دنیا
تجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
تہران، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے سابق کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کا سکریٹری مقرر کیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملک میں پرانے نظام کے بااثر حلقے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔
71 سالہ رضائی ایک تجربہ کار فوجی کمانڈر اور نظام کی نمایاں شخصیت ہیں۔ انہیں ایس این ایس سی کا سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے محمد باقر ذوالقدر کی جگہ لی ہے، جو مارچ سے اس عہدے پر فائز تھے۔
رضائی طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں گہری بداعتمادی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ان کی تقرری ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے نسبتاً زیادہ سخت گیر رویے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
سرکاری طور پر جاری کیے گئے فرمان کے مطابق، سپریم لیڈر نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا اور رضائی کے ’’قیمتی تجربات‘‘ کو سراہتے ہوئے انہیں ’’آٹھ سالہ مقدس دفاع‘‘ کا ایک پیش رو قرار دیا۔ ’’مقدس دفاع‘‘ سے مراد 1980 کی دہائی کی ایران۔عراق جنگ ہے۔
رضائی نے 1981 سے 1997 تک آئی آر جی سی کی کمان سنبھالی۔ وہ اس وقت مصلحت تشخیصی کونسل کے رکن اور سپریم کونسل برائے اقتصادی رابطہ کاری کے سکریٹری بھی ہیں۔
فرمان میں محمد باقر ذوالقدر کی اس عہدے پر ’’شب و روز کی کوششوں‘‘ پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا اور سبکدوش ہونے والے نمائندے کی خدمات کو سراہا گیا۔
سپریم لیڈر نے فرمان میں لکھا، ’’مجھے امید ہے کہ آپ اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی میں مکمل کامیابی حاصل کریں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے آقا امام مہدی کی برکتوں کے سائے میں آپ ہمیشہ ایران کی سربلند قوم کے وفادار سپاہی بنے رہیں۔‘‘
ایس این ایس سی کی سربراہی باضابطہ طور پر صدر مسعود پزشکیان کرتے ہیں اور یہ کونسل ایران کی سلامتی اور خارجہ پالیسی میں رابطہ کاری کا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں سپریم لیڈر کے نمائندے کے علاوہ اعلیٰ فوجی، انٹیلی جنس اور حکومتی عہدیدار شامل ہیں۔
رضائی پہلے ہ۔ی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے قابلِ اعتماد معاونین کے محدود حلقے کا حصہ تھے اور ان کے فوجی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم، نئی تقرری نے انہیں ایران کے سکیورٹی نظام کے انتہائی بااثر عہدوں میں سے ایک پر پہنچا دیا ہے۔
رضائی کو 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران اسلامی انقلابی گارڈز کور کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔ وہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایران کے سیاسی، سکیورٹی اور فوجی نظام کے مرکز میں رہے ہیں۔ آئی آر جی سی میں رضائی کو ان کے پیشرو ذوالقدر کے مقابلے میں کہیں زیادہ اختیارات حاصل رہے ہیں۔
رضائی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران اسلامی انقلابی زیرِ زمین سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے اور اسلامی گوریلا گروپوں کے ساتھ مل کر لڑتے ہوئے ایران کے سیاسی و سکیورٹی نظام میں اپنا مقام بنایا۔ انہوں نے آئی آر جی سی کے ابتدائی منشور کی تیاری میں بھی مدد کی۔ بعد ازاں وہ اس فورس کے سب سے طویل عرصے تک کمانڈر رہنے والے سربراہ بنے اور آئی آر جی سی کو ایران کے طاقتور ترین اداروں میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران کے سکیورٹی نظام میں گہری جڑیں رکھنے والے رضائی بعد میں مصلحت تشخیصی کونسل میں شامل ہوئے، جو سپریم لیڈر کو مشورے دیتی ہے اور سابق صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ رضائی نے چار مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، تاہم کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔
حالیہ عرصے میں رضائی نے امریکہ کے خلاف سخت گیر مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’دانش مندی اور تدبر کی کمی‘‘ کا شکار قرار دیا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے جوابی حملوں نے خطے میں امریکی افواج کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’’ایران نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ٹرمپ کی ایران کے خلاف تیسری جنگ درمیان ہی میں شکست سے دوچار ہو گئی، جس سے ان کی سابقہ ناکامیوں میں ایک اور سنگین ناکامی کا اضافہ ہوا۔‘
رضائی نے گزشتہ ہفتے ایکس پر جاری کردہ اپنی ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو ’’امریکی بحری جہازوں اور افواج کو سنگین خطرات اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ رضائی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اہم آبی گزرگاہ پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے۔
گزشتہ ماہ رضائی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو ’’ختم‘‘ قرار دیا تھا، تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ مذاکرات ’’صرف عبور کرنے کے لیے ایک پل ہیں، کوئی مستقل عہد نہیں۔‘
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ایران اپنی سرزمین پر ممکنہ امریکی حملے کے لیے تیار ہے اور ’’دنیا ایران کی حقیقی صلاحیتوں سے واقف ہو جائے گی۔‘‘
ذوالقدر نے اس وقت یہ عہدہ سنبھالا تھا جب کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی رواں سال کے اوائل میں ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے دوران اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ کونسل، جس میں اعلیٰ سول اور فوجی عہدیدار شامل ہیں، امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے ایران کی پالیسی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران جنگ میں امریکہ کے 81 فوجی طیارے تباہ یا متاثر، نقصان کی تلافی پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ کا امکان
