ہونے کے بعد نماز جمعہ کی ادائیگی کے فرائض انجام دیے۔ نماز جمعہ کی امامت کے فرائض امام حی سید احمد سعید نقشبندی نے انجام دیے۔
جامع مسجد میں مسلسل 19 ہفتے نماز جمعہ معطل رہنے کے بعد جمعہ کے روز محراب و منبر اذان و خطبہ جمعہ اور درود و اذکار سے گرج اٹھےجامع مسجد میں مسلسل 19 ہفتے نماز جمعہ معطل رہنے کے بعد جمعہ کے روز محراب و منبر اذان و خطبہ جمعہ اور درود و اذکار سے گرج اٹھے
انہوں نے کہ جامع میں 19 ہفتوں کے بعد جمعہ کے روز درود اذکار اور خطبہ جمعہ کی گونج سے ماحول پر پُرسکون کیفیت طاری ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے جہاں ایک طرف جامع کی طرف جانے والی سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اہلکاروں کو بھاری تعداد میں تعینات کیا تھا جو نماز جمعہ کے دوران گاڑیوں کو جامع کی طرف جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے تاہم نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہی گاڑیوں کو جامع کی طرف جانے کی اجازت دی گئی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جامع کے اندر ہی نمازیوں نے آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔ انہوں نے کہا کہ جامع مارکیٹ اور ملحقہ بازار نماز جمعہ شروع ہونے سے قبل ہی بند ہوگئے۔اس دوران نمازیوں کے ایک گروپ نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے چار ماہ کے بعد جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے سے دلی سکون اور روحانی تسکین محسوس ہوئی۔انہوں نے کہا: ‘ہم بہت ہی خوش ہیں کہ ہم نے آج جامع میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے فرائض انجام دیے، دل سکون اور روح کو تسکین محسوس ہوئی، جامع میں نماز جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کرنا ہمارے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے’۔
نماز جمعہ کی امامت کے فرائض امام حی سید احمد سعید نقشبندی نے انجام دیےنماز جمعہ کی امامت کے فرائض امام حی سید احمد سعید نقشبندی نے انجام دیے
ادھر میر واعظ عمر فاروق ایک بار پھر نگین میں واقع اپنی رہائش گاہ پر مسلسل نظر بند ہونے کی وجہ سے جامع میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد خصوصی خطبہ نہیں دے سکے۔یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2016 میں حزب المجادین سے وابستہ معروف جنگجو کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھی جامع مسجد میں 19 ہفتوں کے بعد نماز جمعہ کی ادائیگی بحال ہوئی تھی۔(نیوز 18 اردو)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
