ہندوستان
‘دلہن مشن اور ’پی ایم دھن-دھنیہ کرشی یوجنا‘ کو مقررہ وقت میں نافذ کیا جائے: شیوراج
نئی دہلی، زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے جمعہ کو افسران کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ’دلہن آتم نربھرتا مشن‘ اور ’پی ایم دھن دھنیہ کرشی یوجنا‘ کو نافذ کرنے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے مسٹر شیوراج سنگھ چوہان جلد ہی 11 وزارتوں کے وزراء کے ساتھ میٹنگ کریں گے تاکہ پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کے نفاذ کو تیز کیا جا سکے۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ ’دلہن آتم نربھرتا مشن‘ پر ضلع وار کلسٹرس بنا کر کام کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کلسٹر کی تشکیل کے لیے ریاستوں سے تعاون طلب کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ شیوراج سنگھ چوہان نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کے نچلی سطح پر بہتر نفاذ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’دلہن آتم نربھرتا مشن‘ اور ’پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا‘ کے جلد نفاذ سے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔
پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا، جس نے ملک بھر کے 100 خواہشمند اضلاع میں زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے11 وزارتوں کی36 ذیلی اسکیموں کو مربوط کیا تھا۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئےمسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ جلد ہی ان 11 وزارتوں کے وزراء اور سکریٹریوں کے ساتھ ساتھ نیتی آیوگ کے عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ طلب کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ملک کے کسان پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔
زراعت کے مرکزی وزیر نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ ’دلہن آتم نربھرتا مشن‘ سے متعلقہ ریاستوں کے نوڈل افسران کے ساتھ میٹنگ کریں تاکہ اس کے بروقت عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے۔ 11 اکتوبر کو وزیر اعظم مودی نے پوسا، دہلی میں منعقد ایک اہم تقریب میں پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا اور ’دلہن آتم نربھرتا مشن‘ کا آغاز کیا۔
اس سے پہلے16 جولائی2025 کو مرکزی کابینہ نے پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کو منظوری دی تھی۔ یہ اسکیمیں مالی سال26-2025 سے شروع ہوکر 24,000 کروڑ روپے کے سالانہ اخراجات کے ساتھ چھ سال کی مدت کے لیے لاگو کی جائیں گی۔ ’دلہن آتم نربھرتا مشن‘ کو چھ سال کی مدت میں11,440 کروڑ روپے کے مالی اخراجات کے ساتھ نافذ کیا جائے گا۔ مشن سے یہ توقع ہے کی جا رہی ہے کہ دالوں کا رقبہ 27.5 ملین ہیکٹر سے بڑھا کر31-2030 تک 31 ملین ہیکٹر ہو جائے گا، پیداوار24.2 ملین ٹن سے بڑھا کر 35 ملین ٹن ہو جائے گی اور پیداواری صلاحیت 1130 کلوگرام فی ہیکٹر تک بڑھ جائے گی۔ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ مشن قابل ذکر تعداد میں ملازمتیں بھی پیدا کرے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