واشنگٹن، ایران جنگ میں امریکی فوج کے 81 طیارے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں اور ان کی جگہ نئے طیارے حاصل کرنے پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ صرف فوجی سازوسامان کا نقصان ہے، جبکہ جنگ پر امریکہ کو اب تک کم از کم 45 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔ اس رقم میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں ہیں۔
نقصان اٹھانے والے طیاروں میں ایف-35 اے اسٹیلتھ فائٹر اور ای-3 سینٹری بھی شامل ہیں، جبکہ ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو خاص طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ای-3 سینٹری ایسا فضائی کمانڈ، کنٹرول اور نگرانی کا طیارہ ہے جس پر امریکی فوج اہداف کی نگرانی اور فضائی حدود کے انتظام کے لیے انحصار کرتی ہے۔ یہ طیارے یا تو محدود تعداد میں دستیاب ہیں، پرانے ہوچکے ہیں یا دونوں مسائل سے دوچار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فوری جگہ لینا مشکل ہے۔
رپورٹ کے مطابق نقصانات میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون شامل ہیں، جن میں ایم کیو-9 ریپر کے نقصانات نصف سے زیادہ ہیں۔ 5 اکتوبر کو اپ ڈیٹ کی گئی سی آر ایس رپورٹ میں یہ اعداد و شمار امریکی محکمہ دفاع، سینٹرل کمانڈ کے بیانات، انسپکٹر جنرل کی رپورٹ اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
نقصان یا تباہ ہونے والے طیاروں میں امریکی فوج کے جدید اور تزویراتی طور پر اہم طیارے بھی شامل ہیں، جن میں ایف-35 اے فائٹر اور ای-3 سینٹری فضائی ابتدائی انتباہ و کنٹرول طیارہ شامل ہیں، جو اہداف کا سراغ لگانے اور فضائی حدود کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
سی آر ایس کے مطابق کانگریشنل بجٹ آفس نے ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ یکم اگست تک جنگ میں ضائع ہونے والے سازوسامان کی جگہ نئے سازوسامان کی فراہمی پر 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ اصل رقم پینٹاگون کی جانب سے طے کیے جانے والے متبادل منصوبے پر منحصر ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کی مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دستیاب ذرائع نے اندازہ لگایا ہے کہ اس تنازع پر امریکہ کو کم از کم 45 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں، تاہم اس میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی لاگت شامل نہیں ہے۔
سی آر ایس نے کہا کہ نقصان زدہ قرار دیے گئے بعض طیارے ممکن ہے بعد میں دوبارہ آپریشنل ہوگئے ہوں۔ مثال کے طور پر آٹھ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیاروں کو ستمبر میں اردن کے موافق السالتی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران معمولی نقصان پہنچا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیاروں کے نقصانات کے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی ہوسکتی ہے، کیونکہ جنگی کارروائیاں جاری ہیں، بعض معلومات خفیہ ہیں اور بعض نقصانات کی ذمہ داری طے کرنے سے متعلق سوالات موجود ہیں۔
امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ”آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اس تنازع میں مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں فضائی، بحری اور میزائل حملے شامل رہے۔ اپریل میں جنگ بندی کے بعد لڑائی کی شدت میں کمی آئی، تاہم چند ہفتوں کے اندر بعض حملے دوبارہ شروع ہوگئے اور صورت حال بدستور غیر یقینی رہی۔
رپورٹ میں اس بات پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا کانگریس کو پینٹاگون کی جانب سے طیاروں کے نقصانات کی مکمل نوعیت کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات طے کرنے کے لیے کافی معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی تجاویز پر غور کر رہے ہیں:ایران
تہران، ایران نے تصدیق کی ہے کہ علاقائی تنازعہ کو ختم کرنے کے مقصد سے پیش کردہ امریکی تجاویز پر اس کا جواب سفارتی ثالثوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔
اس بات کا اعلان وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کیا، جبکہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راہداریاں قائم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ اہم پیش رفت کا بھی انکشاف کیا۔
بقائی نے واضح کیا کہ تہران نے تمام محاذوں پر دشمنی روکنے اور خلیج میں بحری سکیورٹی بحال کرنے کے لیے اپنی شرائط طے کر دی ہیں۔
ترجمان بقائی نے تصدیق کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ روابط بدستور فعال ہیں، انہوں نے یہ بھی کہاکہ دوسرے فریق کی تجاویز کا ضروری جواب بھی ثالثوں کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔”
یہ اعلان ایتھنز میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے تنازعہ کو حل کرنے کے متعدد مواقع گنوا دیے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول کھو چکا ہے۔
روبیو کے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے سے رائے عامہ کے ذہنوں سے امریکہ کی جانب سے اپنے وعدوں کی بار بار خلاف ورزیوں کی حقیقت کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس سلسلے میں 2015 کے جوہری معاہدے سے 2018 میں واشنگٹن کی دستبرداری اور سفارتی عمل کے دوران جاری فوجی حملوں کی طرف اشارہ کیا۔
تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے بقائی نے بتایا کہ تہران اور مسقط کے درمیان دوطرفہ مشاورت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے محفوظ راستوں کے لیے درست جغرافیائی حدود پر اتفاق ہو گیا ہے۔
اس طے شدہ بحری انتظام کو جلد ہی بین الاقوامی بحری حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ سفارتی سرگرمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
