تازہ ترین
حکومت نے بلدیاتی اداروں کی نکیل کس دی: غیر منظور شدہ پروجیکٹوں کی عمل آواری اور واجبات نہ بڑانے کی تاکید
سرینگر/11فروری /جے کے این ایس / حکومت نے بلدیاتی اداروں کو واضح ہدایت دی ہے کہ غیر منظور شدہ تعمیراتی کاموں کو کرنے سے پرہیز کریں، اور سرکاری خزانے پر واجبات کا بوجھ نہ ڈلے،جبکہ ان کاموں کیلئے رقومات کی حصولیابی کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔سرکار نے کہا ہے کہ عوامی مشکلات کا ازالہ کرنے پر یہ ادارے اپنی تمام تر توجہ مبذول کریں۔ جے کے این ایس کے مطابق غیر منظور شدہ کاموں کیلئے رقومات کی حصولیابی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے بلدیاتی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ منظور شدہ کاموں کے پروگرام ہی عملائے اور وجابات کھڑے نہ کریں۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ لوگوں کے مسائل و مشکلات میں اضافہ کرنے کے برعکس وہ انکے مشکلات کا ازالہ کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں جن میں مونسپل کارپوریشن،مونسپل کونسلیں اور مونسپل کمیٹیاں شامل ہیں،نے شہری ترقی و مکانات محکمہ کو غیر منظور شدہ تعمیراتی کاموں کیلئے رقومات کا انتظامات اورواجبات کی واگزاری کیلئے درخواستیں پیش کی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ سطح پر یہ خراب مالی انتظامات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے پاس مختلف کاموں کی عمل آواری کیلئے بجٹ کے مختلف مدوں میں کافی رقومات دستیاب ہوتے ہیں،جس کے باوجود انہوں نے محکمہ شہری ترقی ومکانات کو رقومات کیلئے مطالابات پیش کئے ہیں،جبکہ ان معامالات سے وہ از خود نپٹ سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری ترقی اور مکانات محکمہ کے پاس کوئی بھی مشترکہ فنڈ نہیں ہے،جو کوڈیمانڈ پر واگزار کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا”مختلف اسکیموں،یا بجٹ کے علاوہ مرکزی اسکیموں و فلیگ شپ پروگراموں اور مالیاتی کمیشن کے گرانٹس کے تحت جو بھی رقومات واگزار کئے جاتے ہیں،اس کو متواتر طور پر تما عمل آوار ایجنسیوں کو واگزار کیا جاتا ہے“۔ بلدیاتی اداروں کی طرف سے رقومات کی طلبی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے حکام نے ان اداروں کو ہدایت دی ہے کہ عوامی نمائندوں کی طرف سے تعمیراتی کاموں کی عمل آواری کی سفارش کا معقول انداز میں احاطہ کیا جانا چاہے،جبکہ ضرورت اور حقاینیت کے بعد ہی محکمہ شہری ترقی و مکانات کو ان پروجیکٹوں کیلئے منظوری کیلئے روانہ کیا جانا چاہے۔ بلدیاتی اداروں کو مزید تاکید کی گئی ہے کہ منظوری کے بعد ہی ان تعمیراتی کاموں کو شروع کیا جانا چاہے اور ایک کمیٹی کو بھی تشکیل دیا جانا چاہے جو ان پروجیکٹوں اور کاموں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی عمل آواری کا فیصلہ کریں۔تاہم بلدیاتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ ضروری ترجیج یا فنڈس کی عدم دستیابی کے نتیجے میں وہ انتظامی محکمہ کو اپنی تجویز اور ان پروجیکٹوں کی عمل آواری کیوں لازمی ہے،کے بارے میں مطلع کریں۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ تعمیراتی کاموں میں تجاوز کرنے والیا فسران کے خلاف نظم شکنی کی پاداش میں کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
