تازہ ترین
آرٹیکل 35-A سماعت: ریاست کے تینوں خطوں میں مسلسل دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال، سیول کرفیو رہا نافذ
خبر اردو :
ریاست جموں وکشمیر کی آئین ہند میں منفرد شناخت کے دفاع کی خاطر ریاست کے تینوں خطوں میں مسلسل دوسرے روز بھی تاریخی اور فقید المثال ہڑتال اور سیول کرفیو نافذ رہا جس دوران مختلف اضلاع میں لوگوں نے بلالحاظ رنگ و نسل، مذہب و ملت پرامن احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس آرٹیکل 35Aکو برخواست کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہڑتال کے دوران تجارتی، کاروباری، سیاحتی، ہوٹل مالکان، صنعت کار، شکارا والا، ٹرانسپورٹ یونینوں، ملازمین انجمنوں، سیول سوسائٹی سمیت سماج کے مختلف طبقوں نے مشترکہ طور پر ریلیاں نکالی جس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے فرقہ پرستوں کی مذموم سازشوں کوناکام بنانے کا متفقہ طور پر عہد کیا۔ ادھر ہڑتال کی وجہ سے دوسرے روز بھی ریاست میں کاروباری، تجارتی، عوامی،تعلیمی، سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ اس دوران سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت کلی طور پر بند رہی۔ ادھر انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے بیشتر لیڈران اور کارکنوں کو تھانہ و خانہ نظر بندکردیا جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک ہنوز گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔ ادھر انتظامیہ نے عوامی احتجاج سے نمٹنے کے لیے وادی کے بیشتر اضلاع اور تحصیل مقامات پر سیکورٹی کے کڑے بندوبست کئے تھے جبکہ اضلاع کو ملانے والی رابطہ سڑکوں پر سیکورٹی فورسز نے موبائل بنکروں کو تیار رکھا تھا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے جنوبی وشمالی کشمیر میں عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریل سروس اور امرناتھ یاترا کو دوسرے روز بھی بند رکھا جبکہ اس دوران جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے ریاست کی آئین ہند میں منفرد شناخت کے دفاع اور تحفظ کی خاطر سوموار کو دوسرے روز بھی ریاست کے تینوں خطوں میں کئی علاقوں کو چھوڑ کر تاریخی اور فقید المثال ہڑتال اور سیول کرفیو رہا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں سے وابستہ عوام نے بلالحاظ رنگ و نسل، مذہب و ملت ریاست کی خصوصی پوزیشن اور شناخت کے دفاع کے حق میں جلسے اور جلوسوں کا اہتمام کیا۔ اطلاعات کے مطابق شہر سرینگر میں دوسرے روز بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی، عوامی، کاروباری، تعلیمی، سرکاری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ ضلع سرینگر اور مضافات میں ہڑتال کی نوعیت کا اثر اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو روٹی اور دودھ تک میسر نہ ہوسکا جس کی وجہ سے یہاں رہ رہے رعوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر خاص میں انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑسے نمٹنے کے لیے سیکورٹی فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کیا ہوا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر خاص کے گلی کوچوں اورسڑکوں پر فورسز اہلکار دن بھر گشت کرتے نظر آئے جس دوران یہاں پورے دن سڑکوں پر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز نے شہر کے بیشتر علاقوں کو مکمل طور پر سیل کیا ہوا تھا جس دوران سڑکوں پر خاردار تاریں نصب کرنے کے علاوہ یہاں جگہ جگہ موبائل بنکروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ادھر شہر کے ٹینگہ پورہ، حیدرپورہ، رام باغ، باغ مہتاب، نوگام، کنی پورہ، مہجور نگر، آلوچی باغ، ڈلگیٹ، خانیار، نوہٹہ، قلمدان پور، حول، صورہ، آنچار، صفاکدل، حبہ کدل وغیرہ علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے اور یہاں فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی۔ فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ ساتھ مظاہرین کا دور دور تک تعاقب کیا تاہم اس دوران کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ادھر بڈگام اور گاندربل اضلاع میں ریاست کی منفرد شناخت کے دفاع کے حوالے سے مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں بھی کئی مقامات پر نوجوانوں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بڈگام کے کھاگ، ماگام، چاڈورہ، چرار، ڈولی پورہ، وغیرہ علاقوں میں نوجوانوں نے پرامن ریلیاں نکال کر سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو برخواست کرنے کی مانگ کی۔ اس موقعہ پرجلوس میں شامل لوگوں نے فرقہ پرستوں کے خلاف بھی جم کر نعرہ بازی کی۔ چرار سے کے این ایس نمائندے غلام قادر بیدار نے اطلاع دی ہے کہ یہاں بھی ہڑتال کی وجہ سے دوسرے روز بھی معمولات زندگی درہم برہم رہے جس دوران علاقے میں تجارتی، تعلیمی ، سرکاری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہنے کے علاوہ یہاں گاڑیوں کی آواجاہی بھی کلی طور پر متاثر رہی۔ ہڑتال کی وجہ سے شمال و جنوب تک راستے ریگستان کا منظر پیش کررہے تھے جس دوران دور دور تک کوئی بھی فرد بشر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کے این ایس کے نمائندے برائے جنوبی کشمیر نے اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان میں کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکرپرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس 35Aریاست کو ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے اور اگر اس کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی کی گئی تو ریاست کے تینوں خطوں میں کہرام بپا ہوگا تاہم بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ ادھر شوپیان میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی ٹھپ رہے جس دوران یہاں تجارتی اور عوامی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں جبکہ سڑکیں یہاں ریگستان کا منظر پیش کررہی تھیں۔ادھر نمائندے نے پلوامہ سے اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی خاطر سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے تھے جس دوران ضلع کے اندرون اور بیرون سڑکوں پر خاردار تاریں نصب کی گئی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ سخت ہڑتال اور سیول کرفیو جیسی صورتحال سے ضلع بھر کی سڑکوں پر ہوکا عالم چھایا رہا۔ اس دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ، سوپور، لنگیٹ، ہندوارہ، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ اور حاجن میں بھی سوموار کو دوسرے روز بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران بعض مقامات پر نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے اس دوران ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے نئی دہلی کو ریاست کی آئینی پوزیشن کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ خوانی کرنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے مانگ کی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو ہمیشہ کے لیے برخواست کیا جانا چاہیے تاکہ ریاستی عوام میں پائے جارہے اضطراب کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جائے۔ ادھر پیر پنچال خطے سے تعلق رکھنے والے راجور ی اور پونچھ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران لوگوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی کو ریاست کی خصوصی شناخت سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے باز رہنے کا مشوہ دیا۔ راجوری کے گجر منڈی علاقے سے لوگوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس دوران انہوں نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست مخالف منصوبوں کی مذمت کی۔ مظاہرین نے آل پارٹیز کارڈینیشن کمیٹی کے بینر تلے یہاں ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جس میں سماج سے تعلق رکھنے والے سبھی طبقوں نے شرکت کی۔ اس دوران ضلع کے درہال تحصیل میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں زندگی کی جملہ سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں جبکہ ٹریفک بھی سڑکوں سے غائب رہا۔ ضلع پونچھ کے منجاکوٹ، مینڈھر، سرنکوٹ اور منڈی علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں معمولات زندگی متاثر رہے۔ نمائندے نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے یہاں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے گاڑیوں کی آواجاہی بھی مفلوج رہی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار میں بھی فقید المثال ہڑتال رہی جس دوران لوگوں نے پرامن احتجاجی جلوس نکالے۔ یہاں امام جامع مسجد کشتوار اور چناب ویلی ٹریڈرس ایسو سی ایشن نے مشترکہ طور پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کل کی حمایت کی تھی جس دوران یہاں ہڑتال کا خاصا اثر دکھائی دیا ۔
ادھر انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے بیشتر لیڈران اور کارکنوں کو تھانہ و خانہ نظر بندکردیا جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک ہنوز گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔اطلاعات کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ لیڈران سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو پولیس نے سنیچرشام کو ہی خانہ نظر بند کردیا تھا تاہم جے آر ایل سے وابستہ محمد یاسین ملک پولیس کی گرفتار سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔ ادھر تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی، پی پی پی چیرمین انجینئر ہلال وار سمیت حریت کانفرنس کے دیگر لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے احتیاطی طور پر خانہ و تھانہ نظر بند کردیا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے جنوبی وشمالی کشمیر میں عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریل سروس اور امرناتھ یاترا کو دوسرے روز بھی بند رکھا جبکہ اس دوران جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے حکام نے مسافروں کی سلامتی کو لے کر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دئے گئے دو روزہ ہڑتالی کال کے پیش نظر دو روز تک ریل سروس معطل رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی اس دوران جموں سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بورڈ نے ادھم پور اور رام بن میں چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں تاکہ کسی بھی یاتری کو بغیر اجازت وادی کے اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔ KNS
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
