ہندوستان
آر ایس ایس کے باوقار سو سال پورے ہونے پر وزیر اعظم کی نیک خواہشات
نئی دہلی، ایک صدی قبل وجے دشمی کے عظیم تہوار پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بنیاد رکھی گئی تھی یہ ہزاروں برسوں سے چلی آ رہی اس روایت کی بحالی تھی، جس میں قوم کا شعور وقتاً فوقتاً اپنے عہد کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے نئی نئی شکلوں میں جلوہ گر ہوتا ہے اس دور میں آر ایس ایس اسی قدیم قومی شعور کا مقدس اوتار ہے یہ ہماری نسل کے سویم سیوکوں کی خوش نصیبی ہے کہ ہمیں آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کا ایسا عظیم موقع دیکھنے کو مل رہا ہے۔ میں اس موقع پر قوم کی خدمت کے عہد کو اپنی زندگی کے مرکز میں رکھنے والے لاکھوں سویم سیوکوں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ میں آر ایس ایس کے بانی، ہم سب کے مثالی… پرم پوجیہ ڈاکٹر ہیڈگیوار جی کے قدموں میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آر ایس ایس کے اس باوقار 100 سال کے سفر کی یاد میں حکومت ہند نے خصوصی ڈاک ٹکٹ اور یادگاری سکّے بھی جاری کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ جس طرح وسیع دریاؤں کے کنارے انسانی تہذیبیں پروان چڑھتی ہیں، اسی طرح آر ایس ایس کے کنارے بھی سینکڑوں زندگیاں پھولی پھلی ہیں۔ جیسے ایک دریا جس راستوں سے بہتا ہے، ان علاقوں کو اپنے پانی سے سیراب کرتا ہے، اسی طرح آر ایس ایس نے اس ملک کے ہر خطے، معاشرے کے ہر پہلو کو چھوا ہے۔ جس طرح ایک دریا کئی لہروں میں خود کو ظاہر کرتا ہے، آر ایس ایس کا سفر بھی ایسا ہی ہے۔ آر ایس ایس کے مختلف ادارے بھی زندگی کے ہر پہلو سے جڑ کر قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ تعلیم، زراعت، سماجی بہبود، قبائلی بہبود، خواتین کے بااختیار بنانے، سماجی زندگی کے دیگر کئی شعبوں میں آر ایس ایس مسلسل کام کرتا رہا ہے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ہر ادارے کا مقصد ایک ہی ہے، جذبہ ایک ہی ہے… راشٹر پرتھم۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ا پنے قیام کے بعد سے ہی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے قوم کی تعمیر کا عظیم مقصد اپنے سامنے رکھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے آر ایس ایس نے فرد کی تربیت سے قوم کی تعمیر کا راستہ اختیار کیا اور اس کے لیے جو عملی طریقہ اپنایا وہ روزانہ باقاعدگی سے چلنے والی شاکھائیں تھیں۔ آر ایس ایس کی شاکھا کا میدان… ایک ایسی تحریکی زمین ہے، جہاں سے سویم سیوک سنگھ ‘‘میں’’ سے ‘‘ہم’’ کا سفر شروع کرتا ہے۔ آر ایس ایس کی شاکھائیں … فرد کی تربیت کی یگیہ ویدی ہیں۔
قوم کی تعمیر کا عظیم مقصد، فرد کی تربیت کا واضح راستہ اور شاکھا جیسا سادہ، زندہ عملی طریقہ ۔ یہی آر ایس ایس کے 100 سالہ سفر کی بنیاد ہیں۔ انہی ستونوں پر کھڑے ہو کرآر ایس ایس نے لاکھوں سویم سیوکوں کو پروان چڑھایا، جو مختلف شعبوں میں ملک کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
آر ایس ایس جب سے وجود میں آیا… آر ایس ایس کے لیے ملک کی ترجیح ہی اس کی اپنی ترجیح رہی۔ آزادی کی جدوجہد کے وقت پرم پوجیہ ڈاکٹر ہیڈگیوار جی سمیت متعدد کارکنوں نے تحریک آزادی میں حصہ لیا، ڈاکٹر صاحب کئی بار جیل گئے۔ آزادی کی لڑائی میں کتنے ہی مجاہدین آزادی کوآر ایس ایس پناہ دیتا رہا … ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتا رہا۔ آزادی کے بعد بھی آر ایس ایس مسلسل قوم کی خدمت میں لگا رہا۔ اس سفر میں آر ایس ایس کے خلاف سازشیں بھی ہوئیں، آر ایس ایس کو کچلنے کی کوشش بھی ہوئی۔ رشی کا درجہ رکھنے والے پرم پوجیہ گرو جی کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔ لیکن آر ایس ایس کے سویم سیوکوں نے کبھی تلخی پیدا نہیں ہونے دی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں، ہم معاشرے سے الگ نہیں ہیں، معاشرہ تو ہم سے ہی بنا ہے۔ معاشرے کے ساتھ یکجہتی اور آئینی اداروں پر اعتماد نےآر ایس ایس کے خود سہولت کاروں کو ہر مشکل میں مستحکم رکھا ہے … اور معاشرے کے لیے حساس بنائے رکھا ہے۔
