دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ میں امریکہ کے 81 فوجی طیارے تباہ یا متاثر، نقصان کی تلافی پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ کا امکان
واشنگٹن، ایران جنگ میں امریکی فوج کے 81 طیارے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں اور ان کی جگہ نئے طیارے حاصل کرنے پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ صرف فوجی سازوسامان کا نقصان ہے، جبکہ جنگ پر امریکہ کو اب تک کم از کم 45 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔ اس رقم میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں ہیں۔
نقصان اٹھانے والے طیاروں میں ایف-35 اے اسٹیلتھ فائٹر اور ای-3 سینٹری بھی شامل ہیں، جبکہ ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو خاص طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ای-3 سینٹری ایسا فضائی کمانڈ، کنٹرول اور نگرانی کا طیارہ ہے جس پر امریکی فوج اہداف کی نگرانی اور فضائی حدود کے انتظام کے لیے انحصار کرتی ہے۔ یہ طیارے یا تو محدود تعداد میں دستیاب ہیں، پرانے ہوچکے ہیں یا دونوں مسائل سے دوچار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فوری جگہ لینا مشکل ہے۔
رپورٹ کے مطابق نقصانات میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون شامل ہیں، جن میں ایم کیو-9 ریپر کے نقصانات نصف سے زیادہ ہیں۔ 5 اکتوبر کو اپ ڈیٹ کی گئی سی آر ایس رپورٹ میں یہ اعداد و شمار امریکی محکمہ دفاع، سینٹرل کمانڈ کے بیانات، انسپکٹر جنرل کی رپورٹ اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
نقصان یا تباہ ہونے والے طیاروں میں امریکی فوج کے جدید اور تزویراتی طور پر اہم طیارے بھی شامل ہیں، جن میں ایف-35 اے فائٹر اور ای-3 سینٹری فضائی ابتدائی انتباہ و کنٹرول طیارہ شامل ہیں، جو اہداف کا سراغ لگانے اور فضائی حدود کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
سی آر ایس کے مطابق کانگریشنل بجٹ آفس نے ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ یکم اگست تک جنگ میں ضائع ہونے والے سازوسامان کی جگہ نئے سازوسامان کی فراہمی پر 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ اصل رقم پینٹاگون کی جانب سے طے کیے جانے والے متبادل منصوبے پر منحصر ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کی مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دستیاب ذرائع نے اندازہ لگایا ہے کہ اس تنازع پر امریکہ کو کم از کم 45 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں، تاہم اس میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی لاگت شامل نہیں ہے۔
سی آر ایس نے کہا کہ نقصان زدہ قرار دیے گئے بعض طیارے ممکن ہے بعد میں دوبارہ آپریشنل ہوگئے ہوں۔ مثال کے طور پر آٹھ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیاروں کو ستمبر میں اردن کے موافق السالتی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران معمولی نقصان پہنچا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیاروں کے نقصانات کے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی ہوسکتی ہے، کیونکہ جنگی کارروائیاں جاری ہیں، بعض معلومات خفیہ ہیں اور بعض نقصانات کی ذمہ داری طے کرنے سے متعلق سوالات موجود ہیں۔
امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ”آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اس تنازع میں مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں فضائی، بحری اور میزائل حملے شامل رہے۔ اپریل میں جنگ بندی کے بعد لڑائی کی شدت میں کمی آئی، تاہم چند ہفتوں کے اندر بعض حملے دوبارہ شروع ہوگئے اور صورت حال بدستور غیر یقینی رہی۔
رپورٹ میں اس بات پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا کانگریس کو پینٹاگون کی جانب سے طیاروں کے نقصانات کی مکمل نوعیت کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات طے کرنے کے لیے کافی معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی تجاویز پر غور کر رہے ہیں:ایران
تہران، ایران نے تصدیق کی ہے کہ علاقائی تنازعہ کو ختم کرنے کے مقصد سے پیش کردہ امریکی تجاویز پر اس کا جواب سفارتی ثالثوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔
اس بات کا اعلان وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کیا، جبکہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راہداریاں قائم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ اہم پیش رفت کا بھی انکشاف کیا۔
بقائی نے واضح کیا کہ تہران نے تمام محاذوں پر دشمنی روکنے اور خلیج میں بحری سکیورٹی بحال کرنے کے لیے اپنی شرائط طے کر دی ہیں۔
ترجمان بقائی نے تصدیق کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ روابط بدستور فعال ہیں، انہوں نے یہ بھی کہاکہ دوسرے فریق کی تجاویز کا ضروری جواب بھی ثالثوں کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔”
یہ اعلان ایتھنز میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے تنازعہ کو حل کرنے کے متعدد مواقع گنوا دیے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول کھو چکا ہے۔
روبیو کے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے سے رائے عامہ کے ذہنوں سے امریکہ کی جانب سے اپنے وعدوں کی بار بار خلاف ورزیوں کی حقیقت کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس سلسلے میں 2015 کے جوہری معاہدے سے 2018 میں واشنگٹن کی دستبرداری اور سفارتی عمل کے دوران جاری فوجی حملوں کی طرف اشارہ کیا۔
تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے بقائی نے بتایا کہ تہران اور مسقط کے درمیان دوطرفہ مشاورت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے محفوظ راستوں کے لیے درست جغرافیائی حدود پر اتفاق ہو گیا ہے۔
اس طے شدہ بحری انتظام کو جلد ہی بین الاقوامی بحری حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ سفارتی سرگرمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس کے نصف سے زیادہ عوام طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں: سروے
ماسکو، فرانس کی نصف سے زیادہ آبادی ملک بھر میں ستمبر کے اواخر سے جاری ہائی اسکول کے طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتی ہے۔ ایلابے کمپنی کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں بدھ کو یہ بات سامنے آئی۔
سروے کرنے والی کمپنی نے کہا کہ 55 فیصد فرانسیسی شہری ہائی اسکول کے طلبہ کی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان میں 26 فیصد مکمل حمایت کرتے ہیں، جبکہ 29 فیصد مظاہرین کے خدشات سے اتفاق کرتے ہیں۔
مزید 35 فیصد لوگوں نے طلبہ کے مظاہروں کی مخالفت کی، جبکہ باقی 10 فیصد نے کہا کہ وہ اس معاملے میں غیر جانب دار ہیں۔
خاص طور پر طلبہ کے والدین میں سے 71 فیصد نے احتجاج کی حمایت کی۔
فرانس کے 70 فیصد سے زیادہ عوام طلبہ کے مطالبات کو جائز سمجھتے ہیں، لیکن 55 فیصد کا خیال ہے کہ اب احتجاج ختم ہو جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ سروے میں شامل 89 فیصد افراد نے مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور اسکول کے عملے کے خلاف تشدد کی مذمت کی۔
یہ آن لائن سروے 6 سے 7 اکتوبر کے درمیان فرانس کے 1001 بالغ شہریوں کے درمیان کیا گیا۔ سروے میں غلطی کا امکان 1.4 سے 3.1 فیصد تک ہے۔
فرانس میں ہائی اسکول کے طلبہ تعلیمی نظام میں زیادہ بوجھ والے نظام الاوقات، اساتذہ کی کمی اور دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ کچھ مظاہروں کے دوران بدامنی بھی ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 6600 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں زیادہ تر نابالغ ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر6 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
