تازہ ترین
آر پار جموں کشمیر کو اٹانومی دینے کے بغیر کوئی راستہ نہیں: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اتوار کو اپنی رہائش گاہ واقع گپکار میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دھونس و دباؤ، گرفتاریوں اور قید و بند سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا، بات چیت سے ہی ہمیشہ مسئلے حل ہوئے ہیں اور آگے بھی ہونگے اسی لئے ہمیں آگے بھی بات چیت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ این سی صدر نے اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ تقریب جس کا انعقاد سابق آئی جی پولیس شفقت وٹالی کی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنے کے سلسلے میں کیا گیا تھا، میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو ماحول بنایا جارہاہے اُس سے حالات ٹھیک نہیں بلکہ اور بگڑ جائیں گے،یاسین ملک کو گرفتار کرکے جموں پہنچایا گیا، جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرکے اُن کیخلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، کیا اس سے مسئلہ حل ہوگا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس سے لوگ چھپ بیٹھیں گے؟انہوں نے کہا کہ پہلے بھی جگموہن کے دورمیں جماعت اسلامی کیخلاف اس قسم کی کارروائیاں کی گئیں، اُس وقت بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور نہ آج کوئی نتیجہ نکلے گا۔ اُس وقت بھی ایسا دور آیا جب وزیرا عظم کو سب سے بات کرنی پڑی اور آج بھی ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی پر پابندی اور کریک ڈاؤن کو 35اے کیساتھ جوڑنے کی افواہوں کو رد کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 35اے کے دفاع میں سب سے آگے کھڑی ہے، پھر تو ہمیں بھی جیل میں ہونا چاہئے اور دیگر جماعتوں کو بھی جو آئین کی اس دفعہ کی رکھوالی کیلئے آگے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کو کشمیر میں اس طرح کی روش کو ترک کرنا چاہئے جو ماحول کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔ ہندوپاک سے دوستی کی اپیل کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ ’’ہمارے سر پر جنگ ہے،ہم امن چاہتے ہیں، ہم ہندوستان اور پاکستان کی دوستی کے متمنی ہیں، دونوں ممالک کو بات چیت کرکے کشمیرکا سیاسی حل نکالنا ہی پڑے گا اور ہمیں اٹانومی دینی پڑے گی، وہاں بھی دینی پڑے گی جو حصہ اُن کے پاس ہے، اس کے بغیر کوئی راستہ نہیں نکلے گا۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جو پارٹی برسراقتدار ہے وہ مختلف مذاہب کے لوگوں میں تفرقہ ڈال رہی ہے، جو کسی المیہ سے کم نہیں۔ ملک کی اقلتیں خصوصاً مسلمان خوفزدہ ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیر اعظم کو یہ بات صاف کر لینی چاہئے کہ یہ ملک کسی ایک جماعت یا کسی ایک مذہب کا نہیں ہے، بلکہ یہ سب کا ملک ہے اور ہم سب کو اس میں امن و امان کیساتھ بود باش کرنے کا حق ہے۔ اس موقعے پر سابق آئی جی پی شفقت وٹالی نے پارٹی صدر اور سینئر لیڈران کی موجودی میں نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔
پارٹی لیڈران نے شفقت وٹالی کا نیشنل کانفرنس میں خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں پھولوں کے ہار پہنائے۔اُدھر جموں میں ایک تقریب کے دوران ایڈوکیٹ کارتار سنگھ، ایڈوکیٹ اوپسنا ٹھاکر، ایڈوکیٹ وجران، کے ایس ٹھاکر، ریاض احمد اور رسل سنگھ سمیت متعدد کئی وکلاء، سیاسی اور سماجی شخصیات نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کیا۔ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور صوبائی صدر جموں دیوندر سنگھ رانا نے ایک تقریب پر پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کا خیر مقدم کیا اور اُنہیں پھولوں کے ہار پہنائے۔اس موقعے پر پارٹی کے سینئر لیڈران رتن لعل گپتا اور کشمیرا سنگھ بھی موجود تھے۔اس موقعے پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں میں گرینیڈ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اس دھماکے کے پیچھے وہ لوگ ملوث ہیں جو جموں و کشمیر میں انتشار اور خلفشار پھیلانے کی چاہتے ہیں ہمیں اتحاد و اتفاق کی ساتھ ساتھ آپسی بھائی چارے کو قائم رکھ کر ان عناصر کے شرپسند اور مذموم ارادوں کو ناکام بنانا ہوگا۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
