تازہ ترین
جماعت اسلامی پر پابندی پی ڈی پی بھاجپا کا فکسڈ میچ : عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے سوموار کو دمہال ہانجی پورہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران جماعت اسلامی پر پابندی کو پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان فکسڈ میچ قرار دیا۔ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی پر پابندی دونوں پارٹیوں کی ملی بھگت ہے تاکہ بھاجپا والے ملک میں اس کا ڈھنڈورا پیٹ سکیں جبکہ دوسری جانب قلم دوات جماعت والے وادی میں اس پر وایلا کرسکیں اور دونوں جماعتیں اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کیلئے آج بھی تمام حربے استعمال ہونگے اور تمام کوششیں کی جائینگی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری شناخت اور پہچان کو نقصان تب ہوتا ہے جب یہ لوگ نیشنل کانفرنس کو اقتدار سے باہر رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں، جب بھی یہاں مرکز کا کوئی قانون لاگو ہوا تب یہاں نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی،زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ، یہاں جی ایس ٹی ، سرفیسی ایکٹ اور فوڈ ایکٹ لگا کیونکہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی، NIAکے مقدمے چل رہے ہیں کیونکہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی، میں یہاں تک کہوں گا کہ جماعت اسلامی پر پابندی لگی کیونکہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی 6سال تک اس ریاست کا وزیر اعلیٰ رہا، میں نے بھی ایک مشکل دور سے اس ریاست کو نکالا ہے، اگر جماعت اسلامی پر پابندی لگانا ہی اس ریاست کو مشکل سے نکالنے کا راستہ تھا تو مجھے وہ راستہ اپنانے کی ضرورت کیوں نہیں پڑی۔
جب 2010میں حالات خراب ہوئے، ہم نے حالات کو دوبارہ حالات کو پٹری پر لایا لیکن ہم نے جماعت پر کوئی روک نہیں لگائی، اُن کے سکول چلے، تمام ادارے چلے اور اُن کے لیڈر بھی میدان میں سرگرم رہے۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ پی ڈی پی صدر نے ایک نیا ڈرامہ شروع کیا ہے کہ ’میرے خلاف FIRدرج کرکے مجھے گرفتار کیا جائے ‘، ’’محبوبہ جی یہ بھی بتادیں کہ کس بات کی گرفتاری؟ آپ کو کس الزام میں گرفتار کیا جائیگا؟ یا تو اندر اندر سے کوئی فکسڈ میچ چل رہا ہے، مجھے تو لگتا ہے کہ جماعت اسلامی پر پابندی بھی اندر اندر سے میچ فکسنگ ہی ہے، جماعت پر شائد اس لئے پابندی لگائی ہے تاکہ بھاجپا والی ملک میں کہیں کہ ہم نے کتنے مضبوط ہیں ، ہم نے جماعت پر پابندی لگادی اور ہم کتنی سختی کررہے ہیں جبکہ پی ڈی پی والے وادی میں اس اقدام کو زیادتی قرار دے، اس کیخلاف احتجاج کرے، جلوس نکالے اور گرفتاریاں دیں تاکہ لوگوں کے ذہن سے حکمرانی کے دوران اپنے کالے کارناموں کو مٹاسکیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کی نئی لن ترانیاں اور بات بات پر آنسو بہانا محض الیکشن کا ایک نیا ڈرامہ ہے ، لوگ ان کی اصلیت 2015اور 2018کے درمیان دیکھ چکے ہیں۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق جنوبی کشمیر کے حالات کیلئے نیشنل کانفرنس کو ذمہ دار ٹھہرانے کے محبوبہ مفتی کے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے پی ڈی پی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’دوسروں پر الزام عائد کرنے پہلے آپ اپنے گریباں میں جانکیں، جنوبی کشمیر کو خون کا اکھاڑا پی ڈی پی کی حکومت نے بنایا، 2014تک نیشنل کانفرنس کی حکومت کے دوران جنوبی کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول نہیں تھا، یہاں تو حالات بالکل ٹھیک تھے، یہاں ملی ٹنسی کا کوئی رجحان نہیں تھا، یہاں آئے روز انکاؤنٹر اور جنگجو نہیں مارے جاتے تھے، یہاں آپریشن آل آؤٹ، کریک ڈاؤن، گرفتاریاں اور CASO کا کہیں نام و نشان نہیں تھا ، یہ سب تو محبوبہ جی کی حکمرانی میں یہاں کے لوگوں کو دیکھنے کو ملا۔ آپ آج آنسو بہا کر کس کو دھوکے میں رکھنا چاہتی ہو؟‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی صدر آج کہتی ہیں کہ فورسز کی طرف سے سختی نہیں ہونی چاہئے، جب بیروہ میں ایک نوجوان ووٹر کو فوج کی جیپ کے ساتھ باندھ کو درجن بھر گاؤں سے گمایا گیا، تب محبوبہ جی کو سختی نظر کیوں نہیں آئی؟ تب محبوبہ جی کی ہمدردیاں کہاں تھیں؟حد تو یہ ہے کہ اس نوجوانوں کے حق میں جب انسانی حقوق کمیشن نے 10لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا تو محبوبہ مفتی جی نے وہ بھی رکوا دیئے اور آج محبوبہ مفتی پھر سے کہتی ہے کہ اُن پر بھروسہ کیا جائے۔پارٹی ورکروں اور عہدیداروں کو کمر بستہ ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلے چھوٹا امتحان آئے گا اور انشاء اللہ اُس کے ساتھ ہی بڑا امتحان آئے گا، ان دونوں امتحانوں میں سرخ رو ہونے کیلئے ہمیں محنت کرنی ہے۔
اس موقعے پر ریاست جموں کشمیر کے سابق سپیکر شہید خواجہ ولی محمد ایتو (ایڈوکیٹ)کی 25ویں برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اُن کے مقبرہ پر صبح سویرے ہی قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور گل باری کی گئی۔اس موقعے پر جلسے سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر، پارٹی کے سینئر لیڈر مبارک گل، سکینہ ایتو، نذیر احمد خان گریزی، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، الطاف احمد کلو، پیر محم دحسین، شیخ محمد رفیع، عمران نبی ڈار، ایڈوکیٹ ریاض احمد خان اور صفدر علی خان نے بھی تقاریر کیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
