تازہ ترین
4جی انٹرنیٹ خدمات کی محرومی :کشمیر میں تعلیم، تجارت اور ترقی متاثر: جموں کشمیر سول سوسائیٹی فورم
سرینگر:جموں وکشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبد القیوم وانی نے کہا ہے کہ حکومت نے 15 اکتوبر کے بعد جموں و کشمیر کے مزید اضلاع میں تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کی اجازت دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب یہ18دسمبر کی بات ہے اور زمینی سطح پر کچھ بھی نہیں بدلا ہے اور ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کی محرومی وادی میں تعلیم اور تجارت کے شعبوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
جہاں صرف 2 جی خدمات رائج ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبد القیوم وانی نے ایک بیان میں کہا’ریاستی انتظامیہ کے ذریعہ آزمائشی بنیاد پر رواں سال اگست میں دو اضلاع گاندربل اور ادھم پور میں 4 جی خدمات بحال کردی تھیں، انہیں معطل کیے جانے کے ایک سال سے زیادہ عرصے بعد اور اس کے بعد حکام نے کہا تھا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کی بحالی ہوگی۔
لیکن اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا اور لوگوں کو تعلیم، تجارت اور معلومات تک رساء اور میڈیا پیشہ ور افراد کی پریشانیوں سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ پہلے انٹرنیٹ خدمات پر پانچ ماہ سے زیادہ پابندی عائد رہی اور پھر صرف اس سال جنوری میں ہی 2 جی خدمات بحال کردی گئیں اور بعد میں حکومت نے 4۔جی انٹرنیٹ کے دوبارہ آغاز کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔
سپریم کورٹ کے سامنے متعدد دور کی سماعت کے بعد، مرکز نے اگست 2020 میں عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ پینل نے 15 اگست کے بعد محدود علاقوں میں ٹرائل کی بنیاد پر انٹرنیٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اعلی سطحی کمیٹی کا امکان تھا کہ اس صورتحال کا ایک اور تفصیلی جائزہ لیا جاتا،15 اکتوبر سے پہلے۔ وانی نے کہا کہ کووڈ۔19کے دوران2جی آن لائن کلاسز پر منعقد کی گئیں لیکن یہ تقریبا ایک ناکامی ثابت ہوئی اور اس نے طلباء کی تعلیم کو بری طرح متاثر کیا، تجارت، سیاحت اور آن لائن ملازمت کی پروفائلنگ کا دوسری سب سے زیادہ متاثرہ تصویر تھی۔
“چونکہ سال 2020 تکمیل کے مراحل پر ہے اور کشمیر میں موسم سرما میں بجلی، سفر اور صحت کے موسمی مسائل کے ساتھ اضافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 4 جی انٹرنیٹ کی بحالی سے آنے والے مصائب کے حوالے سے کافی حد تک تلافی مل سکتی ہے کیوں کہ ابھی تک کہیں بھی عام طور پر اسکول جانے کی اجازت نہیں ہے اور نئی کلاس ورک یا ٹیوشن کی روائتی اجازت بھی نہیں ہے۔ ادھر ۲۱ دسمبر سے سرمائی تعطیلات بھی شروع ہورہی ہیں انہوں نے کہا،کہ تعلیم و تعلم کو صرف آن لائن کے ذریعہ جاری رکھنا فی الحال ممکن ہے، اسی طرح تجارت، ملازمت کی تلاش اور دیگر متعلقہ امور صرف انٹرنیٹ پر منحصر ہیں اور یہ سب اسی صورت میں موثر انداز میں چلایا جاسکتا ہے جب تیز رفتار انٹرنیٹ کو کسی مزید تاخیر کے بغیر بحال کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جے کے سی ایس ایف جموں اور کشمیرکے تمام اضلاع میں 4جی انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کا حامی ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
