تازہ ترین
نیم سرکاری ادارے سرکاری خزانے پر بوجھ ،2برسوں کے دوران قریب200کروڑ روپے نقصانات کا انکشاف
خبراردو:
سرکاری اعداد شمار کے مطابق گزشتہ2برسوں کئے دوران ان اداروں میں191کروڑ روپے کے نقصانات کو درج کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان خود مختار اداروں میں جموں کشمیر سمینٹس سر فہرست ہے،جس میں مالی سال2016-17کے دوران46کروڑ74لاکھ جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران31کروڑ73لاکھ روپے کا نقصان درج ہوا۔ جموں کشمیر سٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن اور سٹیٹ فائنانشل کارپوریشن دیگر ایسے نیم سرکاری خود مختار ادارے ہیں جہاں کافی نقصانات دیکھنے کو ملا ہے،سال2016-17کے دوران ریاستی مالیاتی کارپوریشن کو ایک کروڑ2لاکھ روپے کا نقصان ہوا،جبکہ ایک سال قبل یہ نقصان45لاکھ73ہزار تھا۔جموں کشمیر ہینڈلوم کارپوریشن کو1981میں دست کاروں اور اس شعبے میں ایس ایس آئی اکائیوں کے تعاون کیلئے معروض وجود میں لایا گیا،تاہم مذکورہ ادارہ مسلسل نقصان میں چل رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سال2013-14میں کارپوریشن کو9کروڑ روپے کا نقصان ہوا،اور سال2016-17تک یہ14کروڑ رک پہنچ گیا،جبکہ گزشتہ برس کے پہلے7ماہ کے دوران ہی3کرور60لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ اس دوران سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن بھی ریاستی خزانہ عامرہ پر بوجھ بنا ہوا ہے اور سالہا سال سے خسارے میں چل رہا ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں سے اس ادارے کو150کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پرا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر ہینڈلوم کارپوریشن،سٹیٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن،جموں کشمیر ہینڈی کرافٹس کارپوریشن اور ہارٹیکلچرپروڈوس مارکیٹنگ اینڈ پروسسینگ سمیت شیڈول کاسٹ،شیڈول ٹرائب و پسماندہ طبقہ جات ڈیولپمنٹ کارپوریشن کچھ یسے نیم سرکاری اداروں(پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس) ادارے ہیں جو کچھ حد تک بہترین کار کردگی پیش کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست میں کچھ گنے چنے نیم سرکاری ادارے(پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس) ہی ہیں جو منافع بخش ہیں،جن میں جموں کشمیر پولیس ہاوسنگ کارپوریشن،جموں کشمیر کیبل کار کارپوریشن،سمال سکیل انڈسٹرئز ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور جموں کشمیر وومنز ڈیولپمنٹ کارپوریشن شامل ہیں۔ جموں کشمیر منرلز اور پروجیکٹ کنسٹریکشن کارپوریشن دو ایسے نیم سرکاری ادارے(پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس) جو منافع بخش اداروں میں ،گزشتہ برسوں کے دوران نقصانات کا سامنا کرنا کے بعد شامل ہوئے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ نیم سرکاری اداروں(پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس) میں مالیاتی تعاون،ادارہ جاتی اصلاحات کا حصہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان اداروں میں نقصانات کو ختم کرنا،اور نچلی سطح پر بہتری لانے سے کافی حد تک ان اداروں کو پٹری پر لایا جاسکتا ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