ابتداء سے ہی آر ایس ایس… حب الوطنی اور خدمت کا مترادف رہا ہے۔ جب تقسیم کے المیہ نے لاکھوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا، تب سویم سیوکوں نے پناہ گزینوں کی خدمت کی۔ ہر آفت میں آر ایس ایس کے سویم سیوک اپنی محدود وسائل کے ساتھ سب سے آگے کھڑے رہے۔ یہ صرف امداد نہیں تھی، بلکہ قوم کی روح کو سہارا دینے کا کام تھا۔ خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کے دکھ دور کرنا… یہی ہر سویم سیوک کی پہچان ہے۔ آج بھی قدرتی آفات میں ہر جگہ سویم سیوک سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے ایک ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے 100 سالہ سفر میں، آر ایس ایس نے معاشرے کے مختلف طبقوں میں خودشناسی پیدا کی… خودی کا احساس جگایا۔ آر ایس ایس ان علاقوں یں بھی کام کرتا رہا جو دور دراز ہیں… جہاں تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔ آر ایس ایس… دہائیوں سے قبائلی روایات، قبائلی رسومات اور قبائلی اقدار کو سنبھالنے میں اپنا تعاون دیتا رہا… اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ آج سیوا بھارتی… ودیا بھارتی، ایکلویہ دیالیہ، بنواسی کلیان آشرم… قبائلی معاشرے کے بااختیار بنانے کا ستون بن کر ابھرے ہیں۔
معاشرہ میں صدیوں سے گھر کر چکی جو بیماریاں ہیں، جو اونچ نیچ کی سوچ ہے، جو غلط رواج ہیں… یہ ہندو معاشرے کے لیے بہت بڑے چیلنج رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تشویشناک امر ہے، جس پرآر ایس ایس مسلسل کام کرتا رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے لے کر آج تک، آر ایس ایس کے ہر عظیم رہنما نے، ہر سرسنگھ چالک نے بھید بھاؤ اور چھوا چھوت کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ پرم پوجیہ گرو جی نے مسلسل “نہ ہندو پتیتو بھویت” کے جذبے کو آگے بڑھایا۔ پوجیہ بالا صاحب دیورس جی کہتے تھے– چھوا چھوت اگر پاپ نہیں، تو دنیا میں کوئی پاپ نہیں! سرسنگھ چالک رہتے ہوئے پوجیہ رجّو بھیا جی اور پوجیہ سدرشن جی نے بھی اسی جذبے کو آگے بڑھایا۔ موجودہ سرسنگھ چالک آدرنیہ موہن بھاگوت جی نے بھی مساوات کے لیے معاشرے کے سامنے ایک کنواں، ایک مندر اور ایک شمشان کا واضح لکشیہ رکھا ہے۔
جب 100 سال قبل آر ایس ایس وجود میں آیا تو اس وقت کی ضروریات، اس وقت کے مسائل کچھ اور تھے۔ لیکن آج، 100 سال بعد، جب بھارت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، تو آج کے چیلنجز مختلف ہیں، جدوجہد مختلف ہیں۔ دوسرے ممالک پر اقتصادی انحصار، ہماری یکجہتی کو توڑنے کی سازشیں، آبادیاتی تبدیلی کی سازشیں، ہماری حکومت ان چیلنجز سے تیزی سے نمٹ رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آر ایس ایس نے بھی ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح منصوبہ تیار کیا ہے۔
سنگھ کے پنچ پریورتن، خودشناسی، سماجی مساوات، خاندان کی تعلیم، سماجی اخلاق اور ماحولیات… یہ عہد ہر سویم سیوک کے لیے ملک کے سامنے موجود چیلنجز کو شکست دینے کی بڑی تحریک ہیں۔
انھوں نے کہا کہ خودشناسی کے جذبے کا مقصد غلامی کی سوچ سے آزاد ہو کر اپنی وراثت پر فخر اور سودیشی کے بنیادی عزم کو آگے بڑھانا ہے۔ سماجی مساوات کے ذریعے محروم کو ترجیح دے کر سماجی انصاف کا عہد پورا کرنا ہے۔ آج ہماری سماجی مساوات کو دراندازوں کی وجہ سے آبادی میں آرہی تبدیلی سے بھی ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ ملک نے بھی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آبادیاتی مشن کا اعلان کیا ہے۔ ہمیں خاندان کی تعلیم یعنی خاندان کی ثقافت اور اقدار کو مضبوط کرنا ہے۔ شہری اخلاقیات کے ذریعے ہر شہری میں شہری ہونے کے فرض کا شعور بیدار کرنا ہے۔ ان سب کے ساتھ اپنے ماحولیات کا تحفظ کرتے ہوئے آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔
ان سنکلپوں کے ساتھ،آر ایس ایس اب اگلی صدی کا سفر شروع کر رہا ہے۔ 2047 کے وکست بھارت میں آر ایس ایس کی ہر کوشش، ملک کی قوت میں اضافہ کرے گی، ملک کو تحریک دے گی۔ ایک بار پھر ہر سویم سیوک کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد۔
یواین آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
